نافرمان اولاد، والدین کے لیے ناسور

بچپن میں والدین اپنی اولاد کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، چاہے اس کے لیے کیسی ہی تکلیف اٹھانی پڑےلیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اولاد جب جوان اور صاحب حیثیت ہوجاتی ہے تو وہ یکسر بوڑھے والدین کی ضرورتوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

مبشراحمد

کسی بھی رشتہ میں محبت کے ساتھ عزت لازم وملزوم ہوتی ہےاور والدین کے معاملہ میں یہ اور بھی ضروری ہوجاتاہے کہ ان سے محبت کی جائے اور انھیں عزت دی جائے، لیکن موجودہ دور میں نئی نسل اپنے والدین کی عزت و محبت سے بالکل عاری نظر آرہی ہیں , والدین کی عزت کو بالکل ہی فراموش کردیا ہے۔ آج اولاد کا یہ حال ہے کہ ان کے پاس اپنے والدین کے پاس بیٹھنے، ان کا حال احوال جاننے تک کا وقت نہیں ہے۔

بچپن میں والدین اپنی اولاد کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، چاہے اس کے لیے کیسی ہی تکلیف اٹھانی پڑےلیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اولاد جب جوان اور صاحب حیثیت ہوجاتی ہے تو وہ یکسر بوڑھے والدین کی ضرورتوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

اپنی عمر بھر کی خوشیوں اور خواہشات کو بچوں کی خوشیوں اور خواہشات کی تکمیل کے لئے قربان کر کے جینے والا”باپ“جب بڑھاپے میں اپنے بچوں کی شفقت اور حُسنِ سلوک کا طلبگار ہوتا ہے تو اسے جواب میں بے رُخی،طعنے اور پھراولڈ ہاؤس کا تحفہ ملتا ہے۔ جن کے والدین حیات ہیں، ان سے میری یہ فریاد ہےکہ وہ خُوش دِلی کے ساتھ اپنے والدین کی خِدمت کریں اور ان کا ادب و احترام کر کے جنّت کے حقدار بنیں۔ اسی تناظر میں ایک سبق آموز کہانی ملاحظہ کریں۔

’’کمال کرتے ہیں آپ ابّاجی۔ کتنی دفعہ آپ کو منع کیا ہے کہ سڑوکے مار مار کرچائے مت پیا کریں۔ رابعہ! رابعہ کہاں ہو غصے سے میں نے بیوی کو آواز دی وہ بے چاری گھبرا کر دوڑی چلی آئی۔ شام کو کمال آئے گا اچھی سی چائے کا انتظام کر لینا اور ہاں ابّاجی کو ان کے کمرے میں چائے دینا، ڈبو ڈبو کر بسکٹ کھانے سے باز نہیں آتے۔

’’حد کرتے ہیں آپ بھی ابّاجی سن رہے ہوں گے‘‘۔ رابعہ نے ناگواری سے کہا۔ وہ ابّاجی سے بہت محبت کرتی تھی۔ شرمندگی سے مڑتا اُن کا مضطرب وجود میں نے دیکھا ہی نہیں۔ کمال سے میری دوستی زیادہ پرانی نہیں تھی کچھ عرصہ پہلے ہی اس کا تبادلہ میرے دفتر میں ہوا تھا۔ اللہ کے اپنے کام ہیں اور اپنے ہی بندوبست۔۔۔! شام کو کمال آیا ساتھ میں اس کے والد صاحب بھی تھے۔اُس نےکہا کہ’’ میں شام زیادہ تر اپنے ابّاجی کے ساتھ ہی گزارتا ہوں۔ آج گھر میں بھی کوئی نہیں تھا تو سوچا انہیں ساتھ لے چلوں‘‘۔

’’ کیوں نہیں ، بہت خوشی ہوئی اچھا کیا اباکو لے آئے۔‘‘ میں نے کہا۔’’ کیا حال ہےبرخودار‘‘میرے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کمال کے ابا نے پوچھا۔

’’شُکر ہے اللہ کا کہتے ہوئے میں ان کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھک میں چلا آیا۔ سفید داڑھی نورانی چہرے والے شفیق بزرگ۔ صوفے پر بیٹھ کر ابّاجی نے بڑے آرام سے ٹانگیں اوپر کیں اور آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ اپنی ناگواری چھپاتے ہوئے میں نے دیکھا، کمال نے جھٹ آگے بڑھ کر ان کی ٹانگیں اوپر کرنے میں ان کی مدد کی۔

اوہ کتنا شرمندہ کرواتے ہیں یہ بزرگ بھی، میں کمال کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا، مگر وہ ہرگز شرمندہ نہیں تھا، اس کے چہرے پر بڑی نرم مسکراہٹ تھی۔ ابّاجی کی کمر کے پیچھے کُشن رکھتے ہوئے اُس نے پوچھا آپ ٹھیک بیٹھے ہیں نا ابّاجی؟ “” ہاں بیٹا۔‘‘ چائے لگنے تک آدھے گھنٹے میں اس نے دو تین مرتبہ پوچھا ابّاجی آپ ٹھیک ہیں بور تو نہیں ہو رہے۔ “ اوہو تم اپنی باتیں کرو میں خوش ہو رہا ہوں۔‘‘

کمال ہنس دیا۔ ایک بیٹے کی باپ کے لیےیہ خُوبصورت نرم ہنسی جنّت کی نوید تھی یقیناً۔’’ہمارے ابّاجی نے ہمیں پڑھانے کے لیئے بہت محنت کی ہے کتابوں پر جلد چڑھاتے تھے۔ آمدنی ہی کتنی ہوتی ہے، ہم دو وقت کھاتے اور ابّا امّاں کو اکثر ایک وقت اور کبھی تو ایک وقت کا بھی مُیسّر نہیں ہوتا تھا‘‘۔ والد کا ہاتھ پکڑ کو بوسہ دیتے ہوئے کمال نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں عقیدت کے آنسو تھے وہ اپنے حسب نسب پر ہرگز شرمندہ نہیں تھا۔

