نصاب سے تاریخ کے باب حذف کرنے پر راہول کی تنقید

سی بی ایس ای کی جانب سے دسویں اور بارہویں جماعتوں کے تعلیمی نصاب میں تاریخ اور سیاسی سائنس کی کتابوں سے باب حذف کرنے کے دو دن بعد سنٹرل بورڈ آف ایجوکیشن کو تعلیم کو دبانے کا مرکزی بورڈ قرار دیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق سربراہ راہول گاندھی نے پیر کے دن سی بی ایس ای کی جانب سے دسویں اور بارہویں جماعتوں کے تعلیمی نصاب میں تاریخ اور سیاسی سائنس کی کتابوں سے باب حذف کرنے کے دو دن بعد سنٹرل بورڈ آف ایجوکیشن کو تعلیم کو دبانے کا مرکزی بورڈ قرار دیا ہے۔

انہوں نے نصاب میں تبدیلی پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو بھی نشانہ بنایا اور اسے ’راشٹریہ سکھشا شیرڈر‘ قرار دیا۔ راہول گاندھی نے آج ٹوئٹر پر آر ایس ایس کو راشٹریہ شکھشا شیرڈر قرار دیتے ہوئے ایک تصویر پیش کی، جس میں جمہوریت اور تنوع جیسے موضوعات، زراعت پر عالمیانے کے اثرات، مغل کورٹ، صنعتی انقلاب، فیض کی نظموں کو ریزہ ریزہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

تصویر میں روزگار، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ادارہ جاتی آزادی کو بھی ریزہ ریزہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کا ریمارک ایک ایسے وقت سامنے آیا جب سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے تاریخ اور سیاسی سائنس کے نصاب سے افریقہ اور ایشیائی علاقوں میں اسلامی سلطنتوں کے ابھرنے، مغل عدالتوں کی تفصیلات، سرد جنگ اور صنعتی انقلاب کے بارے میں باب حذف کردیے۔

واضح رہے کہ کانگریسی لیڈر نے 16 اپریل کو ٹوئٹر پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سیوم سیوم سنگھ (آر ایس ایس) پر ملک میں نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا تھا۔ راہول گاندھی نے ٹوئٹر پر تحریر کیا تھا کہ ہر ہندوستانی بی جے پی۔ آر ایس ایس کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت کی قیمت چکا رہا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی کا تحریر کردہ ایک آرٹیکل بھی پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت پر اقلیتوں کے خلاف نفرت کا پروپگنڈہ کرنے، کھلے عام جارحیت بھڑکانے اور جرائم کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے 9 اپریل کو دہلی میں ایک کتاب کی رسم ِ اجراء تقریب میں آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں دستور کو بچانے کے لیے اداروں کا تحفظ کرنا پڑے گا، جو آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button