پنجاب میں کامیابی کے بعد اروند کجریوال کا14 اپریل کو دورہ تلنگانہ

عاپ نے ٹی آر ایس سے ٹکرانے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ اپنے دورہ حیدرآباد کے دوران کیجریوال ریاست کے تمام اضلاع میں کمیٹیوں کے قیام، ایکشن پلان، ایجنڈہ کو حتمی شکل دینے اور اسے عوام تک لے جانے کے سلسلہ میں کارکنوں کی رہنمائی کریں گے۔

حیدرآباد: پنجاب میں کامیابی کے بعد مسرور، عام آدمی پارٹی نے تلنگانہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ریاستی حکومت کو نشانہ بنانے کیلئے پارٹی عوام کے درمیان جانا چاہتی ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ وہ عوام کو یہ بتائے کہ ٹی آرایس زیرقیادت ریاستی حکومت جن اسکیمات پر عمل کررہی ہے اور جو سبسیڈی دے رہی ہے وہ دراصل عاپ کی دہلی حکومت کی نقل ہے۔

 پارٹی کے ریاستی امور کے انچارج سومناتھ بھارتی اس ماہ کے آخری ہفتہ میں حیدرآباد پہنچیں گے اور پارٹی سربراہ اروند کیجریوال کے 14 اپریل کو حیدرآباد کے دورہ کے سلسلہ میں انتظامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ریاست میں پارٹی کے ڈھانچے اور آنے والے انتخابات کی تیاریوں پر دہلی میں پارٹی کی قیادت پہلے ہی تبادلہ خیال کرچکی ہے۔

‘عاپ نے ٹی آر ایس سے ٹکرانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ اپنے دورہ حیدرآباد کے دوران کیجریوال ریاست کے تمام اضلاع میں کمیٹیوں کے قیام، ایکشن پلان، ایجنڈے کو حتمی شکل دینے اور اسے عوام تک لے جانے کے سلسلے میں ریاستی لیڈروں اور کارکنوں کی رہنمائی کریں گے۔ کیجروال اپنے دورہ کے دوران بعض دانشوروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

ریاستی سرچ کمیٹی کی چیئرپرسن اندرا شوبھن کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کی مخالف عاپ سے وزیراعلی چندرشیکھرراو خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام میں شدید عدم اطمینان پایاجاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے دو سال قبل فیلڈ اسسٹنٹس کو برخاست کر دیا تھا ۔ اندرا شوبھن نے کہا کہ فی الحال تلنگانہ حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی ‘بستی ڈسپنسریاں ‘ دہلی میں پہلے سے قائم ‘محلہ کلینک’ کی نقل ہیں۔

 انہوں نے یاد دلایا کہ ٹی آر ایس حکومت گھریلو صارفین کے لیے ہیرکٹنگ سیلون اور لانڈری کے لیے 200 یونٹ تک مفت بجلی کی اسکیم نافذ کر رہی ہے، جسے دہلی حکومت نے 2019 میں ہی متعارف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نے کورونا بحران سے پہلے ہی سرکاری اسکولوں کو ترقی دینے پر توجہ مرکوز کی تھی اور اب ریاستی حکومت نے ہماراگاوں ہمارا اسکول’ اسکیم کو شروع کیا ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button