نپور شرما معاملہ پر سپریم کورٹ کا تبصرہ حقیقت کی عکاسی ہے : جمعیۃ علماء ہند

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے نپور شرما معاملے پر سپریم کورٹ کے تبصرے کو حقیقت پر مبنی اور زمینی حقائق کی درست عکاسی بتایا ہے۔

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے نپور شرما معاملے پر سپریم کورٹ کے تبصرے کو حقیقت پر مبنی اور زمینی حقائق کی درست عکاسی بتایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، اس کے پس پشت قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا انتہائی جانبدارانہ رویہ ہے، جب تریپورہ میں ایک اجتماعی اجلاس میں اہانت رسول کی قضیہ سال گزشتہ پیش آیا تھا تو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے صورت حال کی سنگینی سے باخبر کیا تھا، لیکن پھر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی طرف سے اہانت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی جس کی سماعت اسی مہینے ہونے والی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اس سلسلے میں اپنی گائیڈلائن پر عمل در آمد کے لیے حکومتوں کو ہدایت جاری کرے۔

اس عرضی میں وہی باتیں کہی گئی ہیں جو سپریم کورٹ نے آج کی ہیں۔جمعیۃ علماء ہند روز ِ اوّل سے یہ کہہ رہی ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کی اصلاح کے لیے سرکاروں کا رویہ درست نہیں ہے بلکہ سرکاری پرستی میں فرقہ واریت کی مہم چلائی جارہی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند یہ توقع رکھتی ہے کہ حکومت اس بیان سے ہوش کے ناخن لے گی اور عملی اقدامات کے ذریعہ صورت حال کو درست کرنے کی کوشش کرے گی۔انھوں نے کہا کہ جب تک کہ اس تبصرے کا زمینی طور پر اثر ظاہر نہ ہواسے نتیجہ خیز اور بامعنی نہیں کہا جاسکتا۔

تبصرہ کریں

Back to top button