پوسٹ مارٹم کے لئے قبائلی خاتون کی نعش چارپائی پر لیجائی گئی

حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے ہاسپٹل میں ایمبولنس کی عدم موجودگی کی وجہ سے موٹر سیکل پرماں کی نعش 50 کیلومیٹر سے زیادہ دوری تک لے جاکر آخری رسومات انجام دینے پر مجبور ہونا پڑا۔

 بھوپال: مدھیہ پردیش میں طبی نظام میں روپیہ بٹورنے اور عہدیداروں کی لاپرواہی کے ایک چونکا دینے والے واقعہ میں ریاست کے سنگرولی ضلع میں ایک قبائلی خاتون کی  نعش پوسٹ مارٹم کے لئے ایک چار پائی پر لیجائی گئی۔ متوفی کی جگمتی پانڈو کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔

 وہ جنگلاتی علاقہ میں مبینہ طور پر زہریلا کیڑا کاٹنے پر فوت ہوگئی۔ پیر کے دن سنگرولی ہیڈکوارٹرس سے قریب 25 کیلومیٹر دور واقع علاقہ سے اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔ خاندان کے ارکان‘ خاتون کی موت کے بعدامبولینس کی عدم دستیابی کی وجہ سے  پوسٹ مارٹم کے لئے نعش ایک چار پائی پر لے گئے۔ تاہم لاپروائی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

متوفی خاتون کے خاندان نے الزام لگایا کہ انہیں نعش کے پوسٹ مارٹم کے لئے زائد از 12 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ پیر کے دن اسی نوعیت کے ایک  واقعہ میں ایک شخص کو شاڈول ضلع میں حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے ہاسپٹل میں ایمبولنس کی عدم موجودگی کی وجہ سے موٹر سیکل پرماں کی   نعش 50 کیلومیٹر سے زیادہ دوری تک لے جاکر آخری رسومات انجام دینے پر مجبور ہونا پڑا۔

تبصرہ کریں

Back to top button