میں بتاؤں گا کہ کشمیر ی پنڈتوں کی نقل مقامی کے وقت کیا ہواتھا: وجاہت حبیب اللہ

وادی سے کشمیری پنڈتوں کے نقل مکانی کو زائد از30 برس گذرچکے ہیں۔ وجاہت حبیب اللہ نے جو 1990-91 اور1993 میں کشمیر کے 8اضلاع میں ڈیویژنل کمشنر رہ چکے ہیں کہا کہ کمیشن بنا تو وہ خود بطور گواہ اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔

نئی دہلی: ملک کے پہلے چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے کشمیری پنڈتوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے ”سچائی و صلح صفائی کمیشن“ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ وادی سے کشمیری پنڈتوں کے نقل مکانی کو زائد از30 برس گذرچکے ہیں۔ وجاہت حبیب اللہ نے جو 1990-91 اور1993 میں کشمیر کے 8اضلاع میں ڈیویژنل کمشنر رہ چکے ہیں کہا کہ کمیشن بنا تو وہ خود بطور  گواہ اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔

1990 میں پنڈتوں کی بڑی تعداد وادی کشمیر سے کوچ کر گئی تھی۔ اس وقت مسجدوں سے اعلان ہوا تھا کہ ہندو مردوں کو وادی چھوڑ کر جاناہوگا۔ نہ جانے کی صورت میں انہیں اسلام قبول کرنا ہوگا ورنہ انہیں قتل کردیاجائے گا۔  حال میں ریلیز فلم ”دی کشمیر فائلس“ نے پرانے زخم ہرے کردیئے ہیں۔ آئی اے این ایس سے بات چیت میں وجاہت حبیب اللہ نے کہاکہ سچائی و صلح صفائی کمیشن  بتایا جانا چاہئے تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ کشمیری پنڈتوں نے اس وقت کیسے حالات کا سامنا کیاتھا۔

ایک دوسرے پر الزام دھرنے کے بجائے کمیشن بنایا جائے۔ کمیشن پتہ چلاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کون تھا۔ انہوں نے کہاکہ وہ خود کمیشن کے سامنے حاضر ہوں گے اور بتائیں گے کہ اس وقت کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہاکہ نظم و نسق کیوں جواب دہ نہیں۔ اس وقت اڈمنسٹریشن ناکام ہوگیاتھا۔ مسجدوں سے اعلان ہوئے تھے جس سے ڈر کر کشمیری پنڈت بھاگے تھے۔ اس وقت سرکاری عہدیدار اپنے بنگلوں میں بیٹھے تھے۔  کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ باہر آتے اور کشمیری پنڈتوں کی نقلی مکانی روکتے۔ اگرعہدیدار خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھے تو یا تو انہیں اپنا فرض نبھانا تھا یا نوکری چھوڑ دینی چاہیئے تھی۔

کشمیر فائلس پر وجاہت حبیب اللہ نے کہاکہ انہوں نے تو یہ فلم دیکھی ہے اور نہ دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری میں جو ہوا وہ شرمناک تھا۔ 1984 میں دہلی میں سکھوں کے ساتھ جو ہوا وہ شرمناک تھا۔گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ اور اوڈیشہ میں عیسائیوں کے ساتھ جو ہو اور شرمناک تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ فلم دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ یہ فلم انہیں اُداس کردے گی۔

وجاہت حبیب اللہ نے کہاکہ کشمیر ی پنڈت جس وقت جارہے تھے میں اس وقت کشمیر میں تعینات تھا۔ اس وقت جموں و کشمیر کا گورنر جگموہن تھا اور مجھے اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید نے لکشادیپ سے کشمیر طلب کیاتھا۔کشمیر فائلس کی ریلیز کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری پنڈتوں نے کہا کہ وہ جموں کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے لیے علحدہ شہر کا مطالبہ کریں گے۔ اس پر وجاہت حبیب اللہ نے کہاکہ ایسا ہے تو پھر دہلی میں بھی سکھوں کے  لیے علحدہ شہر ہوناچاہئے۔ گجرات میں مسلمانوں کے لیے علحدہ شہر ہوناچاہئے۔

 انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ مطالبہ کشمیر میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں نے کیا ہے؟ وادی میں مقیم ایک بھی کشمیری پنڈت نے یہ مطالبہ نہیں کیا۔ وجاہت حبیب اللہ نے وادی میں مقیم اور وادی میں رہائش اختیار کرنے کاارادہ رکھنے والے کشمیری پنڈتوں کے لیے بھی نوکریوں کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ ندی مارگ اور وندھامہ کے ضلع مجسٹریٹس کو یہ جانکاری ہونے کے باوجود کہ دہشت گرد‘ پنڈتوں کو ہلاک کررہے ہیں حکومت نے انہیں نہیں روکا۔ ضلع مجسٹریٹس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انسپکٹر جنرل کو ترقی دی گئی۔ وجاہت حبیب اللہ نے ہندوؤں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری نہ کرنے والے ضلع مجسٹریٹس اور انسپکٹر جنرل کے خلاف کاروائی کامطالبہ کیا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button