ٹی ایم سی کی مہواموئترا اور بی جے پی کی نوپور شرما

مہوا موئترا نے مذکورہ انٹرویو میں ببانگِ دہل کہا کہ ”میں بی جے پی کو چیلنج کرتی ہوں کہ میں جو کہہ رہی ہوں اسے وہ غلط ثابت کرے۔ بنگال میں جہاں بھی وہ میرے خلاف مقدمہ درج کریں گے، 5 کلومیٹر کے فاصلے پر وہ ایک کالی مندر دیکھیں گے جہاں دیوی کی پوجا گوشت اور شراب سے کی جاتی ہے۔‘‘ ۔ انہوں نے دیگر ریاستوں میں اس طرح کے کئی مندروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں کافی مندر ہیں جنہیں وہ ٹھوس ثبوت کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں اجین کے کال بھیرو مندر اور کامکھیا مندر جیسے مندران کے دعوے کے مضبوط ثبوت ہیں۔ وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ میں غلط نہیں ہیں ۔ مہوا موئترا نے آگے بڑھ کرآسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما سے سوال کیا کہ کیا وہ تحریری طور پر بتا سکتے ہیں کہ کامکھیا مندر کے صدر دیوتا کو کیا چڑھایا جاتا ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ان مندروں میں شراب نہیں پیش کی جاتی؟ اپنا حملہ تیز کرتے ہوئے وہ بولیں بی جے پی ان کو زیر کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ اس کے خلاف ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ یہ ہتھکنڈے کام نہیں آئیں گے۔ اس طرح گویا بی جے پی جس معاملہ کو مذہبی عقیدت سے جوڑ رہی تھی اس کو مہوا نے سیاسی حربہ قرار دے دیا ۔

ڈاکٹر سلیم خان

نوپور شرما کا معاملہ ابھی سرد نہیں ہوا تھا کہ مہوا موئترا کا تنازع گرما گیا ۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں فلم ‘کالی’ کے پوسٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ماں کالی ایک ایسی دیوی ہے جو گوشت کھاتی ہے اور شراب قبول کرتی ہے۔ اس بیان کو ہندووں کے ایک طبقہ نے کالی دیوی کی توہین قرار دے دیا۔ اس تنازع کا پس منظر یہ ہے کہ ٹورنٹو میں رہائش پذیر فلم ساز لینا منی میکالائی نے 2؍ جولائی کو اپنی دستاویزی فلم کا پوسٹر جاری کیا جس میں کالی دیوی کو سگریٹ پیتے دکھایا گیا تھا۔ اس پوسٹر کی نمائش کی مخالفت ہونے لگی اور لینا منی میکالائی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا میں ہندوستانی سفارتخانے نے پوسٹر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔پوسٹر اور فلم کی مخالفین کا دعویٰ ہے کہ اس سے دیوی کی توہین ہوتی ہے اور ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں لہذا فلم ساز کو گرفتار کیا جائے نیزفلم پر پابندی عائد کی جائے۔
یہ معاملہ بہت جلد ذرائع ابلاغ سے اٹھ کر عدالت کی چوکھٹ پر پہنچ گیا ۔دہلی میں ایک وکیل ونیت جندل اور ہندو تنظیم گئو مہاسبھا کے رکن اجے گوتم نے نے فلمساز کے خلاف پولیس میں دیوی کی توہین اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی شکایت درج کرائی ہے۔دہلی پولیس لینا منی میکلائی پر آئی پی سی کی دفعہ 153-A/295-A کے تحت مقدمہ درج کرلیا ۔ اس معاملے میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ لینا منی کے بجائے مہوا موئیتراپر بھڑک گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔مہوا کے خلاف مدھیہ پردیش کے اندر بھوپال پولیس کی کرائم برانچ نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ایف آئی آر درج کرلی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایک بھوپالی شہری کی شکایت پر رکن پارلیمان پر دفعہ 295 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ۔ اس کے باوجود ٹی ایم سی کی رکن پارلیمان مہوا موئترا نے ایک نجی میڈیا چینل پر اپنے موقف کو دوہرا تے ہوئے بی جے پی اور اس کے حامیوں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ انہیں غلط ثابت کرکے دکھائیں ۔
