نماز فجر کے بے شمار فائدے!

اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے اس میں ہر نماز کے ادائیگی پر ایک انسان کا مختلف قسم کے حالات کو حل کردیا جاتا ہے اور اس نماز کی نوعیت اور وقت کے اعتبار سے انعامات ‘اکرامات اور اعزازات سے نوازتا ہے۔ ان پانچ نمازوں میں سے‘ سب سے اہم فجر کی نماز ہے جسے ادا کرتے ہی ایک مسلمان اپنے دن کے مختلف انداز کے کام کا آغاز کرتا ہے۔

مولانا محمد ممشادعلی صدیقی
بانی وناظم ادارہ مبین العلوم قاسمیہ
Mobile No. 9030825540

جب ایک انسان کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (یعنی عبادت کے لائق نہیں)۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں‘ کو دل سے مان لیتا ہے اور اس کے تقاضا کو سمجھ لیتا ہے اورزبان سے اظہار کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ میں نے اس کلمہ کو مان لیاہے تو وہ اللہ رب العزت کا چہیتا بن جاتا ہے اور اللہ اس کو محبوب بنالیتا ہے صرف ضرورت اس بات کی رہ جاتی ہے کہ اس کے تقاضے کو سمجھے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے رب کی ربوبیت کا اظہار کے ساتھ ساتھ ان کی بندگی میں وقت صرف کرے۔

اس کلمہ کے ذریعہ ہم سے چاہا جاتا ہے کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت کرنے والے بن جائیں اور اسی کے حکموں پر عمل کریں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اور عبادت کے لائق ہی نہیں اور نہ ہی ہماری ضروریات زندگی کو پورا کرنے والا ہے کیونکہ تمام چیزوں کا خالق ومالک وہی ہے اور محمدؐ کو ان کا رسول مان کر ان کے طریقہ پر چلیں کیونکہ وہ اللہ سے حکم پاکر ہی تمام اعمال کئے اور اپنی امت کو تاقیامت کرنے کا درس دیا۔

اس سے ہٹ کر کوئی ایسا شخصیت ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ جونہی کلمہ طیبہ پڑھتا ہے، اب ہر عاقل وبالغ شخص پر شریعت کے سارے تقاضے لاحق ہوجاتے ہیںاور اس کا پورا کرنا فرض کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ اس سے روگردانی پر انسان کو مرتد قرار دیتا ہے۔ خدا کو رب ماننے کے بعد اور نبی برحق جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی و رسول تسلیم کرنے کے بعد ایک بندہ پر جو سب سے پہلا عمل فرض ہوتاہے وہ صلوٰۃ ہے‘ جو ہر دن میں پانچ وقت فرض کیا ہے۔

جس کی فرضیت کا واضح انداز میں قرآن وحدیث میں احکام موجود ہیں۔ جن کی ادائیگی پر خوشخبری بھی سنائی گئی ہے۔ ہر صاحب ایمان کو نماز والی عمل جو قربت الٰہی کا بین ذریعہ ہے، اس کو بحسن خوبی خشوع خضوع سے ادا کرنے کی رغبت وانسیت پیدا کرتے ہوئے ان کے ہمہ اقسام کے فضائل وانعامات ربانی حاصل کرنے والے بن جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صلوٰۃ یعنی نماز کو کامیابی کی ضامن قرار دیا ہے۔ جب ایک انسان نماز کا پابند بن جاتاہے تو اللہ تعالیٰ تمام قسم کی برائیوں اور منکرات سے محفوظ ومامون کردیتاہے۔

اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ۔

بلاشبہ نماز بے حیائی کے کاموں سے اور نازیبا کاموں سے روکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے اس میں ہر نماز کے ادائیگی پر ایک انسان کا مختلف قسم کے حالات کو حل کردیا جاتا ہے اور اس نماز کی نوعیت اور وقت کے اعتبار سے انعامات ‘اکرامات اور اعزازات سے نوازتا ہے۔ ان پانچ نمازوں میں سے‘ سب سے اہم فجر کی نماز ہے جسے ادا کرتے ہی ایک مسلمان اپنے دن کے مختلف انداز کے کام کا آغاز کرتا ہے اور جب بھی کوئی عمل جس کو شریعت مطہرہ میں جائز قرار دیا ہو کرتاہے تو اللہ رب العزت کی نصرت شامل حال ہوجاتی ہے۔

