مولانا وحیدالدین خان کو بعدازمرگ پدم وبھوشن ایوارڈ

مولانا وحیدالدین خان کا مقصد مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیداکرنا‘اسلام کے متعلق غیرمسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انھیں دورکرنا تھا۔

نئی دہلی: معروف اسلامی اسکالر وحیدالدین خان مرحوم کوآج صدر جمہوریہ ہندرام ناتھ کووندنے ملک کے دوسرے اعلیٰ شہری اعزاز پدم وبھوشن سے نوازا۔ مولانا وحید الدین خان کو پدم وبھوشن اعزازکے لیے جنوری 2021میں منتخب کیا گیا تھا اور اس وقت وہ باحیات تھے لیکن اس ایوارڈکی تقریب سے قبل ہی 21  اپریل 2021کو96سال کی عمرمیں انتقال کرگئے۔

مولانا وحید الدین خان کا شمار ہمارے عہد کے ان ممتاز علما میں ہوتا ہے جنھوں نے دین کی تعبیر و تشریح کے ضمن میں اہم علمی کام کیا ہے  ۔تصنیف و تالیف کے میدان میں ان کے نمایاں کارنامے ہیں۔  مولاناوحیدالدین خان ہندوستان کی مردم خیز سرزمین اعظم گڑھ میں یکم جنوری 1925کو پیداہوئے اوروہاں کی عظیم درسگاہ مدرستہ الاصلاح سے تعلیم حاصل کی۔

 آپ کی تحریریں بلاتفریق مذہب ونسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ وہ عام طورپر دانشورطبقہ میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ان کا مقصد مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیداکرنا‘اسلام کے متعلق غیرمسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انھیں دورکرنا تھا۔

راشٹرپتی بھون کے عظیم الشان دربار ہال میں منگل کے روز منعقدہ تقریب میں مولاناوحیدالدین خان کے علاوہ جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے‘ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر جنرل بی بی لال‘ ماہر امراض قلب  ڈاکٹر بیلے موناپ ہیگڈے‘گلوکار ایس پی بالاسبرامنیم‘ نریندرسنگھ کپانی اور مجسمہ ساز سدرشن ساہو کو پدم وبھوشن سے نوازا گیا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button