نفرت کا ماحول اور مسلمان: اب کیا کیا جائے؟

پروفیسر اخترالواسع
2021ء جاتے جاتے ہمیںکورونا کے اومیکرون ویریئنٹ دے کر گیاجس سے ایک دفعہ پھر خوف و دہشت کا وہ ماحول پیدا ہوا جس نے سرکاروں کو حفظ ما تقدم کے طور پر ویک اینڈ کرفیو، رات کا کرفیو، بازاروں میں طاق اور جفت کے اصول کو لاگو کیا تو دوسری طرف کھانے کے ہوٹل اور ریسٹورینٹ میں بھی صرف ٹیک اوے (Take Away) کی اجازت دی، اسکول کھلتے کھلتے ایک بار پھر بند کر دیے گئے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے میں سرکار اور اس کی مشینری جس قدر مستعد نظر آئی اسی قدر مرکزی سرکار اوپر سے نیچے تک اس وائرس کے بارے میں چپ سادھے رہی جو کورونا کے تمام ویریئنٹس سے زیادہ خطرناک ہے۔ جس میں انٹرنیٹ کے ذریعے مسلمان عورتوں خاص طور پر ان عورتوں کو لے کر جو کہ تعلیم یافتہ ہیں، روشن خیال ہیں، حقوق انسانی کی پاسدار ہیں، کی کھلے عام تصویریں ڈال کر نیلامی کی مہم چلائی گئی۔ اسی طرح ’’کلب ہاؤس چیٹ‘‘ پر مسلم خواتین کی عصمت و عفت کی جس طرح دھجیاں بکھیری گئیںوہ ہندوستان جیسے ملک اور معاشرے کے ماتھے پر ایک کلنک کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ شکائتیں درج ہونے پر پولیس نے دونوں معالات میں کچھ گرفتاریاں کی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔ جو کچھ مسلم خواتین کے بارے میں شرمناک طرزعمل کے بارے میں اوپر کہا گیا ہے وہ اس لئے اور بھی تکلیف دہ ہے کہ ہندوستان وہ ملک ہے جہاں کی غالب ترین اکثریت عورتوں کو دیوی مانتی ہے، ان کی پوجا کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دُرگا اوراس کے مختلف روپوں میں پوجا کرنے والی قوم میں وہ کون سے ایسے عناصر ہیں جنہوں نے کہ حوّا کی بیٹیوں، یشودا اور رادھا کی ہم جنس کے ساتھ یہ کھلواڑ کر رہے تھے۔
معاملہ صرف اتنا ہی نہیں، کمیونل وائرس کی جو شکل ہری دوار اور رائے پور کی دھرم سنسدوں میں دیکھنے کو ملی، جس طرح کے عہدو پیمان دہلی کے گووندپوری، یوپی کے سون بھدر اور چھتیس گڑھ کے ایک گاؤں میں دیکھنے کو ملے وہ اگر ایک طرف دل دہلا دینے والے تھے تو دوسری طرف انتہائی شرمناک۔ جس میں مسلمانوں کی نسل کشی، معاشی اور سماجی بائیکاٹ کی نہ صرف باتیںکی گئیں اور میانمار کے طرز پر ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا اعلان کیا گیا جو وہاں پر روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا تھا اور بات مسلمانوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس ہرزہ سرائی میں مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ تک کو نفرت و حقارت کے لپیٹے میں لے لیا گیا۔ یہ جو سب کچھ ہوا، ایسا نہیں کہ اس کی خبر مقامی حکومتوں کو نہ ہو لیکن جب تک سپریم کورٹ میں کیس نہیں آیا، اتراکھنڈ کی حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی بلکہ الٹے وہاں کے وزیر اعلیٰ پشکر دھامی ہری دوار کی دھرم سنسد میں نفرت بھری تقریر کرنے والے ایک سادھو کے پیر چھوتے نظر آئے۔ اتراکھنڈ پولیس نے جن دو لوگوںکو گرفتار کیا ان میں سے ایک ڈاسنا کے یتی نرسنگھا راؤ نے تو سپریم کورٹ، ہندوستانی دستور اور پولیس کے خلاف ہی زہر افشانی کر ڈالی اور اسی بِنا پر اٹارنی جنرل آف انڈیا نے ان پر توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی۔ چھتیس گڑھ کی حکومت نے کالی چرن مہاراج نامی ایک سادھو کو گرفتار بھی کیا تو اس کو مہاتما گاندھی کی توہین کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ شاید اس لئے بھی کہ بگھیل سرکار کو مسلمانوں اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف جو کچھ کہا گیا وہ برا نہیں لگا۔ اتراکھنڈ میں اگر بی جے پی کی سرکار ہے تو چھتیس گڑھ میں خیر سے کانگریس کی، لیکن دونوں کے رویے میں مسلمانوں کے سلسلے میں کوئی واضح فرق دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔
وہ تو کہیے بھلا ہو اس ملک کے سابق آرمی چیف جنرل شرما، ان جیسی سوچ رکھنے والے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کا، وکیلوں، ریٹائرڈ سرکاری افسروں، سول سوسائٹی سے جڑے ہوئے لوگوں اور آئی آئی ایم کے اساتذہ اور طلبہ کا جنہوں نے ان تمام پریشان کُن بیانات اور عملی اقدامات پر سرکاروں اور عدلیہ کی توجہ مبذول کرائی۔ اس بیچ ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے کہ مسلمانوں نے انتہائی کوششوں کے باوجود کسی کے بھی اپنے خلاف اقوال اور افعال پر مشتعل ہوکر نہیں دیا اور اس طرح انہوں نے اپنے خلاف زہر اگلنے والوں کو ایک ایسی شکست دی جس کو نہ تو مسلمانوں کے دوستوں اور نہ ہی دشمنوں نے سوچا تھا۔ مسلم قیادت نے نفرت انگیز عدم برادشت کے اس ماحول میں جس صبروتحمل سے کام لیا اس کے لئے ہم انہیں سلام کرتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ ہندوستان کا مسلمان اور ان کی قیادت اس ملک سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور اس ملک کے دستور اس کا پورا اعتماد ہے۔ وہ اسی وجہ سے ہماری عدلیہ پر بھی پورا بھروسہ رکھتی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہمارا دستور سارے شہریوں کو جہاں یکساں اور مساوی حقوق عطا کرتا ہے، وہیں ہماری عدلیہ نے بھی انصاف کرنے میں کبھی گریز نہیں کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عدلیہ کے بعض فیصلوں سے کچھ لوگوں کو اتفاق نہ ہو لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انصاف ہمیشہ اسی فیصلے کو نہیں کہتے جو ہمارے حق میں کیا جائے۔ عدالتیں اپنے سامنے پیش کردہ حقائق اور دلائل کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم پوری تیاریوں کے ساتھ عدالتوں کا دروازہ کھٹ کھٹائیں تو انشاء اللہ کامیابی آپ کے ہاتھ آئے گی، اور اس کی بہترین مثالیں حضرت مولانا ارشد مدنی، حضرت مولانا محمود مدنی، نامور صحافی قربان علی وغیرہ کے ذریعے جس طرح دہلی کے فسادات میں بے گناہوں کی قانونی لڑائی میں کامیابیاں مل رہی ہیں یا کپل سبّل، پرشانت بھوشن اور اندرا جے سنگھ جس طرح نفرت کے تاجروں کے خلاف عدالتوں میں آپ کا مؤقف پیش کر رہے ہیں وہ غیرمعمولی حد تک قابل ستائش بھی ہے اور قابل اطمینان بھی۔
مسلم رہنماؤں کے صبروتحمل کی تعریف اپنی جگہ ہے لیکن ان سے اس سے زیادہ کی توقع کی جاتی تھی۔ جمعیۃ علماء ہند کے دونوں دھڑے ہوں، جماعت اسلامی ہند ہو، کل ہند جمعیت اہلحدیث ہو،کل ہند مجلس تعمیر ملت ہو اور اسی طرح دیگر مسلم جماعتیں اور مسلم مقتدرہ کے لوگوں سے یہ امید بجا طور پر کی جا رہی تھی کہ وہ صدر جمہوریہ ہند کو اجتماعی طور پر مل کر اپنی پریشانی، حالات کی سنگینی اور ملک کو درپیش خطرات سے آگاہ کریں گے اور اس سے بھی زیادہ اہم ضرورت یہ تھی کہ وہ وزیر اعظم شری نریندر مودی سے ان تمام معاملات پر مل کر ان کے یہاں اپنی اس تشویش، فکرمندی کو پیش کرنے کے ساتھ اس پر اپنا احتجاج درج کرائیں گے کہ وزیر اعظم شری نریندر مودی جو چھوٹی سے چھوٹی بات پر اپنی زبان کھولنے کے لئے جانے جاتے ہیں، ہر مہینے لوگوں سے من کی بات کرتے ہیں، وہ ان تمام چیزوں پر نہ صرف خاموش رہے بلکہ انہوں نے اس بات کی کوئی کوشش نہیں کی کہ وہ دوسروں کے مَن کی بات بھی سنیں۔ ہم 2014 سے سب کا ساتھ، سب کا وکاس کی بات سنتے رہے، 2019 سے سب کا وشواس اس میں شامل کر دینے کے وزیر اعظم کے قول پر خوش ہو لیے لیکن افسوس یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اس ملک کے بسنے والے مسلمانوں اور عیسائیوں، مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف زہر افشانی، پُرتشدد اعلانات اور ہرزہ سرائی پر آج تک کچھ نہیں کہا۔ اب بھی وقت نہیں گزرا ہے، پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج دس مارچ کو آ جائیں گے اس کے بعد کا کوئی وقت وزیر اعظم سے مانگا جا سکتا ہے اور ان کے سامنے موجودہ صورتحال، منظر نامے اور فرقے وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششوں کو بیان کیا جا سکتا ہے اگرچہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ وزیر اعظم اس سے پوری طرح واقف نہ ہوں۔ 10مارچ کے بعد کا وقت لینے کو اس لئے کہا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے ہم سیاسی طالع آزماؤں کو ایک بار پھر حالات کو الیکشن خراب کرنے کا بہانہ نہیں بننے دینا چاہتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہم برادرانِ وطن، خاص طور سے غالب ترین ہندو اکثریت سے رابطے کے نئے پُل بنائیں، ان کے ساتھ ایک صحت مند مثبت اور سودمند مکالمے کا آغاز کریں۔ ہم اہل وطن کو یہ بتائیں کہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ نفرت کی دیمک اس کو کھا جائے گی۔ ہم جس طرح اپنے مذہب کو مانتے ہیں، اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں، اسی طرح ہر ہندوستانی کے اس حق کو پوری طرح تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنے مذہبی معتقدات کے مطابق زندگی گزارے اور کسی کو کسی کے مذہبی عمل پر نہ تو اعتراض ہونا چاہیے اور نہ اپنے عمل کو دوسرے پر مسلط کرنے کی کوئی کوشش ہونی چاہیے۔

تبصرہ کریں

Back to top button