جیسا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں بہت سارے اس انداز کے واقعات رونما ہوئے ہیں جیسے کہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپؐ نے چاند پر ایک نظر ڈالی پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو (آخرت میں) اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی زحمت بھی نہیں ہوگی۔ پس اگر تم ایسا کرسکتے ہوکہ سورج طلوع ہونے سے پہلے والی نماز یعنی فجر اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز یعنی عصر سے تمہیں کوئی چیز روک نہ سکے تو ایسا ضرور کرو۔ پھر آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ

وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب (سورہ ق)

’’پس اپنے مالک کی حمد وتسبیح کو سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے کیا کرو‘‘۔

نماز فجر جہاں گوناگوں خوبیاں سمیٹے ہوئے ہے اور اس کے فوائد روئے زمین پر رہنے بسنے والے مشاہدہ کرتے رہتے ہیں ان میں خاص طور پر فجر کی نماز کے چھ بڑے فائدے ہیں۔

(۱) جو شخص فجر کی نماز پڑھ لیتاہے، اس کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ رب نے صبح سویرے اٹھاتے ہوئے صدائے خیرمن النوم والی مژدہ سے مستفید کیا اور فرمان نبیؐ نوم الصبحۃ یمنع الرزق والی وعید سے محفوظ کردیا۔ ساتھ نبی کا فرمان کہ جو بندہ فجر کی نماز پڑھ لے وہ اللہ کے ذمہ میں چلایاگیا اور جو رب العالمین کے ذمہ میں چلا جاتا ہے تو دنیاوی تمام دشواریوں اور آفتوں سے یقیناً محفوظ ومامون ہوجاتا ہے۔

من کان للہ کان اللہ لہ اور جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اس کا ہوجاتاہے، تو اللہ ہوگیا ابھی کیا ہونا ہے۔ ہر دن انسان عبادت وریاضت کرتا ہی ہے اس لئے کہ ہم سے رب راضی ہوجائے۔ اس لئے ہمہ خیالاتی دنیا سے اپنے آپ کو مبرہ کرتے ہوئے صبح رب کی عبادت سے شروع کرنا چاہئے۔ حدیث پاک میں فرمان ہے کہ ’’جس آدمی نے فجر کی نماز پڑھ لی۔ وہ اللہ پاک کی ذمہ داری میں آگیا۔ اس نماز کی وجہ سے بندہ اللہ پاک کی ذمہ داری میں آجاتا ہے اور بندے کے دن کے تمام کام آسان ہوجاتے ہیں۔ دن آسانی کے ساتھ گزرتا ہے۔ دن کی مشکلات کم ہوجاتی ہیں۔ بندے کے اوپر اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہے۔

(۲) فجر کی نماز کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی نے عشاء کی نماز باجماعت پڑھ لی تو وہ بندہ ایسا ہے جیسے اس نے آدھی رات نماز پڑھی اور فرمایاکہ جس آدمی نے فجر کی نماز بھی باجماعت پڑھ لی وہ بندہ ایسا ہے جیسے اس نے ساری رات نماز پڑھی تو کتنی بڑی خوشخبری ہے کہ بندہ رات کو سوئے اور صبح اٹھ کر کچھ وقت کیلئے اللہ پاک کے سامنے کھڑا ہوجائے اور فجر کی نماز پڑھ لے تو اس پر اللہ پاک کتنا بڑا ثواب دیتاہے، پوری رات نماز پڑھنے کا ثواب۔

ہم کو کیا چاہئے بس یہی کہ ثواب کا خزینہ سمیٹے ہوئے اپنے نامہ اعمال کو پر کرلیں تاکہ وہاں کام آسکے جہاں کسی کا کوئی اور کچھ بھی دوسری چیز کام نہ آنے والی ہے۔ دنیاوی مختصر منفعت کے لئے راتوںکو جاگ کر چند کوڑیاں اور روپئے حاصل کرتے ہیں اور شب کی نیند کو تیاگ دیتے ہیں۔ اللہ رحمٰن ورحیم ہم سے محبت وپیار کرتاہے کہ چند لمحوں کی عبادت جو اول رات اور دن کے اجالا ہونے سے پہلے اداکرتے ہیں پوری رات کو عبادت میں شمار کرتے ہوئے اجر عظیم عطا کرنے کی راہ ہموار کردیتا ہے۔ اس لئے جیسے بھی حالات ہوں ہم کو نہ عشاء کی نماز کا تارک ہونا ہے اور نہ ہی فجر کی نماز کا تاکہ مکمل شب کی عبادت گذاروں میں ہمارا شمار ہوجائے اور ہم بڑے انعام پانے والے بن جائیں۔ بقیہ نمازیں بھی فرض ہیں، اس کا تارک نہیں ہونا چاہئے۔

