وایاناڈ میں راہول گاندھی کے دفتر پر حملہ

اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کارکنوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر وایاناد کے کلپٹا میں آج دوپہر کانگریس قائد راہول گاندھی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔

ترواننتا پورم: اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کارکنوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر وایاناد کے کلپٹا میں آج دوپہر کانگریس قائد راہول گاندھی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔

پولیس کے مطابق ایس ایف آئی نے کلپٹا ٹاؤن میں ایک مارچ نکالا تھا، تاکہ وایاناڈ کے عوام کی حالت پر مقامی رکن پارلیمنٹ کی مبینہ بے حسی کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ راہول گاندھی کے دفتر کے سامنے پہنچنے کے بعد یہ مارچ پُرتشدد ہوگیا۔

کیرالا پردیش کانگریس کمیٹی نے حملے کے ویڈیوز جاری کیے ہیں، جن میں کارکنوں کو دفتر کی دوسری منزل پر رکن پارلیمنٹ کے ارکانِ عملہ پر حملہ کرتے ہوئے اور جائیداد کو توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس حملہ کے نتیجہ میں کانگریس اور یوتھ کانگریس کارکنوں نے سارے کیرالا میں احتجاج کیا۔ کانگریس کارکنوں نے تشدد کے خلاف بطورِ احتجاج اے کے جی سنٹر تک مارچ نکالا۔

کلپٹا کے رکن اسمبلی ٹی صدیق نے وایاناڈ کے ڈسٹرکٹ پولیس چیف کے دفتر کے روبرو احتجاج کیا۔ انہوں نے ایس ایف آئی کارکنوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس پر حملہ آوروں کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا۔ چیف منسٹر پی وجین نے اس حملہ کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے مرتکبین کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ وجین نے اس حملہ کو آزادئ اظہار اور تقریر کے خلاف دراندازی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تاثرات تشدد میں تبدیل نہیں ہونے چاہئیں۔

وجین نے ایس ایف آئی کارکنوں کے مبینہ حملہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک کو جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن احتجاجی مظاہرے کا پُرتشدد ہوجانا ایک غلط رجحان ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button