نپور شرما کی گرفتاری اب سپریم کورٹ کے وقار کا سوال بن گئی

سپریم کورٹ نے جس طریقے سے نپور شرما کے خلاف ریمارکس کے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری ہونی چاہیے تھی۔ حال ہی میں تیستا سیتلواد کی گرفتاری ہوئی ہے اور اس کارروائی سے کئی لوگ متفق نہیں ہیں۔ اس بار بھی نپور شرما کی گرفتاری سے بہت سارے لوگ عدم اتفاق کرسکتے ہیں، مگر عدلیہ کے احترام کے لیے نپور کی گرفتاری ضروری ہوگئی ہے۔

پریم کمار

جس ایک خاتون کی وجہ سے پورا ملک خطرے میں پڑگیا وہ نپور شرما گرفتار کب ہوں گی؟ دہلی پولیس نے جو سرخ قالین نپور شرما کے لیے بچھارکھی ہے وہ کب ہٹے گا؟ نپور شرما ٹی وی پر آکر دوبارہ غیرمشروط معافی کب مانگیں گی؟ جس ٹی وی چینل پر نپور نے نفرت انگیز بیان دیا اس پر کب کارروائی ہو گی؟ یہ وہ سوال ہیں جو سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کیے اور ان سوالوں پر ملک میں نظریاتی گھمسان مچا ہوا ہے۔
کچھ ایک سوال ایسے ہیں جو اس نظریاتی بحث کو نئے مقام تک لے جاتے ہیں۔ مثلاً سپریم کورٹ کے ریمارکس جائز ہیں یا نہیں؟ صرف ریمارکس کیوں، کارروائی کیو ںنہیں؟ نپور شرما معافی مانگ لیں تو کیا وہ کافی ہوگا؟ معافی ضروری ہے یا گرفتاری؟ نپور کو اُدئے پور کے جہادی طالبانی اسٹائل میں قتل کے لیے کیسے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ لائیو کے دوران کیے گئے ریمارک کے لیے اینکر ذمہ دار کیسے؟
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نپور شرما کی اس عرضی کو مسترد کرتے ہوئے جس میں ملک کے الگ الگ حصوں میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو ایک ساتھ دہلی میں سنے جانے کی اپیل کی گئی تھی، سپریم کورٹ نے جتنے سوال نپور کے وکیل سے پوچھے، اس سے زیادہ سوال خود سپریم کورٹ سے پوچھے جارہے ہیں۔ نپور حامی میڈیا میں سوال پوچھتے ہوئے سپریم کورٹ کی توہین تک کی پرواہ نظر نہیں آتی۔
آپ انڈیا ڈاٹ کام کے منیجنگ ایڈیٹر نپور جے شرما نے سوالیہ انداز میں مضمون لکھا ہے ’’ڈیئر می لارڈ، کیا اسلامی شدت پسندوں کو ’’پھلسی زبان‘‘ سے آپ نے بھی بھڑکایا؟‘‘ اس مضمون میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’سپریم کورٹ یقینا اپنے ریمارکس سے کہہ رہا تھا کہ یہ نپور شرما کا قصور ہے جو اسلام پسند غصے میں آگئے، انہوں نے سڑکوں پر فساد کردیا، قتل کی دھمکیاں دے دیں، عصمت ریزی کرنے کو کہہ دیا اور ایک ہندو کا سر کاٹ دیا۔‘‘ اس مضمون میں منفی ذہنیت اتنی نظر آئی کہ سپریم کورٹ کو عورتوں کا مخالف بتاتے ہوئے بھی اناپ شاپ ریمارکس کیے گئے ہیں۔ ’’انہیں (نپور شرما کو) خاتون ہونے کے ناطے اپنی جگہ کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ انہیں پتا ہونا چاہیے تھا کہ خاتون ہونے کے ناطے انہیں اپنا منہ بند رکھنا تھا۔ مگر اب جبکہ وہ اپنی رائے رکھ چکی ہیں تو ضروری ہے کہ انہیں لٹکادیا جائے، ایک ڈائین کی طرح، جس کے اوپر ہجوم پتھر پھینکتے ہوئے تیز تیز چلّاتا ہے۔‘‘
سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے خلاف ریمارکس ساری حدیں پارکرگئے ہیں۔ #ShariaCourtofIndia اور #BlackDayForIndianJudiciary جیسے ہیش ٹیگ چلائے گئے۔ ان میں شامل ٹوئٹر ہینڈل پر نظر دوڑانے سے پتا چلتا ہے کہ وہ بی جے پی کے حق میں آئے دن کوئی نہ کوئی ہیش ٹیگ چلاتے رہتے ہیں۔ مگر ذمہ دار کہے جاتے رہے صحافیوں نے بھی نپور شرما کی حمایت میں سپریم کورٹ کے لیے توہین آمیز الفاظ لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے عدم اتفاق ہوتا رہتا ہے لیکن عدم اتفاق میں تیور اگر باغی ہونے لگیں تو یہ عدلیہ کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے میڈیا کا ایک دھڑا اگر نظرآرہا ہے یا پھر حکمراں جماعت سے وابستہ افراد اس قسم کی مہم چلاتے نظر آرہے ہیں تو یہ گمبھیر روپ میں باعث تشویش ہے۔
