ٹی آرایس کوبی آرایس میں تبدیل کرنے کافیصلہ موخر

بتایا جارہاہے کہ چیف منسٹر20جولائی سے اضلاع کا دورہ شروع کریں گے۔ہر ضلع میں پارٹی قائدین وکارکنوں سے خطاب کریں گے۔ حالیہ عرصہ کے دوران ضلعی سطح پر ٹی آر ایس قائدین میں ایک دوسرے کونیچاد کھانے کے کئی واقعات سامنے آئے۔

حیدرآباد: ٹی آرایس سربراہ کے چندرشیکھرراؤ کی جانب سے بھارتیہ راشٹراسمیتی (بی آارایس) تشکیل دینے کے اپنے فیصلہ کوموخر کردیئے جانے کی اطلاع ہے۔ واضح رہے کہ کے سی آرنے قومی سیاست میں اہم کردارادا کرنے کے لئے ٹی آرایس کو بی آرایس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

 پارٹی ذرائع کے مطابق اب ٹی آرایس کو بی آرایس میں تبدیل نہیں کیاجائے گا۔چیف منسٹرنے اب پارٹی قائدین کی ناراضگیوں کودور کرتے ہوئے آئندہ اسمبلی انتخابات پر توجہ مرکوز کرنے کاذہن بنالیاہے۔ کے سی آر حکومت کیخلاف عوام میں پائی جارہی تشویش اور پارٹی میں جاری مبینہ خلفشار کودور کرنے کے بعد ہی بھارتیہ راشٹراسمیتی کے متعلق غور کریں گے۔

گزشتہ ماہ پرگتی بھون میں پارٹی کے اہم قائدین کے ساتھ ہوئے اجلاس میں ٹی آرایس کوبی آرایس میں تبدیل کرنے کی تجویزپیش کی گئی اور کچھ روزاس تجویز کو عملی جامہ پہنچانے کی کوشش کی گئی مگر حالیہ عرصہ میں ریاست کی سیاسی صورتحال میں رونماء ہوئی تبدیلیوں کے باعث اس فیصلہ کو کچھ عرصہ تک موخرکر دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔

بتایا جارہاہے کہ چیف منسٹر20جولائی سے اضلاع کا دورہ شروع کریں گے۔ہر ضلع میں پارٹی قائدین وکارکنوں سے خطاب کریں گے۔ حالیہ عرصہ کے دوران ضلعی سطح پر ٹی آر ایس قائدین میں ایک دوسرے کونیچاد کھانے کے کئی واقعات سامنے آئے۔ کئی قائدین نے دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیارکرنے کا ذہن بنالیاہے۔

چیف منسٹرحالات کوبدلتے ہوئے پارٹی قائدین کوسمجھانے کے لئے اضلاع کے دورے پرجانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ کے سی آر اور سیاسی حکمت عملی سازپرشانت کشور بی آرایس کے قیام پر کام کررہے تھے۔

اسی لئے کے سی آر اورکے ٹی آر نے وزیر اعظم نریندر مودی اوربی جے پی کے خلاف لفظی جنگ شروع کردی تھی۔ دوسری طرف بی جے پی نے کے سی آر کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی حملہ کردیا۔ بی جے پی کے جوابی حملہ کی وجہ سے اضلاع اوردیہاتوں میں کے سی آر اور ٹی آرایس حکومت کے خلاف عوام میں ناراضگی بڑھنے لگی تھی۔

بی جے پی قیادت کے ٹارگٹ تلنگانہ مہم کے بعدکے سی آر اپنے بی آرایس منصوبہ کے متعلق ازسرنوطورپر جائزہ لینے کے لئے مجبور ہوگئے۔اب ان کی ساری کوشش ٹی آر ایس قائدین میں جاری رسہ کشی کوختم کرنے اورریاست میں بی جے پی کے بڑھتے قدم کوروکنے پرمرکوزہوگئی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button