(۳) تیسرا بڑا فائدہ فجر کی نماز کا یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فجر کی دوسنت رکعتیں دنیا اور دنیا میں جو کچھ بھی ہے اس تمام سے بہتر ہیں۔ ہم اس دنیا کیلئے ہی نمازکو چھوڑدیتے ہیں لیکن اللہ پاک کے نبی کریمؐ کیا فرمارہے ہیں کہ فجر کی دو رکعتیں دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہیں۔ تو دنیا کی کیا حیثیت ہے۔ اس دنیا کی وجہ سے ہمیں نماز نہیں چھوڑنی چاہئے۔ کیونکہ دنیاکی حقیقت رحمان کے نزدیک مچھروں کے پر بلکہ اس سے بھی کم ہے۔ اگر دنیا کی کوئی حقیقت ہوتی تو اللہ پاک اپنے نافرمانوں کو اس سے کچھ بھی استعمال کرنے نہیں دیتا اور مختلف اقسام کے دشواریوں میں مبتلا کرکے ہلاک کردیتاہے مگر دنیا کی رب کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں اس لئے کون کیا استعمال کرتاہے اور کیوں کرتاہے اس کا ذرہ برابر بھی افسوس نہیں ہے۔

ہاں اس نے ہمیں یہ زندگی دی ہے اور اس کو کس طرح دنیا میں رہتے ہوئے گزارنا ہے اس کا طریقہ بھی اپنے نبی و رسولؐ کے ذریعہ بتادیا ہے۔ اب اگر من مانی زندگی گزاریں گے تو میدان حشر میں بلاچوں وچرا اس کا حساب لیں گے باقی رب کی مرضی کہ کس کو معاف کرتا ہے اور کس سے سختی کے ساتھ حساب لیتاہے۔اگر ہم فجر کی دو سنتیں ادا کرتے ہیں تو دنیا اور دنیا میں جو کچھ بھی ہے اس تمام سے بہتر عمل کرتے ہیں اور تبھی ممکن ہے جب ہم صبح کی میٹھی میٹھی نیند کو قربان کرتے ہوئے رب کی رضا کیلئے دو سنت فجر ادا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کا ہم کو اور سارے اولاد آدم کو اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق بخشے۔

(۴) فجر کی نماز کا چوتھا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے نبیؐ نے فرمایا: تمہارے پاس دن اور رات کے فرشتے آتے ہیں اور یہ فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ فرشتے اوپر جاتے ہیں اللہ پاک کے پاس جاتے ہیں۔ اللہ پاک سب جانتا ہے لیکن پھر بھی دن اور رات والوں فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ جب تم میرے بندے کے پاس سے آئے تو تم نے اس کو کس حالت میں چھوڑا، فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ! تیرا بندہ نماز پڑھ رہا تھا۔ فجر کی نماز اس نے پڑھی کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو فجر کی نماز بڑی پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ پاک کو بتاتے ہیں کہ اے اللہ!ہم تیرے بندے کے پاس ایسی حالت میں آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا۔

تیرے سامنے جھکا ہوا تھا۔ اللہ اپنے بندوں کی یہ کیفیت سننے کے بعد کتنا خوش ہوتا ہوگا اس کا اندازہ نہیں لگاسکتے۔ ناری مخلوق شیطان، جنات نے اللہ سے وعدہ لے رکھا ہے کہ ہم تیرے بندوں کو راہ راست سے بھٹکائیں گے، دائیں سے بھی، بائیں سے بھی، اوپر بھی اور نیچے سے بھی اور رب نے ان کو یہ اختیار بھی دے رکھا ہے کہ جو میرا بندہ ہوگا تو اس کو گمراہ نہیں کرسکتا اور جس کو تو گمراہ کرلیا حقیقت میں وہ میرا بندہ نہیں ہوگا۔ ہم کو اللہ جو ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتاہے اس کیلئے مرمٹنا چاہئے اور ان کے ہر احکام کو بجالاتے ہوئے اس کی خوشنودی کو حاصل کرنا چاہئے۔ ایک فجر کی نماز ہی کیا دنیاوی ہر معاملات میں اس کے نازل کردہ اصول و ضوابط کر ملحوظ رکھتے ہوئے فانی زندگی کو مکمل کرنا چاہئے۔

