وائن پالیسی کے خلاف انا ہزارے کی بھوک ہڑتال معطل

سماجی کارکن اناہزارے نے حکومت مہاراشٹرا کی وائن پالیسی کے خلاف پیر سے اپنی مجوزہ بھوک ہڑتال معطل کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پونے: سماجی کارکن اناہزارے نے حکومت مہاراشٹرا کی وائن پالیسی کے خلاف پیر سے اپنی مجوزہ بھوک ہڑتال معطل کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے انہیں تیقن دیا ہے کہ پالیسی پر عمل درآمد سے قبل شہریوں کی رائے پر غورکیاجائے گا۔ اتوار کے دن اناہزارے کے آبائی گاؤں رالے گاؤں سدھی(ضلع احمد نگر) میں گرام سبھامنعقد ہوئی۔

انا ہزارے نے بعدازاں بتایاکہ میں نے دیہاتیوں سے کہہ دیاکہ اب ریاستی حکومت نے کابینہ کا فیصلہ شہریوں کے سامنے رکھ کر ان کی رائے لینے اور اعتراضات سننے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے بعد ہی وہ قطعی فیصلہ کرے گی۔ لہذا میں نے کل سے بھوک ہڑتال معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند دن قبل اناہزارے نے چیف منسٹر ادھوٹھاکرے کولکھاتھا کہ ریاست کے عوام کا مطالبہ ہے کہ سوپر مارکٹس اور کرانہ دکانوں میں وائن کی فروخت کی اجازت دینے کی پالیسی فوری واپس لی جائے۔

اتوار کے دن انا ہزارے نے اپنے موضع میں کہا کہ وائن کی فروخت کیلئے کئی بیربار‘ پرمٹ رومس اور دکانیں ہیں‘ ایسے میں ریاستی حکومت سوپرمارکٹس اور کرانہ دکانوں میں وائن کیوں بیچناچاہتی ہے؟۔

کیا وہ لوگوں کو شراب کا عادی بناناچاہتی ہے؟۔ سماجی کارکن نے دعویٰ کیاکہ حکومت مہاراشٹرا کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت میں وہ ان سے کہہ چکے ہیں کہ انہیں ریاست میں رہنااچھا نہیں لگ رہا ہے۔

جس کے بعد ریاستی حکومت نے اپنے فیصلہ پر دوبارہ غورکرنا شروع کردیا۔ اناہزارے نے کہا کہ وائن مہاراشٹرا کا کلچر نہیں ہے جہاں شیواجی اور سنت تکارام مہاراج رہا کرتے تھے۔ سوپر مارکٹوں میں وائن کی فروخت سے ہمارا کلچر برباد ہوجائے گا۔

اناہزارے نے کہا کہ ریاستی حکومت کے عہدیدار مجھ سے ملنے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہہ دیا کہ وائن پالیسی کو قطعیت دینے سے قبل عوام کی رائے پر غورکیاجائے۔ یہاں جمہوریت ہے، آمریت نہیں۔

لہذا شہریوں کی تجاویز اور اعتراضات سننے کے بعد ہی فیصلہ ہوناچاہئیے۔ عوام کو اپنی رائے دینے کے لئے تین ماہ کا وقت ملناچاہئیے۔

تبصرہ کریں

Back to top button