پب جی کی مخالفت پر پورے خاندان کی ہلاکت، لاہور میں واقعہ

پنجاب پولیس نے بتایا کہ 19 جنوری 2022 کو لاہور میں ایک ماں اور تین بچوں کی گولیوں سے بھنی ہوئی نعشیں دستیاب ہوئیں۔ 40 سالہ ڈاکٹر ناہید مبارک اور ان کے تین بچے 16 سالہ ماہ نور، 8 سالہ جنت فاطمہ اور 21 سالہ تیمور کی نعشیں ان کے گھر میں دستیاب ہوئیں۔ قاتل ان کا 14 سالہ بیٹا زین نکلا۔

حیدرآباد: پاکستانی پنجاب کی پولیس نے آن لائن گیم پب جی پر امتناع عائد کرنے کیلئے حکومت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حال ہی میں پب جی کھیلنے کے عادی ایک لڑکے نے روک ٹوک پر اپنے پورے خاندان کا صفایا کردیا تھا۔

پنجاب پولیس نے بتایا کہ 19 جنوری 2022 کو لاہور میں ایک ماں اور تین بچوں کی گولیوں سے بھنی ہوئی نعشیں دستیاب ہوئیں۔ 40 سالہ ڈاکٹر ناہید مبارک اور ان کے تین بچے 16 سالہ ماہ نور، 8 سالہ جنت فاطمہ اور 21 سالہ تیمور کی نعشیں ان کے گھر میں دستیاب ہوئیں۔ قاتل ان کا 14 سالہ بیٹا زین نکلا۔

ابتدائی تحقیق میں اس بات کا پتہ چلا تھا کہ چند لوگوں کے ایک گروپ نے گھر میں داخل ہوکر خاندان کا صفایا کردیا تاہم پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس راؤ سردار علی خان نے اس کی ہر زاویہ سے تحقیقات کا حکم جاری کیا۔

تفصیلات میں انکشاف ہوا کہ زین نے اپنے خاندان کا قتل کردیا کیونکہ ارکان خاندان اسے پب جی کھیلنے سے روکتے تھے۔ تناؤ کا شکار ہوکر اس نے اپنے مکان میں تمام لوگوں کو قریب سے گولیاں مارکر ہلاک کردیا۔

تحقیقاتی افسر کا کہنا ہے کہ زین نے اپنی ماں اور تینوں بھائی بہنوں پر گولیاں چلادی۔ تحقیقات کے دوران وہ مسلسل پولیس کو گمراہ کرتا رہا۔

ایک سینئر پولیس عہدیدار نے بتایا کہ واقعہ کے دن زین اپنے حواس کھو چکا تھا کیونکہ مسلسل کئی گھنٹوں تک پب جی کھیلنے کے بعد بھی وہ اپنا ہدف مکمل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

اس نے اپنی والدہ کا پستول نکالا اور اس کمرہ میں پہنچا جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ سورہی تھیں۔ پولیس نے زین کو گرفتار کرلیا ہے اور اب وہ پب جی پر پابندی عائد کرنے کیلئے حکومت سے درخواست کرنے پر غور کررہی ہے۔

گذشتہ سال اپریل میں بھی لاہور میں ہی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا جہاں ایک شخص نے پب جی کھیلنے سے روکنے پر اپنے بھائی، بہن، بہنوئی اور ایک دوست کا قتل کردیا تھا۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button