پاکستان میں اسلام کے مطابق کچھ بھی نہیں ہورہا ہے: جسٹس فیض عیسیٰ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعرات کے دن سوال اٹھایا کہ وزیراعظم سرکاری ملازمین کو 2 پلاٹ کیسے دے سکتے ہیں۔ غریبوں کو ایک پلاٹ بھی نہیں ملتا جبکہ امیروں کو کئی پلاٹ مل جاتے ہیں۔

اسلام آباد: پاکستانی سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فیض عیسیٰ نے ریمارک کیا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے لیکن ملک میں اسلام کے مطابق کچھ بھی نہیں ہورہا ہے۔ وہ پاک فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤزنگ فاؤنڈیشن میں پلاٹس کے الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کررہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنرلوں کو پلاٹ دیئے جاتے ہیں‘ کیا انہیں تنخواہ نہیں ملتی؟۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سلم علاقوں (کچی بستیوں) میں غریب لوگ جینے کے لئے چھوٹے کمرے تعمیر کرلیتے ہیں۔ ملک میں صرف امیروں کو پلاٹ ملتے ہیں‘ غریبوں کو پلاٹ کوئی بھی نہیں دیتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعرات کے دن سوال اٹھایا کہ وزیراعظم سرکاری ملازمین کو 2 پلاٹ کیسے دے سکتے ہیں۔ غریبوں کو ایک پلاٹ بھی نہیں ملتا جبکہ امیروں کو کئی پلاٹ مل جاتے ہیں۔ دی ایکسپریس ٹریبون نے یہ اطلاع دی۔ جسٹس عیسیٰ نے ایک اخباری اطلاع کا حوالہ دیا کہ ایک سکریٹری کو 2 پلاٹ دیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پلاٹس کے الاٹمنٹ کے لئے کوئی قواعد و ضوابط نہیں ہیں۔ ایمپلائز ہاؤزنگ فاؤنڈیشن کے وکیل نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا کہ 2پلاٹ سابق میں دیئے جاتے تھے لیکن 2006کے بعد کسی کو بھی 2 پلاٹ الاٹ نہیں کئے گئے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button