ٹی آر ایس کے گجراتی ٹویٹس پر بی جے پی کا اردو میں جواب

سوشل میڈیا پر بی جے پی اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی(ٹی آر ایس) کے درمیان الفاظ کی جنگ نے نیا موڑ اس وقت لے لیا جب زعفرانی پارٹی نے تلنگانہ کی حکمراں جماعت کے حملہ کا جواب دینے کیلئے اردو زبان کا استعمال کیا۔

حیدرآباد: سوشل میڈیا پر بی جے پی اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی(ٹی آر ایس) کے درمیان الفاظ کی جنگ نے نیا موڑ اس وقت لے لیا جب زعفرانی پارٹی نے تلنگانہ کی حکمراں جماعت کے حملہ کا جواب دینے کیلئے اردو زبان کا استعمال کیا۔

بعد ازاں ٹی آرا یس نے وزیر اعظم نریندرمودی اور بی جے پی کو گجراتی زبان میں حکومت تلنگانہ کی کامیابیوں سے واقف کرایا۔ بی جے پی نے اردو میں سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے ریاستی (کے سی آر) حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا تھا۔

اس کا جواب دینے کیلئے ٹی آر ایس نے وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ کی مادری زبان گجراتی کا استعمال کیا۔ بی جے پی تلنگانہ یونٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ ”ریاست کے عوام آپ سے مایوس ہیں مسٹر کے سی آر!۔ آپ، عوام کے مسائل سے بے بہرہ ہوچکے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ اگر کے سی آر اور دارالسلام کے سوپر چیف منسٹر کو ہم ان کی پسندیدہ و ترجیحی زبان میں بولتے ہیں تب وہ سنتے ہیں۔

بھگوا جماعت نے اردو میں سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے کے سی آر اور ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو پیش کیا اور کہاکہ خوشحال تلنگانہ، قرض کے دلدل میں پھنس گیا ہے۔یاددلایا ہے کہ کے سی آر نے دلتوں کو فی کس 3 ایکر اراضی دینے اور تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر دلت کو بنانے کا وعدہ کو فراموش کردیا۔

بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس کے وزراء اور قائدین، کرپشن میں ملوث ہیں۔ تلنگانہ میں اظہار خیال کی آزادی نہیں ہے۔ریاست میں کے سی آر کا دستور ہی نافذ ہے۔ قبل ازیں ٹی آر ایس نے گجراتی زبان میں حکومت تلنگانہ کی 15 اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا اور کہاکہ مودی جی! اور اُن کی پارٹی نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے ترقیاتی کاموں کی ستائش نہیں کی۔

اس لئے ہم، تلنگانہ کی اہم کامیابیوں کو وزیر اعظم کی پسندیدہ زبان گجراتی میں پیش کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس نے ٹویٹ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ گجراتی زبان میں ٹویٹ کرتے ہوئے ٹی آر ایس نے بتایاکہ تلنگانہ ملک کی چوتھی ریاست ہے جس کا ملک کی معیشت میں اہم رول ہے۔

اس میں دعویٰ کیا گیا کہ فی کس آمدنی میں تلنگانہ کی شرح ترقی تیز رہی ہے۔ آئی ٹی شعبہ میں تلنگانہ تیزی کے ساتھ ترقی کررہی ہے اور تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں کسانوں کو ہفتہ کے 24 گھنٹے برقی مسلسل مفت سربراہ کی جارہی ہے۔ چند دنوں قبل صدر ریاستی بی جے پی بنڈی سنجے نے یہ کہاتھا کہ ریاست میں برسراقتدار آنے کے بعد بی جے پی، دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اردو کے چلن پر امتناع عائد کردے گی۔

تبصرہ کریں

Back to top button