تلنگانہ حکومت فیول پر ویاٹ گھٹانے تیار نہیں؟

ریاستی حکومت، پٹرول پر 35.2 فیصد ویاٹ حاصل کررہی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام آدمی کو ایک لیٹر پٹرول خرید نے پر34روپے ریاستی حکومت کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح حکومت تلنگانہ ڈیزل پر 25فیصد ویاٹ چارج کررہی ہے۔

حیدرآباد: مرکزی حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں تخفیف کرنے کے بعد کئی ریاستی حکومتوں نے فیول پر ویاٹ کم کرتے ہوئے عوام کو بڑی راحت دی ہے مگر حکومت تلنگانہ نے تاحال فیول پر ویاٹ کی شرح میں کٹوتی نہیں کی ہے۔ ویاٹ سے متعلق چیف منسٹر آفس سے محکمہ کمرشیل ٹیکس کو کوئی تجویز وصول نہیں ہوئی ہے۔

ریاستی حکومت، پٹرول پر 35.2 فیصد ویاٹ حاصل کررہی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عام آدمی کو ایک لیٹر پٹرول خرید نے پر34روپے ریاستی حکومت کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح حکومت تلنگانہ ڈیزل پر 25فیصد ویاٹ چارج کررہی ہے یعنی ہر ایک لیٹر ڈیزل پر24 روپے سیدھا حکومت کے خزانہ میں جمع ہورہے ہیں۔

 ریاست تلنگانہ میں جملہ800 فیول آوٹ لیٹس ہیں جہاں سے یومیہ 40لاکھ لیٹر پٹرول اور 35لاکھ لیٹر ڈیزل فروخت کیا جاتا ہے۔ فیول پر ویاٹ کے ذریعہ حکومت، ماہانہ900کروڑ روپے کما رہی ہے۔ حکومت رواں مالیاتی سال ویاٹ کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے زائد منافع حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بڑھتے مالیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ویاٹ میں کٹوتی کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔

 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، آسرا وظائف کی تقسیم، رعیتو بندھو اور دلت بندھو اسکیمات پر عمل آوری کیلئے حکومت کو بھاری فنڈس چاہئے اس لئے وہ ویاٹ میں کٹوتی نہیں جائے گی۔ 2015 میں فیول پر ویاٹ میں اضافہ کیا گیا تھا تب سے اب تک ٹیکس ڈھانچہ ویسا ہی برقرار ہے۔ موجودہ حالات میں فیول پر ویاٹ میں کمی کا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button