ٹیلر کے قتل کی تحقیقات این آئی اے کے حوالے

مرکز نے قتل کو دہشت گردانہ واقعہ تصور کرتے ہوئے این آئی اے کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس وحشیانہ قتل کی وسیع تر تحقیقات کرے اور اس بات کا پتہ چلائے کہ اس میں کوئی تنظیم ملوث ہے یا پھر اس سنسنی خیز ہلاکت کے پس پردہ کوئی بیرونی عناصر کارفرما ہیں۔

اُدئے پور/ جئے پور / نئی دہلی: مرکز نے آج قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کو ہدایت دی کہ وہ اُدئے پور میں ایک ٹیلر کے وحشیانہ قتل کے کیس کی تحقیقات کا جائزہ حاصل کرلے جہاں 7  پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں کرفیو نافذ ہے جبکہ راجستھان کے تمام 33  اضلاع میں تشدد کے اکادکا واقعات کے بعد موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئی ہیں۔

 2  افراد کی جانب سے ٹیلر کنہیالال کے بہیمانہ قتل کے ایک دن بعد چیف منسٹراشوک گہلوت نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس معاملہ کا سنگین نوٹ لیا ہے اور قومی و بین الاقوامی سطح کے کٹر عناصر کے ملوث ہوئے بغیر ایسے واقعات رونما نہیں ہوسکتے۔

 واضح رہے کہ دونوں قاتلوں نے اس واقعہ کا ویڈیو بھی بنالیا تھا اور اسے وائرل کردیا تھا۔ کنہیالال کی نعش آج پوسٹ مارٹم کے بعد اس کے ارکان خاندان کے حوالہ کردی گئی۔ اُدئے پور کے سیکٹر 14 میں واقع اس کے مکان سے سخت سیکوریٹی انتظامات کے درمیان ارتھی جلوس نکالا گیا جس میں سینکڑوں مقامی افراد شامل ہوئے۔

 قائد اپوزیشن گلاب چند کٹاریہ نے بھی ٹیلر کے مکان کا دورہ کیا۔ گہلوت نے ریاستی وزیر داخلہ راجندر یادو‘ چیف سکریٹری اوشا شرما‘ ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ‘ ڈی جی پی‘ ڈی جی انٹلیجنس اور دیگر سینئر عہدیداروں کے ساتھ آج دوپہر جئے پور میں جائزہ اجلاس منعقد کیا۔

 مرکز نے قتل کو دہشت گردانہ واقعہ تصور کرتے ہوئے این آئی اے کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس وحشیانہ قتل کی وسیع تر تحقیقات کرے اور اس بات کا پتہ چلائے کہ اس میں کوئی تنظیم ملوث ہے یا پھر اس سنسنی خیز ہلاکت کے پس پردہ کوئی بیرونی عناصر کارفرما ہیں۔

وزارت ِ داخلہ کے ایک ترجمان نے ٹویٹر پر بتایا کہ وزارت ِ داخلہ نے منگل کی رات ایک تحقیقاتی ٹیم کو راجستھان روانہ کیا ہے۔ راجستھان پولیس نے دونوں افراد کی گرفتاری کے فوری بعد ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)  کا اعلان کیا تھا۔ ان دونوں کی ریاض اختری اور غوث محمد کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے۔

 اختری نے اپنے ایک ویڈیو کلپ میں اعلان کیا تھا کہ اس نے اس شحص کا سر قلم کیا ہے اور وزیراعظم نریند رمودی کو بھی دھمکی دی تھی۔ حملہ آوروں نے بالواسطہ طورپر بی جے پی کی معطل ترجمان گستاخ رسول ؐ نپور شرما کا بھی حوالہ دیا تھا۔

مقامی پولیس نے سوشیل میڈیا پر ایک پوسٹ کے سلسلہ میں کنہیالال کو حال ہی میں گرفتار کیا تھا۔ 15 جون کو گرفتاری کے بعد اسے ضمانت مل گئی تھی۔ قتل کے بعد مقامی ایس ایچ او نے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو لاپرواہی برتنے کے الزام میں معطل کردیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button