پروفیسر گوپی چند نارنگ اور ابرار کرت پوری کے سانحات ارتحال پر

اردو دنیا کو جون کے اس مہینے میں دو غیرمعمولی جھٹکے لگے۔ پہلا تو یہ کہ 15 جون کو امریکہ میں اردو دانشوری کی مہتم بالشان روایت کی علامت پروفیسر گوپی چند نارنگ نے آخری سانسیں لیں، دوسری طرف ہمارے عہد میں اردو میں حمد و نعت کے ایک ممتاز ترین شاعر ابرار کرت پوری نے 18 جون کو اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ کی ذات ہمارے زمانے میں اس لائٹ ہاؤس کی سی تھی جو نوواردانِ بساطِ ادب کو روشنی دکھاتا اور منزل تک پہنچنے کا راستہ بتاتا ہے۔ نارنگ صاحب اردو زبان، ادب اور تہذیب کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ ان کی ذات اور شہرت صرف برصغیر تک محدود نہیں تھی بلکہ جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں وہ قدر و منزلت سے یاد کیے جاتے اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے۔

پروفیسر اخترالواسع

اردو دنیا کو جون کے اس مہینے میں دو غیرمعمولی جھٹکے لگے۔ پہلا تو یہ کہ 15 جون کو امریکہ میں اردو دانشوری کی مہتم بالشان روایت کی علامت پروفیسر گوپی چند نارنگ نے آخری سانسیں لیں، دوسری طرف ہمارے عہد میں اردو میں حمد و نعت کے ایک ممتاز ترین شاعر ابرار کرت پوری نے 18 جون کو اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ کی ذات ہمارے زمانے میں اس لائٹ ہاؤس کی سی تھی جو نوواردانِ بساطِ ادب کو روشنی دکھاتا اور منزل تک پہنچنے کا راستہ بتاتا ہے۔ نارنگ صاحب اردو زبان، ادب اور تہذیب کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ ان کی ذات اور شہرت صرف برصغیر تک محدود نہیں تھی بلکہ جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے وہاں وہاں وہ قدر و منزلت سے یاد کیے جاتے اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے۔
نارنگ صاحب 1931 میں پیدا تو آج پاکستان کے بلوچستان میں ہوئے تھے، ان کی مادری زبان سرائیکی تھی۔ لیکن ان کا اردو سے تعلق اور عشق غیرمعمولی تھا۔ انہوں نے زبان و ادب کے شناور، ماہر لسانیات اور اہم ترین نقاد کی حیثیت سے جو کام کیے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ دہلی کی کرخنداری زبان پر ان کا کام ہو یا پھر اردو کی تہذیبی روایت یا پھر ہماری جدوجہد آزادی میں اردو کا رول یا میرؔ، غالبؔ اور اکبرؔالہ آبادی پر ان کا کام۔ بعد ازاں ساختیات اور پسِ ساختیات، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر ان کے علمی تصرفات انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
نارنگ صاحب نے اپنا تعلیمی اور تدریسی سفر دہلی یونیورسٹی سے شروع کیا اور بعد میں وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں پروفیسر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب جامعہ میں زبان و ادب کی تدریس اور تعلیم کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی۔ جب شعبۂ اردو کے سربراہ پروفیسر گوپی چند نارنگ تھے اور شعبۂ ہندی کی سربراہی پروفیسر مجیب رضوی کر رہے تھے اور اس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں نے بڑی خاموشی اور سلیقے سے دنیا کو ایک پیغام دیا کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے اور زبانیں سمواد (مکالمہ) کے لیے ہوتی ہیں وِواد (تنازعہ) کے لیے نہیں۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ سے راقم الحروف کا نیاز مندی کا رشتہ علی گڑھ میں طالب علمی کے زمانے ہی سے قائم ہو گیا تھا جب وہ انتظار حسین اور احمد ہمیش کو لے کر علی گڑھ آئے تھے اور ان سب کا استقبال نہ صرف شعبۂ اردو میں ہوا بلکہ اس وقت کی اسٹوڈینٹ یونین نے بھی اپنے اس وقت کے صدر جاوید حبیب مرحوم کی سربراہی میں ان کے اعزاز میں ایک جلسہ منعقد کیا تھا۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ علی گڑھ والوں کو کتنے عزیز تھے اور وہ خود بھی خلیل الرحمن اعظمی، شہریار جیسے لوگوں سے کیسا تعلق خاطر رکھتے تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ خلیل الرحمن اعظمی مرحوم کی سفارش پر ہی نارنگ صاحب، شمیم حنفی صاحب اور قاضی عبید الرحمن ہاشمی کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو میں لے کر آئے۔ اس کے بعد وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اس سلیکشن کمیٹی میں ڈین کی حیثیت سے شریک تھے جس میں میرا تقرر شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں لیکچرر کی حیثیت سے ہوا تھا۔ بعد ازاں مجھے جب دہلی اردو اکیڈمی کا وائس چیئرمین بنایا گیا تو مجھے یہ جان کر تعجب ہوا کہ نارنگ صاحب کو اس وقت تک بہادر شاہ ظفر ایوارڈ نہیں دیا گیا تھا۔ بہرحال یہ سعادت میرے حصے میں آنی تھی تو میری تجویز پر دہلی اردو اکیڈمی نے یہ اعزاز ان کی خدمت میںپیش کیا جس کا وہ بڑی محبت کے ساتھ ہمیشہ تذکرہ کرتے تھے۔