مہوا موئترا نے مذکورہ انٹرویو میں ببانگِ دہل کہا کہ ”میں بی جے پی کو چیلنج کرتی ہوں کہ میں جو کہہ رہی ہوں اسے وہ غلط ثابت کرے۔ بنگال میں جہاں بھی وہ میرے خلاف مقدمہ درج کریں گے، 5 کلومیٹر کے فاصلے پر وہ ایک کالی مندر دیکھیں گے جہاں دیوی کی پوجا گوشت اور شراب سے کی جاتی ہے۔‘‘ ۔ انہوں نے دیگر ریاستوں میں اس طرح کے کئی مندروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں کافی مندر ہیں جنہیں وہ ٹھوس ثبوت کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں اجین کے کال بھیرو مندر اور کامکھیا مندر جیسے مندران کے دعوے کے مضبوط ثبوت ہیں۔ وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ میں غلط نہیں ہیں ۔ مہوا موئترا نے آگے بڑھ کرآسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما سے سوال کیا کہ کیا وہ تحریری طور پر بتا سکتے ہیں کہ کامکھیا مندر کے صدر دیوتا کو کیا چڑھایا جاتا ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ان مندروں میں شراب نہیں پیش کی جاتی؟ اپنا حملہ تیز کرتے ہوئے وہ بولیں بی جے پی ان کو زیر کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ اس کے خلاف ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ یہ ہتھکنڈے کام نہیں آئیں گے۔ اس طرح گویا بی جے پی جس معاملہ کو مذہبی عقیدت سے جوڑ رہی تھی اس کو مہوا نے سیاسی حربہ قرار دے دیا ۔
مہوا موئترا کے اس موقف سے مغربی بنگال کے شہروں میں بسنے والے شمالی ہندوستان کے باشندوں میں ناراضی پیدا ہوئی ہوگی ۔ اس کے سیاسی نقصان سے خود بچانے کی خاطر مہواکی پارٹی ترنمول کانگریس نے مذکورہ بیان کو مہوا کا ذاتی خیال کہہ کر کنارہ کشی تو اختیار کی مگر جس طرح نوپور پر بی جے پی نے کارروائی کی ایسا کچھ نہیں کی ۔ نہ تو مہوا معطل کیا گیا اور نہ کسی عہدے سے ہٹایا گیا۔ ٹی ایم سی نے بی جے پی کی طرح اپنے دستور کا حوالہ دے کر صفائی بھی پیش نہیں کی۔ نوپور کی مانند مہوا موئترا نے معافی مانگنے پر مجبور نہیں کیا گیا جبکہ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں یہاں تک کہہ دیا کہ ”بی جے پی کو لے آؤ! میں ایک کالی پوجا کرنے والی ہوں، میں کسی چیز سے نہیں ڈرتی، تمہاری جاہلانہ حرکتوں سے نہیں، تمہارے غنڈوں سے نہیں، تمہاری پولیس سے بھی نہیں۔” مقدمات کے باوجود وہ نہ تو روپوش ہوئیں اور سپریم کورٹ میں جاکر رسوائی مول لی۔ بی جے پی بھی ان گرفتار کرنے ہمت نہیں جٹا سکی۔ ان کا موازنہ جب نوپور شرما سے کیا گیا تومہوا نے کہا کہ ، شرما نے اپنے تبصروں کے ذریعے پیغمبر کی توہین کی تھی جبکہ وہ تودیوی کالی کا جشن منا رہی ہیں ۔
مہوا موئترا کی ہمت اور دلیری کےآگے بی جے پی بے بس ہوگئی ۔ انہوں نے اپنے موقف کی تائید میں کہا کہ اس معاملے میں ان کاعمل ایک باشعور سیاستدان کا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بی جے پی ہندو دیوتاؤں کی محافظ نہیں ہے اور نہ ہی زعفرانی پارٹی بنگالیوں کو کالی دیوی کی پوجا کرنا سکھانا چاہیے۔مہوا نے سوال کیا کہ ، ’’ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندو ازم کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟‘‘اور یہ بھی کہا کہ بھگوان رام اور بھگوان ہنومان کا تعلق صرف بی جے پی سے نہیں ہے۔ا س معاملے اندیشہ تھا بی جے پی ان کو مدافعت پر مجبور کردے گی الٹا ہوگیاکیونکہ ٹی ایم سی رہنما نے سیدھے سنگھ پریوار پر حملہ بول دیا ۔ انہوں نے کہا ، ’’ایک طویل عرصے سے ہم بی جے پی کے ہندو ازم والے ورژن کو مسلط کرنے سے روک رہے ہیں کیونکہ وہ شمالی ہندوستان کے قائم کردہ اصولوں پر مبنی ہے‘‘۔ مہوا موئترا نے بی جے پی مشورہ دیا کہ وہ اس بیانیہ کو ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے باشندوں پر مسلط کرنے سے گریز کرے۔ مہوا کے اس سوال کا سنگھ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ کالی دیوی کی پوجا کیسے کی جاتی ہے؟ ہمیں یہ سکھانے والی بی جے پی کون ہے؟
