پونے بلدیہ میں سکیورٹی گارڈ کے عہدے پر خواجہ سراؤں کی بھرتی

پونے میونسپل کارپوریشن میں خواجہ سراؤں کی سیکورٹی گارڈز، گرین مارشل کے طور پر بھرتی کی گئی ہے۔

پونے: پونے میونسپل کارپوریشن میں خواجہ سراؤں کی سیکورٹی گارڈز، گرین مارشل کے طور پر بھرتی کی گئی ہے۔ پمپری چنچواڈ میونسپل کارپوریشن (پی سی ایم سی ) میں بطور سیکورٹی گارڈز اور گرین مارشل کے عہدوں پر ان کی تقرری کی گئی ہے اور یہ شاید ریاست کا پہلا شہری ادارہ ہے جس نے اس کمیونٹی کے ارکان کو روزگار کُے مواقع فراہم کئے جنہیں اکثر مساوی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق چند ماہ پہلے تک 23؍سالہ شائنا رائے، جو کہ ایک ٹرانس وومن ہیں، پہلے وہ دکانوں اور ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگتی تھی لیکن آج زندگی نے ان کے لیے ایک مثبت موڑ لے لیا ہے جب انہیں پمپری چنچواڈ میونسپل کارپوریشن میں کام مل گیا۔

پونے کے قریب پمپری چنچواڈ میونسپل کارپوریشن کے ملازم کے طور پر وردی پہن کر شائنہ رائے ان 30 سے زیادہ ٹرانس جینڈر لوگوں میں شامل ہیں جنہیں حال ہی میں پمپری چنچواڈ میونسپل کارپوریشن (پی سی ایم سی) نے سیکورٹی گارڈز اور گرین مارشل کے طور پر بھرتی کیا تھا جو اس کمیونٹی کے ممبروں کو روزگار کا موقع فراہم کرنے والا ریاست کا شاید پہلا شہری ادارہ ہے۔

پمپری چنچواڈ میونسپل کمشنر راجیش پاٹل نے حال ہی میں ان کمیونٹیز کے ارکان کو مرکزی دھارے میں لانے اور باوقار زندگی گزارنے میں ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اقدام کے بارے میں نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے پاٹل نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو معاشرے میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور وہ بدسلوکی اور استحصال کا شکار ہیں۔ انہیں قومی دھارے میں لانے اور انہیں باوقار زندگی فراہم کرنے کے لیے ہم نے کچھ اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اقدام کے تحت، ہم نے30 تا 35 خواجہ سراؤں کو بھرتی کیا ہے۔

جبکہ ان میں سے کچھ کو گرین مارشل کے دستے میں رکھا گیا ہے جو صفائی کا کام کرتے ہیں ۔دوسروں کو شہری ادارے میں سیکورٹی اہلکار (گارڈ) کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جبکہ کچھ دیگر کو شہری باغات کی دیکھ بھال کا کام دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یکم جولائی کو بھرتی کیا گیا تھا اور اب تک وہ سب اچھا کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ موقع یقینی طور پر انہیں اپنی شناخت بنانے اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرے گا۔
پاٹل نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ایسا ہے کہ اس میں انہیں جواجرت ملے گی، انہیں دوسرے سیکورٹی گارڈز اور گرین مارشلوں کی طرح زندگی گزارنے میں مدد ملے گی۔

تبصرہ کریں

Back to top button