ناراض ارکان پارلیمنٹ کیلئے استعفیٰ ہی واحد باعزت راستہ ہے: پاکستان سپریم کورٹ

جسٹس اختر کا جواب حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کے اس دلائل کے تناظر میں تھا کہ پارٹی سے بے وفائی ملک سے بے وفائی سے مختلف ہے۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس منیب اختر نے جمعہ کو کہا کہ ناراض اراکین پارلیمنٹ کے لیے واحد باعزت راستہ استعفیٰ دینا اور گھر جانا ہے۔ جسٹس اختر ملک کے آئین کے آرٹیکل 63-اے کی تشریح کی درخواست کرنے والے صدر کے ریفرنس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کا حصہ ہیں۔ اخبار ‘ڈان’ نے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔

جسٹس اختر کا جواب حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کے اس دلائل کے تناظر میں تھا کہ پارٹی سے بے وفائی ملک سے بے وفائی سے مختلف ہے۔ اس س پہلے جسٹس اختر نے پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی بدلنے کا موازنہ کینسر سے ہوئی انسانی جسم کو ہوئے نقصان سے کی تھی۔

یہ پانچ رکنی بنچ صدارتی ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے جس کے تحت اہم ایشوز پر پارٹی رہنما کی ہدایات کے خلاف ووٹ دینے والے اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دیا جائے گا۔ بنچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کر رہے ہیں اور اس بنچ میں جسٹس اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button