ٹی ایم سی رکن پارلیمان نے بی جے پی اپنے ہندو مذہب کے بہت ہی محدود تصور کی بنیاد پر پوسٹر کے خلاف اعتراض کرنے کا الزام لگایا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ہندو مت کا یک رخا، شمال مرکوز، برہمنی اور پدرانہ نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور دیوی کالی کی تمباکو نوشی والے پوسٹر پر اعتراض اس غلط بیانیہ کی ترویج و اشاعت کاایک ذریعہ ہے۔ مہوا موئترا کے اس سخت ردعمل نے بی جے پی کو ان کی گرفتاری باز رکھا اور اپنے سارے شور شرابے کے باوجود وہ مدافعت میں چلی گئی۔ اس معاملہ میں زعفرانیوں کو کینیڈا تو دور خود مل بھر میں بھی خاطر خواہ حمایت نہیں مل سکی۔ نوپور شرما کے خلاف سارے عالم میں جس طرح کے مظاہرے اور احتجاج ہوئے اس کا عشرِ عشیر بھی مہوا کے خلاف نہیں ہوسکا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت اب اس معاملے کو رفع دفع کرنے کے فراق میں ہے۔
مہوا موئترا تو خیر ایک صوبے میں برسرِ اقتدار پارٹی ترنمول کی رکن پارلیمان ہیں لیکن جنوبی بھارت کے مدورائی میں پیدا ہونے والی منی میکالائی کے پیچھے کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں ہے۔ وہ تو ہنوز ٹورنٹو میں زیر تعلیم ہیں ۔ ان کے خلاف نہ صرف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ انہیں طرح طرح سے ڈرایا دھمکایا گیا لیکن وہ بھی خوفزدہ نہیں ہوئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "وہ دیوی کے جس کردار کو اپنی فلم میں دکھارہی ہیں وہ کالی کے متنوع احترام کا پیکر اور انسانیت کا روپ ہے۔” اپنی دستاویزی فلم کی تفصیل بتاتے ہوئے منی میکالائی کہتی ہیں کہ ان کا مرکزی کردار کالی کا بھیس بناکر ٹورنٹو کی گلیوں میں گھومتا ہے ۔ اس کے ایک ہاتھ میں پرائڈ فلیگ اور ایک ہاتھ میں کیمرہ ہے اور وہ ملک کے حقیقی باشندوں، افریقی، ایشیائی، فارسی نژاد لوگوں سے ملاقات کاہے ۔ کینیڈا کے اس چھوٹی سی دنیا میں رہنے والے یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے۔ فلم میں اسی کو ‘شوٹ’کیا گیا ہے۔منی میکلائی کے مطابق فلم میں کالی ان کی روح کا انتخاب ہیں۔
فلم کے علاوہ پوسٹر کے بارے میں منی میکلائی نے یہ وضاحت کی کہ اس میں جو تصویر ہے وہ دیوی کے پیارکی علامت ہے۔ وہ ایک مارکیٹ کے قریب سڑک پر رہنے والے ایک مزدور کی جانب سے پیش کردہ سگریٹ کو قبول کرتی ہیں۔ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج ، دھمکیوں اور مقدمات کا منی میکلائی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ انہوں نے بھی نہ خود کو غیر محفوظ کہہ کر وائی پلس سیکیورٹی کا مطالبہ کیا اور نہ روپوش ہونے کی ضرورت محسوس کی بلکہ اس تنازعے پر ٹوئٹ کرکے ببانگِ دہل اعلان کیا کہ ، "میرے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میں ایک ایسی آواز کے ساتھ جینا چاہتی ہوں جو کسی خوف کے بغیر بولتی ہے۔ اگر اس کی قیمت میری جان ہے تو میں اسے دے دوں گی۔ ” سنگھ پریوار اپنی صد سالہ تاریخ میں اس طرح کی دلیری کا ایک بار بھی مظاہرہ نہیں کرسکا یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مصمم ارادے کے ساتھ ان کے مدمقابل آتا ہے یہ کاغذی شیر منی میکلائی یا مہوا مترا کا بال بیکا نہیں کرپاتا بلکہ بھیگی بلی بن جاتا ہے ۔ کالی دیوی کے پوسٹر تنازع نے پھر ایک بار اس حقیقت کو بے نقاب کردیا۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button