وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات دینے کے مطالبہ پر 21 نومبر کو دھرنا

سی پی آئی کے سینئر قائد و سابق راجیہ سبھا ایم پی عزیز پاشاہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومتوں پر دباؤ بنانے کا واحد راستہ پرامن احتجاج ہے۔

حیدرآباد: صدر نشین آل انڈیا مسلم مائنا ریٹی آرگنائزیشن سید مختار حسین کی زیر قیادت تمام سیاسی جماعتوں کے مسلم قائدین، دانشور اور پروفیشنلس نے گذشتہ7 برسوں کے دوران مسلم اقلیت سے کے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے چیف منسٹر کے سی آر پر دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں ان قائدین نے وقف املاک کے تحفظ کیلئے تلنگانہ وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات دینے اور ایس سی، ایس ٹی طرز پر اقلیتوں کیلئے بھی سب پلان کے مطالبہ پر21نومبر کو شہر کے دھرنا چوک پر مہادھرنامنظم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

حیدرآباد میں آج منعقدہ گول میز (راؤنڈ ٹیبل) کانفرنس میں مسلم قائدین نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ان قائدین نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابات میں کامیابی کیلئے مسلمانوں سے کئی وعدے کئے تھے ان میں مسلمانوں کو12فیصد تحفظات کی فراہمی، کا وعدہ بھی شامل ہے تاہم دوسری طرف کے چند ر شیکھر راؤ، منظم انداز میں مسلمانوں کے حقوق میں تخفیف کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

تلنگانہ وقف بورڈ، ملک کا واحد بورڈ ہے جس کو مقفل کردیا گیا تھا۔اردو اکیڈیمی کی سرگرمیاں ماندپڑ گئی ہیں۔ ریاست بھر میں وقف اراضیات پر قبضوں کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تلنگانہ، ملک کی واحد ریاست ہے جہاں کے مسلمان، جو پہلے سے غریب ہیں، مزید غربت کا شکار ہوگئے۔

سی پی آئی کے سینئر قائد و سابق راجیہ سبھا ایم پی عزیز پاشاہ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومتوں پر دباؤ بنانے کا واحد راستہ پرامن احتجاج ہے۔ احتجاج کی وجہ سے ہم، اپنے مسائل کو حکومت کے علم میں لاسکتے ہیں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button