پاکستان میں کسی کو جہاد کیلئے فنڈس اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں: عدالت

لاہور ہائی کورٹ نے ایک ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کے لئے فنڈس اکٹھا کرنے کے خاطی قراردیئے گئے 2 دہشت گردوں کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ رولنگ دی ہے۔

لاہور: پاکستان میں کسی بھی فرد یا تنظیم کو جہاد کے لئے فنڈس حاصل کرنے کی خاطر عوام کو اکسانے کی اجازت نہیں اور اسے غداری تصور کیا جاتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ایک ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کے لئے فنڈس اکٹھا کرنے کے خاطی قراردیئے گئے 2 دہشت گردوں کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ رولنگ دی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں محمد ابراہیم اور عبیدالرحمن کی اپیلوں پر عدالت نے چہارشنبہ کے روز یہ رولنگ دی ہے۔

ان دونوں کو لاہور سے تقریباً 200 کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع سرگودھا میں گرفتار کیا گیا تھا اور دہشت گردی کے لئے فنڈس کی فراہمی کی پاداش میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انہیں جاریہ ماہ کے اوائل میں 5 سال کی سزائے قید سنائی تھی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی زیرصدارت 2 رکنی بنچ نے اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ (پاکستان) میں کسی بھی فرد یا تنظیم کو جہاد کے لئے فنڈس اکٹھا کرنے کی خاطر عوام کو اکسانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اسے غداری تصور کیا جاتا ہے۔

اگر جنگ کا اعلان ہو تو ضرورت پڑنے پر فنڈس اکٹھا کرنا حکومت کا کام ہے۔ کوئی فرد یا تنظیم یہ کام نہیں کرسکتی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button