پوٹین کی جارحیت سے نمٹنے میں ہندوستان کاموقف متزلزل: جوبائیڈن

بائیڈن نے سی ای او کے بزنس راونڈ ٹیبل کے موقع پر بتایا کہ ایک بات کاانہیں یقین ہے کہ پوٹین اور میں بخوبی جانتے ہیں اور یہ باور کرتے ہیں کہ دوسرا قائد بھی ایک دوسرے کو جان سکتاہے۔ وہ نیٹو کا پھوٹ کاانتظار کررہے ہیں۔

واشنگٹن: یوکرین پر روسی حملہ کے خلاف تائید کے اظہار کے معاملہ میں بھارت کسی قدر متزلزل موقف رکھتاہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے بیشتر دوست اور حلیفوں نے ولادیمیر پوٹین کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے متحدہ محاذ قائم کیاہے۔ 24 جنوری کو روسی فورسس نے فوجی کاروائی کاآغاز کیا۔ تین دن بعد ماسکو کے یوکرین کے علحدہ علاقوں ڈوینسک اور لوہانسک کو آزاد ممالک کی حیثیت سے تسلیم کیا۔

 بائیڈن نے پیر کو سی ای او کے بزنس راونڈ ٹیبل کے موقع پر بتایا کہ ایک بات کاانہیں یقین ہے کہ پوٹین اور میں بخوبی جانتے ہیں اور یہ باور کرتے ہیں کہ دوسرا قائد بھی ایک دوسرے کو جان سکتاہے۔ وہ نیٹو کا پھوٹ کاانتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ نیٹو پر عزم رہے گا اور پوری طرح سے متحدہ رھی رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس بات کا تیقن دے سکتے ہیں کہ نیٹو اپنی تاریخ میں اتنا متحد اور طاقتور نہیں رہاہے جتنا کہ وہ آج ہے۔ اس کابڑا سبب روس کے صدر ولادیمیر پوٹین ہیں۔

بائیڈن نے بتایا کہ لیکن اس جارحیت کے جواب میں ہم نے نیٹو میں ایک متحدہ محاذ پیش کیا جس میں بحرالکاہل بھی شامل ہے۔جو بائیڈن نے روسی ہم منصب کے خلاف متحدہ محاذ کے لیے نیٹو، یورپی یونین اور اہم ایشیائی شراکت داروں سمیتامریکہ کی زیر قیادت اتحاد کی تعریف کی۔اس میں وہ پابندیاں بھی شامل ہیں جن کا مقصد روس کی کرنسی کو کمزور کرنا اور بین الاقوامی تجارت اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل اشیا تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔

تاہم کواڈ گروپ کے رکن ممالک آسٹریلیا، جاپان اورامریکہ کے برعکس بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس نے اقوام متحدہ میں ماسکو کی مذمت کرنے کے لیے ووٹنگ میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا۔مغربی ممالک اس وقت روس کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بھارتی آئیل  ریفائنریز نے مبینہ طور پر رعایتی روسی تیل کی خریداری جاری رکھی ہوئی ہے۔

ہندوستانی حکومت کے ایک عہدیدار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بھارت دنیا میں خام تیل کے تیسرے سب سے بڑے صارف کے طور پر اپنی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، روس اس میں سے ایک فیصد سے بھی کم معمولی مقدار فراہم کرتا ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button