میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی سے لوگ مایوس:امام جامع مسجد

انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 برس سے مسلسل نظر بند رہنے کے باعث ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کو بھی میر واعظ عمر فاروق تاریخی جامع مسجد سری نگر میں وعظ و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے سے قاصر رہے۔

سری نگر: انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 برس سے مسلسل نظر بند رہنے کے باعث ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کو بھی میر واعظ عمر فاروق تاریخی جامع مسجد سری نگر میں وعظ و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے سے قاصر رہے۔

انجمن کے ایک ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا:‘رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کو بھی جامع مسجد کا منبر و محراب خاموش رہا جبکہ ماضی میں مسجد میرواعظ کی قیادت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دعاؤں سے گونجتی تھی کیونکہ میرواعظ کی گزشتہ تین سال سے غیر قانونی نظر بندی جاری ہے ’۔

اس موقعہ پر جامع مسجد کے امام مولانا احمد سعید نقشبندی نے کہا کہ رمضان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ زیادہ تر میر واعظ کی قیادت میں ہونے والی روح پرور مجلس وعظ و تبلیغ کو سننے کے لئے جامع مسجد میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ میرواعظ کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میر واعظ کی مسلسل نظر بندی سے لوگ شدید مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔موصوف امام نے کہا کہ انجمن اوقاف اور عوام حکام کے اس رویے پر سختی سے احتجاج کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بارہا یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ میرواعظ نہ صرف کشمیری عوام کے ایک مقتدر اور محبوب پیشوا ہیں بلکہ ان کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کے مذہبی جذبات اور عقیدت وابستہ ہیں اور ان پر بلا جواز قدغنوں کی وجہ سے دعوت و تبلیغ اور کشمیری سماج کی ہمہ جہت اصلاح کا شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے ’۔

بیان میں کہا گیا کہ وادی میں صدیوں پرانی روایت کے مطابق رمضان کے مقدس مہینہ میں میرواعظ کشمیر وادی کی مختلف مساجد اور آستانوں میں خطبات دیتے تھے تاکہ لوگوں کو مذہبی اقدار اور عقائد سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انسانیت، ہمدردی، رواداری اور راست بازی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے اور یہی چیز معاشرہ کی اخلاقی قوت کے طور پر کام کرتی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button