نسخہ تسخیر زوجہ!

ایم اے حفیظ کوڑنگلی

ہمارے ایک دوست جب بھی ملنے گھر آتے ’السلام قبل الکلام‘ کی طرح بیٹھتے ہی اپنی اہلیہ کی ظلم و ستم کی داستان اتنے رقت انگیز انداز میں بیان کرتے کہ دوست و احباب سن کر اشکبار اور غمزدہ ہوجاتے۔ یار! اس کی 4 ہاتھ‘ لمبی زبان جو مرے نازک قلب کو آرے کی طرح کاٹتی ہے۔ جب بولنے پر آتی ہے تو اچھے اچھوں کی بولتی بند کردیتی ہے۔ زبان سے انگارے اور آنکھوں سے شرارے نکلتے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے میں رات مشاعرہ سے گھر لوٹا اور ایک شعر گنگنا رہا تھا ”نسیم سحر گلشن میں کلی سے کھیلتی ہوگی۔“ چلا کر پوچھنے لگی۔ ”یہ نسیم کون ہے؟ یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے“؟ فولادی دل بارودی دماغ ہے یار اُس کا۔! میں صبح کا ناشتہ تو روزانہ ہوٹل میں کرکے آفس جاتا ہوں؟ محرمہ جب تک بستر پر خواب خرگوش میں مگن رہتی ہیں‘ دیر سے گھر آیا تو دیوار چین کی طرح دروازہ میں ٹھہر کر راستہ روک دیتی ہے۔ یار دعا کر۔ مجھے اس عذاب سے نجات مل جائے ۔
اس دوران اخبار میں ایک اعلان نے شہر میں کھلبلی مچادی۔ شائد ان کی دعا قبول ہوگئی۔
”مساوات مرد و زن کا علمبردار۔ مظلومین و محرومین کا طرفدار۔ ظالم بیویو! خبردار! بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم و عامل ڈنگووشاہ بابا کا کھلا چیلنج۔ دنیا میں کسی شوہر کو بیوی کا غلام بننے نہیں دوں گا۔ چاہے اس کے لیے مجھے اپنی جان کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ کئی سالوں کی تنہا ریاضت عبادت و مشقت سے حاصل کردہ نادر روحانی نسخہ۔ آزمائش شرط ہے۔ کام نہ ہونے کی صورت میں پوری فیس مع سواری خرچ فوراً واپس کردی جائے گی۔ خلیجی اور مشرقی وسطیٰ کے کئی ممالک کے کامیاب دورے کے بعد پہلی بار پبلک کے (مظلومین) کے اصرار پر آپ کے شہر میں جلوہ افروز ہوئے ہیں۔ یاد رکھو! گیدڑ کی 100 سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہترہے۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبرنہ ہوئی۔”پتہ…. فون نمبر….“
تمام متاثرین جوق درجوق پہنچنے لگے۔ ہجوم کو منتشر کرنے پولیس کی مدد لینی پڑی۔ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ منتظرین میں شامل تھے۔ خاتون تنظیموں کی طرف سے راستہ روکو اور احتجاجی جلوس‘ ریالیاں نکالی گئیں۔ کچھ دن بعد ہمارے اسی دوست سے ملاقات ہوئی، بہت خوش باش و شادماں نظر آرہے تھے۔ ہم نے وجہ پوچھی۔“ یار وہی شاہ بابا کا نسخہ جس کی پورے شہر میں دھوم مچی ہوئی ہے۔ غضب کااثر انگیز! میں اس سے پہلے مرنے کی تمنا کرتا تھا، لیکن اب جینے کی دعا کررہا ہوں۔ بقیہ زندگی یوں ہی کٹ جائے بس ہے۔“ ہم نے حیرت سے پوچھا۔”کیا واقعتاً بھابھی میں تبدیلی آئی ہے؟….”تبدیلی؟ ارے یار گھر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ کل ہی کی بات ہے وہ علی الصبح بڑی شوخی و شائستگی سے میری ایڑیاں گدگدانے لگیں۔ میری آنکھ کھل گئی، میں بھونچکا رہ گیا۔ میں بار بارآنکھیں مل مل کر دیکھتا رہا‘ یہ خواب تو نہیں۔ وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔ میرے سرتاج! میں آپ کی لاڈلی چہیتی اکلوتی بیوی ہی نہیں خادمہ ہوں۔ آپ جلد ی بستر سے اٹھیے۔ میں ٹوتھ پیسٹ پانی لائی ہوں۔ تیار ہوجائےے ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے۔ افسردگی کے عالم میں کہنے لگی۔ مجھے معاف کردیجئے میں نے آپ کو بہت تکلیف دی ہے“۔ میں دل ہی دل میں سمجھ چکا تھا کہ بابا کے نسخہ کا کمال ہے۔ ہم نے بڑے ٹھاٹھ باٹ سے ناشتہ کیا۔ ہم نے جان بوجھ کر پوچھا۔ ”میری جان! میں خوشی سے مرنہ جاو¿ں یہ سب کیا ہے؟” مرے آپ کے دشمن۔ ویسے آپ تو جنتی ہیں۔“ ہم نے کہا وہ کیسے؟
”کل رات پڑوس میں خواتین کا اجتماع تھا۔ واعظہ کہہ رہی تھیں جو عورتیں اپنے شوہروں پر ظلم و زیادتی، ذہنی اذیت اور جسمانی تکلیف پہنچاتی ہیں، اس کی وجہ سے ان کے شوہر بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔“
”میں کہہ رہی ہوں اگر آپ کو جنت میں جانا ہے تو اپنے نیک اعمال کی وجہ سے جاﺅ ، میرے رویہ کی وجہ سے کیوں؟“ ہم نے ٹوکا۔” وہ تو آپ کو جنت سے باز رکھنے کی کوشش کررہی ہیں۔
یار یہ سب اتنے سالوں سے کیوں نہیں اب ہی کیوں، یہ خاطر و مدارت قدرو منزلت جنت سے کیا کم ہیں؟ اتنے میں وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یار میرا ان کے ساتھouting پروگرام ہے وہ انتظار کررہی ہوگی۔ وہ اٹھلاتے گنگناتے چلتے بنے۔ ہم مطمئن تھے چلو اس بہانے ہمارا دوست تو خوش ہے۔ کچھ دن گزرے وہی دوست اچانک ہمارے مکان آئے۔ بد حواس اور بدحالی کا مجسمہ بنے ہوئے چہرہ پر ہوائیاں اڑرہی ہیں۔ کپڑے بے ترتیب ،بال بکھرے ہوئے، ہم سے گلے مل کر بلک بلک کر رونے لگے۔ ہم نے وجہ پوچھی۔ کہنے لگے۔ یار دو دن سے میری بیوی بیمار تھی۔ پڑوسن نے انہیں بتایا کہ ان کی بیماری کی اصل وجہ وہ شاہ بابا کا نسخہ ہے‘ جسے آپ کے شوہر لائے ہیں۔ بابا بیویوں کو شوہروں سے علٰحدہ کرنے اور دوسرے رشتہ جمانے میں ماہر ہے۔ بس اب کیا تھا۔ آگ بگولہ ہوگئی۔ کچن کا کوئی سامان قابل استعمال نہیں رہا، نہ میرے جسم کا کوئی عضو۔ وہ مجھے وارننگ دے کر میکہ چلی گئی ہے کہ وہ جہیز کیس میں مجھے جیل بھیج دے گی۔ ہم نے پوچھا کیا تم نے بابا سے اس کا ذکر کیا؟ میں نے فون پر بات کی تو وہ قہقہہ لگاکر ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔” الحمد للہ۔ تم رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاﺅ گے۔“ میں نے اپنے ایک دوست کو ان کے مکان بھجوایا ہے‘ وہ مل کر آتے ہی ہوں گے۔ اتنے میں ان کا فون بجنے لگا۔ دوست کہہ رہے تھے۔ مکان مقفل ہے‘ پڑوسی کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک انتہائی خطرناک شاطر مجرم ہے۔ وہ نام بدل بدل کر مختلف عنوانات سے معصوم لوگوں کو بڑی مہارت سے لوٹتا ہے۔ پولیس گرفتار کرنے سے پہلے ہی وہ فرار ہوگیا ہے۔ پولیس ان سے جو لوگ ملاقات کیے تھے‘ ان کو بھی تلاش کررہی ہے۔ یہ سنتے ہی ہمارے دوست شدید صدمہ سے دوچار ہوگئے اور کہنے لگے۔ یار! اس مردود خبیث ناہنجار نے میری زندگی برباد کردی۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button