میں دولت پر نہیں عوام میں یقین رکھتا ہوں: بومئی

شیواموگہ ضلع کے شکاری پور ٹاؤن میں تالابوں کو پُر کرنے کے آبپاشی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ دولت اہم ہے مگر میرا ماننا ہے کہ کام اہم ہے۔ لہٰذا بجٹ میں عوام کی آمدنی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ سابق چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے نافذ کردہ ریاستی مالیاتی ڈسپلن اور اسکیمات جاری ہیں۔ عالمی وباء سے مقابلہ کرتے ہوئے یدی یورپا نے کرناٹک کو تمام شعبوں میں محفوظ رکھنے کا کام کیا تھا۔

شکاری پور/بنگلورو: چیف منسٹر بسواراج بومئی نے کہا کہ وہ دولت سے زیادہ عوام میں یقین رکھتے ہیں۔ بومئی نے کہا کہ میں دولت سے زیادہ عوام میں یقین رکھتا ہوں۔ لہٰذا میں نے بجٹ میں نوجوانوں، خواتین اور کسانوں کو اہمیت دی تا کہ ان کی بھی آمدنی بھی بہتر ہو اور وہ ریاست کی خوشحالی میں تعاون کرسکیں۔

شیواموگہ ضلع کے شکاری پور ٹاؤن میں تالابوں کو پُر کرنے کے آبپاشی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ دولت اہم ہے مگر میرا ماننا ہے کہ کام اہم ہے۔ لہٰذا بجٹ میں عوام کی آمدنی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ سابق چیف منسٹر بی ایس یدی یورپا کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے نافذ کردہ ریاستی مالیاتی ڈسپلن اور اسکیمات جاری ہیں۔ عالمی وباء سے مقابلہ کرتے ہوئے یدی یورپا نے کرناٹک کو تمام شعبوں میں محفوظ رکھنے کا کام کیا تھا۔

میں ان کے نقش قدم پر چل رہا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کرناٹک کو ہندوستان کی ماڈل ریاست بنانے اور ریاست میں سماجی اور علاقائی مساوات لانے کے خواہاں ہیں۔چیف منسٹر بسوراج بومئی نے کہا کہ تنگ نظر سیاست سے مقابلہ کے لیے بین ریاستی آبی تنازعات قانون میں مکمل ترمیم کی ضرورت ہے۔

جل جیون مشن اور سوچھ بھارت مشن (دیہی) منصوبوں کے جنوبی ریاستوں کے کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ آبی تنازعات پر تنگ نظر سیاست سے نمٹنے اور عوام کو مزید پانی کی دستیابی کے لیے قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے۔“ بومئی نے کہا کہ عوام کو پانی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسائل سے نمٹتے وقت ہمیں اتفاق رائے سے کام کرنا چاہیے۔

ہمارے وزیراعظم کا نظریہ ہے کہ سربراہی آب کے ذریعہ پائیدار گزربسر کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور ہمیں اسے حقیقت بنانے کے لیے متحدہ طور پر کام کرنا چاہیے۔“ کل بومئی نے کہا کہ حکومت‘ کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ سے میکے داتو پر تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی منظوری کی توقع رکھتی ہے۔ آبپاشی منصوبے جس مرحلے پر ہیں کانگریس اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ وہ صرف سیاست کرنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میکے داتو پراجکٹ اب کس مرحلے میں ہے۔

 ہم جانتے ہیں، اپنے آخری اجلاس میں کاویری واٹر بورڈ میکے داتو پراجکٹ پر تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کو منظوری دینے والا ہے۔“ جیسے ہی بورڈ ڈی پی آر کو ہری جھنڈی دیتا ہے حکومت ماحولیاتی منظوری کے لیے نکات تیار کرے گی۔ ہمیں منظوری ملتے ہی ہم نکات کے لیے درخواست دیں گے۔ چوں کہ ہم رواں سال میکے داتو پراجکٹ کے آغاز کی قوت ارادی رکھتے ہیں، ہم نے اس کے لیے 1000کروڑ روپئے مختص کیے اور اس پراجکٹ کے آغاز کے لیے پابند عہد ہیں۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک/یو این آئی/آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button