وزیر اعظم سری لنکا نے فوج کو امن بحال کرنے کا حکم دیا

سری لنکا کے زیادہ تر باشندے ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے لیے راجا پکسے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اس سال مئی میں وزیر اعظم کے عہدے پر تعینات وکرما سنگھے کو اس مسئلے کے ایک حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

کولمبو: سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے جمعرات کو ان کے دفتر پر احتجاجیوں کے دھاوا بولنے کے بعد فوج کو ملک میں امن و انتظام کی بحالی کے لیے جو بھی ضروری ہو وہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

وکرما سنگھے نے یہ حکم بدھ کو ملک سے فرار ہونے والے صدر گوٹابایا راجا پکسے کی جگہ بطور قائم مقام صدر مقرر کیے جانے کے بعد دیا۔ صدر گوٹابایا کے ملک چھوڑ کر چلے جانے کے فیصلے سے مظاہرین میں غصہ مزید بڑھ گیا اور وہ وزیر اعظم کے بھی ملک سے چلے جانے کا مطالبہ کرنے لگے۔

سری لنکا کے زیادہ تر باشندے ملک کی گرتی ہوئی معیشت کے لیے راجا پکسے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اس سال مئی میں وزیر اعظم کے عہدے پر تعینات وکرما سنگھے کو اس مسئلے کے ایک حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مظاہرین نے بدھ کے روز ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں دوسری بار صدارتی رہائش گاہ اور اس کے بعد وزیراعظم کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔

وکرما سنگھے نے ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خطاب میں مظاہرین سے اپنے زیر قبضہ دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو چھوڑنے اور حکام کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی، حالانکہ مظاہرین نے ان کی اس اپیل کو نظر انداز کر دیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے دفتر پر موجود ایک احتجاجی نے کہا ’’ہمارا ہدف ’گوٹا گو ہوم‘ کا ہے اور ساتھ ہی ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ رانیل سمیت کابینہ کے دیگر ارکان بھی یہاں سے چلے جائیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button