سپریم کورٹ نے جس طریقے سے نپور شرما کے خلاف ریمارکس کے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری ہونی چاہیے تھی۔ حال ہی میں تیستا سیتلواد کی گرفتاری ہوئی ہے اور اس کارروائی سے کئی لوگ متفق نہیں ہیں۔ اس بار بھی نپور شرما کی گرفتاری سے بہت سارے لوگ عدم اتفاق کرسکتے ہیں، مگر عدلیہ کے احترام کے لیے نپور کی گرفتاری ضروری ہوگئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا دہلی پولیس میںاتنی ہمت ہے کہ وہ اس سمت میں قدم اٹھاسکے۔ حالانکہ یہی کام دوسری ریاستوں کی پولیس بھی کرسکتی ہے جہاں نپور شرما کے خلاف کیس درج کرائے گئے ہیں۔ نپور روپوش ہیں۔ انہیں حاصل تحفظ کی وجہ سے انہیں پکڑنا زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔ مگر ایسا اسی وقت ہوسکے گا جب حکومت چاہے گی۔
سپریم کورٹ نے ضرور کہا ہے کہ حفاظت کی ضرورت نپور شرما کو ہے یا نپور شرما نے ہی ملک کو عدم تحفظ کے حالات میں ڈال دیا ہے۔
پھر بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کوئی ایک خاتون پورے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بن سکتی جب تک کہ اسے وسیع حمایت حاصل نہ ہو۔ نپور کو یہ حمایت میڈیا سے بھی ہے اور پولیس انتظامیہ سے بھی۔ پارٹی سے معطلی کے باوجود بی جے پی پوری طرح سے اس کے ساتھ کھڑی نظرآتی ہے۔ یہ طاقت سپریم کورٹ کے ریمارکس کے باوجود نپور شرما کے ساتھ متحد ہے۔
کسی بھی ملک میں جب عدلیہ کے تئیں احترام ختم ہونے لگتا ہے وہ لاقانونیت کی اور بڑھنے لگ جاتا ہے۔ خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے کی صورت حال یہی ہوتی ہے۔ کیا وقت نہیں آگیا ہے جب ملک کو لاقانونیت کی سمت بڑھنے سے روکا جائے؟
مودی حکومت کے کام کاج کا جو طریقہ رہا ہے کہ اس حساب سے نپور شرما کی گرفتاری اسی وقت ہوگی جب اس کے بدلے دسیوں گنا اپوزیشن کے قائدین گرفتار ہوں گے۔ نفرتی قرار دے کر اگر نپور شرما اور نوین جندل کو گرفتار کیا جائے گا تو اسی الزام میں اسد الدین اویسی،کئی مولانا، کئی سماجی کارکن، کئی لیڈران، کئی اختلاف رائے رکھنے والے صحافی بھی گرفتار ہوں گے۔ دو کے بدلے 32 ایف آئی آر درج کرواکر مودی حکومت نے بہت پہلے ہی اس کا اشادہ دے دیا تھا۔ اسی طرح اگر گودی میڈیا پر کارروائی ہی کرنی پڑی تو ساتھ ساتھ آزاد میڈیا کا گلا گھونٹ دیا جانا بھی یقینی لگتا ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ سپریم کورٹ نے جس خطرے کو بھانپا ہے، اسے مرکزی حکومت سمجھے۔ مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر وہ ایسی کارروائی یقینی بنائے جس سے ملک میں امن و امان کی طمانیت ہوسکے۔ ایسا کرکے ہی سپریم کورٹ کے وقار کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی حکمراں جماعت اس سمت میں سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار ہے؟ کیا مودی حکومت اس سمت میں پہل کرتے ہوئے نپور شرما کی گرفتاری کے لیے قدم بڑھانے کو تیار ہے؟ وقت آگیا ہے کہ جب وزیراعظم نریندر مودی مداخلت کریں اور نپور شرما کی گرفتاری کی راہ ہموار کریں۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button