مہاراشٹرا کا سیاسی بحران سپریم کورٹ پہنچ گیا

مہاراشٹرا کا سیاسی بحران سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ شیو سینا کے باغی قائد ایکناتھ شنڈے نے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے باغی ارکانِ اسمبلی کو جاری کردہ نااہلی کی نوٹسوں کو چیلنج کرتے ہوئے ایک رِٹ درخواست داخل کی ہے۔

ممبئی: مہاراشٹرا کا سیاسی بحران سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ شیو سینا کے باغی قائد ایکناتھ شنڈے نے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے باغی ارکانِ اسمبلی کو جاری کردہ نااہلی کی نوٹسوں کو چیلنج کرتے ہوئے ایک رِٹ درخواست داخل کی ہے۔

یہ نوٹسیں اس لیے جاری کی گئی ہیں تاکہ مبینہ انحراف کے سلسلہ میں دستور کے دسویں شیڈول کے تحت باغی ارکانِ اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پاردی والا پر مشتمل تعطیلاتی بنچ کل اس معاملہ کی سماعت کرے گی۔

شنڈے نے آج (26 جون کو) شام تقریباً 6:30 بجے درخواست داخل کی ہے، جس کے ذریعہ ڈپٹی اسپیکر نرہری زروال کی جانب سے تحریک ِ عدمِ اعتماد کی نوٹس کو مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ زروال کا تعلق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سے ہے۔

ڈپٹی اسپیکر نے نااہلی کی نوٹسیں جاری کی ہیں، کیوں کہ مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں اسپیکر کا عہدہ مخلوعہ ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں دلیل پیش کی گئی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے اجئے چودھری کو شیو سینا لیجسلیچر پارٹی (ایس ایس ایل پی) کا لیڈر تسلیم کیا جانا غیرقانونی ہے۔ ایکناتھ شنڈے کا دعویٰ ہے کہ انہیں شیو سینا کے دو تہائی ارکانِ اسمبلی کی تائید حاصل ہے۔

انہوں نے التجا کی ہے کہ نااہلی کی نوٹسوں پر کارروائی کو اُس وقت تک روک دیا جانا چاہیے جب تک کہ ڈپٹی اسپیکر کو ہٹانے کے مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ اس درخواست کے چند اہم نکات حسب ِ ذیل ہیں: (1) ڈپٹی اسپیکر انہیں ہٹائے جانے کے قرارداد کے زیرالتوا رہنے تک دستور کے دسویں شیڈول کے تحت کسی بھی رکن کو نااہلی کی نوٹس جاری نہیں کرسکتے۔

(2) نرہری زروال این سی پی سے استعفیٰ دیئے بغیر ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ این سی پی کی سرگرمیوں میں بھی سرگرم حصہ لے رہے ہیں۔ شیو سینا کی آئیڈیالوجی، این سی پی کی آئیڈیالوجی کے برعکس ہے۔ اسی لیے زروال سیاسی طور پر جانبدار ہیں اور ان سے کسی غیرجانبدارانہ اور منصفانہ فیصلہ کی توقع نہیں ہے۔

(3) نااہلی کی نوٹسیں قابل قبول نہیں ہیں، کیوں کہ محض پارٹی کے میٹنگ سے غیرحاضر رہنا نااہلی کی بنیاد نہیں ہوسکتا۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ وہپ صرف ایوان کے اندر کارروائی پر قابل اطلاق ہے۔

(4) شنڈے نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے اور ان کے حامیوں نے شیو سینا کی رکنیت ترک نہیں کی ہے اور ان کی سرگرمیاں دستور کے دسویں شیڈول کے دوسرے پیراگراف کے تحت ”رضاکارانہ طور پررکنیت ترک کردینا“ کی تعریف میں نہیں آتیں۔

(5) پارٹی کے بیشتر ارکان نے بہرحال سنیل پربھو کے چیف وہپ کی حیثیت سے تقرر کو کالعدم کردیا ہے اور اس کے بجائے انہوں نے بھرت گوگا والے کو چیف وہپ مقرر کیا ہے، لہٰذا سنیل کی جانب سے جاری کردہ وہپ جائز نہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button