(۵) پانچواں بڑا فائدہ: فجر کی نماز کا یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رب العزت سے اپنی امت کیلئے صبح کے وقت میں برکت عطا کرنے کی دعا فرمائی ہے۔

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِاُمَّتِی فِی بُکُوْرَھَا

’’اے اللہ! میری امت کے صبح کے وقت میں برکت ڈال دے‘‘۔ (صحیح الترغیب) اس دعا کے نتیجے میں جو شخص اپنے دن کا آغاز نماز فجر سے کرے گا، یقیناً اس کے ہر کام میں اللہ کی طرف سے برکت کی قوی امید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں کوئی لشکر روانہ فرماتے تو فجر کے وقت منہ اندھیرے ہی روانہ فرماتے تھے۔ اس حدیث کے راوی سیدنا صخرؓ تاجر ہیں۔ یہ اپنا تجارتی مال دوسرے علاقوں میں بھیجتے تو صبح صبح ہی بھیجتے۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی تجارت میں بڑی برکت ڈال دی اور وہ بڑے خوشحال اور مالدار ہوگئے۔ (صحیح الترغیب)

آج دنیاوی معاملات کا رونا روتے ہیں کہ ہر جتن کے باوجود دشواریوں اور تنگیوں کا خاتمہ نہیں ہوتاہے لیکن اس پر غور نہیں کرتے کہ آخر یہ حالات ہمارے ساتھ کیوں درپیش ہیں۔ اس حقیقت معلوم کرتے ہوئے اس کی تدارک کا فکر کرنا چاہے اور صبح کی بیداری اور فجر کی نمازکی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے کوشش کو لازم وملزوم بنالینا چاہئے کیونکہ صبح کی بیداری ہم کو جہاں نوید راحت دیتی ہے وہیں برکت اور کامیابی کی ضمانت بھی۔

(۶) چھٹا بڑا فائدہ نماز فجر کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے’’جس نے صبح کی نماز(باجماعت) ادا کی وہ شخص اللہ کے ذمہ (حفاظت) میں آگیا۔ پس تم میں سے کسی سے اللہ تعالیٰ اپنے ذمے کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے، پس جس شخص سے اس نے اپنے ذمے کے بارے میں کوئی مطالبہ کردیا تو وہ اس کو پکڑلے گا اور اوندھے منہ جہنم میں پھینک دے گا۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’مَنْ صَلَّی الْبَرْدِیْنَ دَخَلَ الْجَنَّۃِ‘

’’جس نے بردین (دوٹھنڈک والی) نمازیں ادا کیں وہ جنت میں جائے گا‘‘۔ (بخاری) بردین سے مراد فجر اور عصرکی نماز ہے۔ برد سے مراد ٹھنڈک ہے۔ ان دو نمازوں کو بردین اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ جس وقت ان کی ادائیگی ہوتی ہے اس وقت دن ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور سورج کی حرارت کم ہوجاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فجر کی دو رکعتیں تمام دنیا سے زیادہ بہتر ہیں‘‘۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوںکے بارے میں فرمایا ’’یعنی یہ رکعتیں مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں‘‘۔ فوائد تو بے شمار ہیں جن کا احاطہ کون کرسکتاہے کیونکہ رب کے یہاں لامحدود انعامات ہیں۔

دیگر ادائے نماز پر جو اجر عظیم رکھا گیا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ ان کے اتنے سارے فضائل بیان کئے گئے ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔ ان تعلیمات کی روشنی میں ہم کو کسی بھی حال میں نماز فجر نہیں چھوڑنا ہے۔ اللہ ہم سب کو نماز فجر پڑھنے کی توفیق بخشے۔ ہم کو ہی نہیں بلکہ گھر کے تمام فرد کو اس کا پابند ہونا چاہئے خاص طورپر ماں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود بھی پڑھیں اور اپنے تمام بیٹے، بیٹی کو بھی نماز فجر کا پابند بنائیں۔ اللہ رب العزت تمام اولاد کی کوتاہی پر پردہ ڈالتے ہوئے اور گناہوں کے دلدل سے باہر نکالنے کا اسباب پیدا فرمائے اور فجر کی نماز باجماعت اخلاص وللہیت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق بخشے اور ہر عامل کو نماز کے بہتر نتائج پیدا کرے اور بہتر ثمرات کا مستحق بنائے۔ آمین۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button