چائے لگ گئی۔ رابعہ بلانے آئی تو کمال کے والد نے ’’! رانی بٹیا! ماشاءاللہ ،ماشاءاللہ” کہتے ہوئے اس کے سر پرہاتھ رکھا۔ وہ محبت سے انہیں کھانے کی میز پر لے گئی۔ پرچ میں چائے ڈال کر سڑوکے مار مار کر پیتے ابّاجی کا کئی دفعہ کمال نے نیپکن سے منہ صاف کیا۔ اس کے ہاتھوں میں اس قدر نرمی اور محبت تھی کہ قلم ہوتے تو محبت کی لازوال داستان لکھتے، دِل ہوتے تو نثار جاتے، آنکھیں ہوتیں تو واری ہی چلے جاتے۔۔۔! رابعہ، کمال کی اس قدر محبت اور شفقت پر حیران تھی اس نے دُکھی نظروں سے میری طرف دیکھا۔

اُس کی نظروں نے مجھے آسمان سے زمین پر لا پٹخا۔ میں جن کے وجود کا حصہ تھا جن کی دُعاؤں اور محنتوں کا ثمر تھا، ان ہی کی معصوم سادہ اداؤں سے نالاں تھا، شرمندہ تھا۔ میں منظور موچی کا بیٹا اپنے باپ کے حسب نسب پر شرمندہ تھا۔ بیٹے کو بڑا افسر بنانے کے خواب نے جس کے ہاتھوں میں چھید کر دیئے تھے۔ رات رات بھر جاگ کر کام کرتے ہاتھ تھکتے نہیں تھے کہ بیٹے کی فیس جو جمع کروانی ہوتی تھی۔

دل سینے کی بجائے انگلیوں کی پوروں میں بسا رکھا تھا ابّاجی نے۔ کام ایسا کہ سارا شہر ابّاجی کی ہنر مندی کی تعریف کیا کرتا تھا۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں میرے رویئے سے انگلیوں کی پوروں میں بسے اس دل پر کیسے گھاؤ لگے ہوں گے۔ انا کے پنجرے میں قید سوچ کا پرندہ پنجرہ کھلتے ہی مثبت سمت میں پرواز کرنے لگا۔

میں کمال سے معذرت کر کے ابّاجی کو بلانے چلا آیا۔ انہیں لا کر پیار سے کرسی پر بٹھایا، چائے کی پیالی سامنے رکھی اور بسکٹ چائے میں ڈبو کر اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا۔ ابّاجی نے حیرانی سے میری طرف دیکھا، کچھ کہا نہیں، ان کی آنکھوں کی نمی اپنی کم مائیگی کی دہائی دے رہی تھی۔میں نے پیار سے ان کی داڑھی میں لگی چائے صاف کی اور کمال کی موجودگی کی پروا کیے بغیر ان کے قدموں میں بیٹھ کر ہاتھ جوڑ دیئے۔

میرے آنسو رکتے نہ تھے، مجھے قرار نہ تھا۔’’ ابّاجی میرے، پیارے ابّاجی، معاف کر دیں، اپنے نالائق بیٹے کو معاف کر دیں، ان کی ہتھیلیوں کو دیوانہ وار چومتے میں معافی مانگ رہا تھا۔ منظور موچی کا اعلی عہدے پر فائز نااہل بیٹا۔ ابّاجی نے میرا ماتھا چُومااور کہا، چل ادھر اوپر بیٹھ میرا افسر بیٹا۔۔۔! میں نے کہا: اللہ کے اپنے کام ہیں اور اپنے ہی بندوبست۔ میری کوئی ادا اسے پسند آ گئی تھی شاید تب ہی میری ہدایت کا بندوبست کر دیا تھا، مگر میں کم ظرف اس قابل کہاں۔

قمیض کے کونے سے ابّاجی کو آنسو صاف کرتے دیکھ کر میں نے سوچا۔ میں ناقدرا تھا،ابّاجی کی انگلیوں کی پوروں میں بسے دل کی قد رنہ کی۔اس کہانی کو تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب گھر میں ایک پیار کرنے والا ہاتھ اور ایک حوصلہ دینے والا ساتھ ہوتا ہے جو گرنے نہیں دیتا اور اگر گر جائیں تو اٹھنے میں مدد دیتا ہے ۔ بے شک یہ زندگی ان ہی کے دم سے ہے۔ان کا سایہ، رحمت ہے۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہوتا ہے۔دنیا کی ہر چیز میسر آسکتی ہے، مگر والدین کی شفقت و محبت کسی قیمت پر نہیں مل سکتی۔

یہ بات واضح ہے کہ اولاد کے لئے سب سے مقدم حق والدین کا ہے ۔اولاد کو ان کا مطیع ، خدمت گزار اور فرمانبردار ہونا چاہیے اور ان کے ادب و احترام اور ان کے حقوق کی نگہداشت میں ذرا بھی غفلت نہیں برتنی چاہیے، اسی میں ہمارے لئے دین و دنیا کی بھلائی پوشیدہ ہے۔

نوجوانو! والدین کا خیال کرو۔ انہیں بڑھاپے میں آپ کی زیادہ ضرورت ہے۔ جنت کے دروازے اپنے رویےّ سے بند نہ کریں…

٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button