نارنگ صاحب کے زمانۂ صدات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو کو جو ناموری حاصل ہوئی وہ اُس زمانے کے شاید کسی دوسرے شعبے کو حاصل نہیں ہوئی۔ نارنگ صاحب ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں نہ صرف اردو زبان و ادب بلکہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے اپنے تمام بڑے اعزازات سے سرفراز کیا اور اس طرح نارنگ صاحب اردو کے حوالے سے برصغیر میں بالخصوص ہندوستان اور پاکستان میں ایک پُل کا کام کر رہے تھے اور اس طرح یہ ثابت کر رہے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کو جوڑنے میں، ایک دوسرے کے قریب لانے میں اردو ایک غیرمعمولی رول انجام دے سکتی ہے۔ہندوستان اور پاکستان ہی کیا اردو کی جو نئی بستیاں وجود میں آ رہی تھیں، نارنگ صاحب سب کے لیے محبوب اور دلنواز شخصیت کے مالک تھے۔ دنیا میں اردو کا کون سا ایسا ادارہ یا انجمن تھی جو نارنگ صاحب کو اپنا نہ سمجھتی ہو اور نارنگ صاحب سے کس کے تعلقات نہ ہوں۔
نارنگ صاحب کے ادبی انجمنوں اور اداروں سے سارے تعلقات اپنی جگہ لیکن میری نظر میں اردو والے کی حیثیت سے ساہتیہ اکیڈمی میں رسمی انتخاب کے ذریعے پہلے نائب صدارت اور بعد میں مسند صدارت پر ان کا متمکن ہونا غیرمعمولی بات تھی۔ یہ پروفیسر گوپی چند نارنگ کا وجدان، عزم اور حوصلہ ہی تھا جس نے ایک ایسے زمانے میں جب اردو پر ہندوستان بالخصوص شمالی ہند میں زمین تنگ کی جا رہی تھی، اسے دیس نکالا دیا جا رہا تھا، نارنگ صاحب نے ساہتیہ اکیڈمی میں اعلیٰ ترین مناسب تک اردو کو پہنچا کر وہ کام کیا جو بظاہر ناممکنات میں نظر آتا تھا۔ انہوں نے اپنے زمانہ صدارت میں انتظار حسین کو ساہتیہ اکیڈمی کا فیلو بنا کر انتہائی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کو ایک بار پھر لوگوں کو جتا دیا کہ زبان اور ادب کسی سرحد کی پابند نہیں ہوتیں۔ نارنگ صاحب اردو زبان و ادب کے ایسے شیدائی تھے جو اردو کو اس کے رسم الخط کے ساتھ پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنوں اور غیروں دونوں سے لوہا لیا اور اردو کا رسم خط بدل دیا جائے اس کے لیے وہ کبھی تیار نہ ہوئے۔ نارنگ صاحب کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے انگریزی زبان میں بھی اردو ادب خاص طور پر میرؔ اور غالبؔ کو جس طرح متعارف کرایا وہ انہیں کا حصہ ہے۔
آج نارنگ صاحب ہمارے بیچ میں نہیں رہے تو جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پُر ہونے والا نہیں ہے۔ ان جیسا ہمہ جہت کثیرالاوصاف دانشور اردو میں اب جلد ہی منظر عام پر آنے والا نہیں لگتا۔ یہ صحیح ہے کہ بعض لوگوں کے لیے گوپی چند نارنگ صاحب کی شخصیت نزاعی تھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اسی سے نارنگ صاحب کی عبقریت اور گوں نا گوں خصوصیات کی حامل مقناطیسی شخصیت کا پتا چلتا ہے۔
ابھی پروفیسر گوپی چند نارنگ کی وفات کے صدمے سے ابھر بھی نہ پائے تھے کہ دہلی کی شعری و ادبی سرگرمیوں کے وابستہ ایک سرگرم اور منفرد شاعر قاری ابرارکرت پوری کا 83سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ قاضی ابرار کرت پوری کرت پور ضلع بجنور کے ایک علم دوست خاندان میں پیدا ہوئے اور وہ اپنے والد کے انتقال کے بعد دہلی آگئے جہاں دہلی یونیورسٹی کے دیال سنگھ کالج میں غیر تدریسی عملے میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے دورانِ ملازمت ہی دہلی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ اگرچہ انہوں نے اپنا شعری سفر غزل گوئی سے شروع کیا تھا لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنے آپ کو نعت اور حمد کہنے کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے شعری مجموعوں ورفعنا لک ذکرک، مدحت، حرف حرف حمد و ثنا، بعد از خدا، شہر علم اور حمدیہ کلام کے مجموعوںمیں خالق ذوالجلال، قسام ازل، حمد کہوں تو اجیارااور غزوات وہ کتابیں ہیں جو دینی ادب میں ان کے افکار و خیالات کو زندہ رکھنے کا سبب بنی رہیں گی۔ ابرار کرت پوری مرحوم کے انتقال کی خبر مجھ تک درد دہلوی کے ذریعے پہنچی اور مجھے ابرار کرت پوری مرحوم پر سب سے اچھا مضمون جس میں تحسین سخن شناس بھی تھی اور ان کے فنی کمالات کا اعتراف ۔ میرے محب گرامی قدر مشہور صحافی اور شاعر جناب ندیم صدیقی صاحب ممبئی نے تحریر کیا تھا اور میں ندیم صدیقی صاحب کے اس بیان کی صدق دلی سے تائید کرتا ہوں کہ ’’ابرار کرت پوری ایک اچھے مشاق شاعر کے ساتھ غیور اور عزت ِنفس کے پاسدار شاعر تھے اور کم از کم دہلی میں وہ کوئی بے ذوق ہی ہوگا جو ان کے جملہ اوصاف کے ساتھ ان سے متعارف نہ ہو۔‘‘ خدائے بزرگ و برتر اپنے حبیب کے صدقے میں اللہ اور اس کے رسولؐ اور ان کے صحابہ سے محبت رکھنے والے کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبرِجمیل عطا فرمائے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔)
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button