وزیر اعظم پر کے ٹی آر کی ایک بار پھر شدید تنقید

چہارشنبہ کے روز صبح میں کے تارک راما راؤ نے ٹوئٹر پر صارفین سے کہا ”وزیر اعظم مودی کو کیا کہا جائے کیونکہ وہ افراطِ زر (مہنگائی) اور نہ ہی ملک میں دراندازی کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

حیدرآباد: حکمراں جماعت ٹی آر ایس کے کارگذار صدر وریاستی وزیر کے تارک راما راؤ، وزیر اعظم نریندر مودی یا مرکز کی بی جے پی حکومت کو نشانہ ملامت بنانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

کے ٹی آر نے سوشیل میڈیا پر ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکز کی بی جے پی حکومت سے پوچھا کہ ملک میں کیا چل رہا ہے؟

چہارشنبہ کے روز صبح میں کے تارک راما راؤ نے ٹوئٹر پر صارفین سے کہا ”وزیر اعظم مودی کو کیا کہا جائے کیونکہ وہ افراطِ زر (مہنگائی) اور نہ ہی ملک میں دراندازی کو روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

بیروزگاری بہت بڑا چیالنج بن کر ابھر رہی ہے اس مسئلہ پر یہ نصیحت کی جاسکتی ہیکہ خود صنعت کار بن کر دوسروں کو روزگار فراہم کریں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بیروزگاری بہت بڑا چیالنج ہے۔ امریکی صدر بائیڈن ہو یا انڈیا کے وزیر اعظم مودی یا ریاست کے چیف منسٹر کے سی آر ہو، ہر کسی کیلئے بیروزگاری بڑا چیالنج بن گئی ہے۔

ہر ایک کے سامنے روزگار کے وسائل پیدا کرنا اور بیروزگاری بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ہر سال لاکھوں طلبہ تعلیم سے فارغ ہورہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ان طلبہ کو سرکاری نوکریاں فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔ سرکاری شعبہ جات میں روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔

اس لئے میری نوجوانوں کو نصیحت ہے کہ خود آگے بڑھیں سخت محنت سے صنعت کار بن جائیں اور دوسروں کو روزگار فراہم کریں۔ حکومت تلنگانہ نے کئی پروگراموں کو نہ صرف متعارف کرایا بلکہ انہیں روبعمل بھی لایا ہے۔ بزنس فیسلیٹی سنٹر اور کیرئیر سنٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے یہ بات کہی۔

انہوں نے کہا کہ دلتوں کو انٹر پرینر بنانے اور دولت کو دوبارہ پیدا کرنے کیلئے کے سی آر حکومت نے دلت بندھو اسکیم کو متعارف کرایا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق ٹی آ رایس کے کارگذار صدر و ریاستی وزیر کے تارک راما راؤ نے چہارشنبہ کے روز مختلف مسائل جیسے افراط زر پر وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکز کی بی جے پی حکومت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو کیا کہا جائے جنہوں نے نہ تو افراط زر (مہنگائی) پر قابو پایا ہے اور نہ ملک میں دراندازی کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ وزیر اعظم کو 56انچ کے سینے والے، وشوا گرو، اچھے دن والے کہا جائے؟

کیونکہ یہ تمام الفاظ غیر پارلیمانی ہیں یاپھر خارج کیا جائے۔ کے ٹی آر نے میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں بتایا گیا کہ 2021-22 میں مہنگائی اب تک کی سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے رپورٹس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین، اب ارونا چل پردیش کے سرحد کے ساتھ دوسرے گاؤں تک پہنچ گیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button