نپور شرما کی گستاخی کو منظرعام پر لانے والے محمد زبیر کی بغیر ایف آئی آر گرفتاری

حقائق کی جانچ کرنے والے پورٹل آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو پیر کو قومی دارالحکومت دہلی میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

حیدرآباد: حقائق کی جانچ کرنے والے پورٹل آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو پیر کو قومی دارالحکومت دہلی میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

محمد زبیر کے پارٹنر اور آلٹ نیوز کے ایک شریک بانی پرتیک سنہا نے بتایا کہ زبیر کو ایف آئی آر درج کئے بغیر گرفتار کیا گیا ہے۔ پرتیک سنہا نے ایک ٹویٹ کرکے بتایا کہ زبیر کی پولیس ویان میں گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ انہیں نامعلوم مقام کو منتقل کیا جارہا تھا۔

اس موقع پر ہم بھی ان کے ساتھ تھے اور جو پولیس والے ہمیں لے جارہے تھے، ان کی وردی پر ان کا نام درج تھا اور نہ ہی عہدہ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی آر کی نقل کا مطالبہ کرنے پر بھی پولیس والوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

پرتیک سنہا نے پھر ایک ٹویٹ کرکے تشویش کا اظہار کیا کہ آخر پولیس زبیر کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے میں عجلت سے کام کیوں لے رہی ہے؟ انہیں 24 گھنٹے مکمل ہونے سے قبل کل دوپہر تک بھی ایک ریگولر عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زبیر کو براری لے جایا جارہا ہے تاکہ انہیں وہاں ڈیوٹی مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر ان کے سامنے پیش کیا جاسکے۔

قبل ازیں موصولہ اطلاعات کے بموجب پولیس نے ایک غیرمصدقہ ٹویٹر ہینڈل سے شکایت ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا تھا، جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ زبیر نے جان بوجھ کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مقصد سے ایک قابل اعتراض تصویر ٹویٹ کی تھی۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس دہلی کے پی ایس ملہوترا نے بتایا کہ اس طرح کے ٹویٹس کو دوبارہ ٹویٹ کیا جا رہا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا اداروں کی ایک بریگیڈ ہے، جو توہین آمیز ٹویٹس پھیلانے میں ملوث ہے اور جس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچا ہے اور یہ مجموعی طور پر عوامی امن کو برقرار رکھنے کے خلاف ہے ۔

واضح رہے کہ پیر کو زبیر دہلی کے اسپیشل سیل پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں سوالات کا جواب دینے پہنچے تھے۔

تحقیقات کے بعد پولیس نے ایک اسٹیٹس رپورٹ دی جس میں محمد زبیر کی ٹویٹ کو اگرچہ قابل اعتراض نہیں پایا مگر ان کے ٹویٹ کے بعد قابل اعتراض اور تضحیک آمیز ٹویٹس کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات میں، اس سے پہلے بھی جانچ کی گئی تھی اور تحقیقات اختتام کے دہانے پر ہیں۔تاہم، اس ماہ کے شروع میں ایک ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے پولیس کو الرٹ کیا گیا تھا کہ محمد زبیر نے اس سے قبل ایک قابل اعتراض ٹویٹ کیا تھا اور سوشل میڈیا پر ان کے فالوورس نے اس تھریڈ میں بحث و مباحثے اور نفرت پھیلانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

ملہوترا نے بتایا کہ اس علیحدہ کیس میں آئی پی سی کی مختلف دفعات جیسے 153 اے اور 295 اے کے تحت جانچ کی گئی اور تحقیقات میں زبیر کا رول قابل اعتراض پایا گیا۔

معلوم ہوا ہے کہ زبیر سوالات کے جوابات دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے اور انہوں نے نہ تو تفتیش کے لئے ضروری ‘‘تکنیکی آلات‘‘ فراہم کیے اور نہ ہی پوچھ گچھ میں تعاون کیا۔

سینئر پولیس عہدیدار نے مزید بتایا کہ تحقیقات کے دوران، محمد زبیر کا طرز عمل قابل اعتراض پایا گیا، اس لئے اس معاملے میں سازش کا پردہ فاش کرنے ان کو باقاعدہ حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنا لازمی ہوگیا تھا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ زبیر کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ کیس کی تفتیش کے لئے انہیں پولیس تحویل میں لیا جاسکے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ زبیر پہلے شخص تھے جنہوں نے بی جے پی کی معطل قائد نوپور شرما کے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف مبینہ ریمارکس شیئر کیے تھے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر تہلکہ مچ گیا تھا۔

افغانستان، پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، انڈونیشیا اور ایران سمیت متعدد مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ اسلامی تعاون تنظیم نے اس کے خلاف سرکاری طور پر احتجاج کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
ہنگامہ آرائی کے بعد، بھارتیہ جنتا پارٹی نے نپور شرما کے ساتھ نوین کمار جندل کو معطل کر دیا، جس نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔

زبیر کی گرفتاری سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ملک میں اظہار خیال کی آزادی پر مکمل قدغن لگ چکی ہے۔ یہاں سچ بولنے اور حقیقت بیان کرنے پر سزا ملتی ہے جبکہ نفرت پھیلانے والے لیڈرس اور خودساختہ سادھو آزاد گھوم رہے ہیں۔

ساری دنیا کے مسلمان بالخصوص ہندوستانی مسلمان آج بھی گستاخ رسولؐ نپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں مگر نپور شرما کے توہین آمیز تبصرہ سے دنیا کو واقف کرانے والے کو ہی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بی جے پی کے درجنوں لیڈرس اور اس کا آئی ٹی سیل دن رات مسلمانوں اور دین اسلام کے خلاف زہراگلتے رہتے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور جھوٹے سوشیل میڈیا پوسٹس جیسے فیک تصاویر اور ویڈیوز کی جانچ کرنے والے پورٹل آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو صرف اس لئے گرفتار کرلیا جاتا ہے کیونکہ وہ سچ پھیلانے کا کام کررہے تھے۔

تبصرہ کریں

Back to top button