پہلی قبائلی خاتون صدر جمہوریہ اور قبائلی طبقہ کے مسائل

صدر جمہوریہ کا منصب با اعتبار عہدہ ہندوستان کے پہلے شہری کا ہو تا ہے تو ان کی زبا ن سے نکلے ہو ئے جملے بھی انتہا ئی اہمیت کے حا مل ہو تے ہیں چو نکہ اس منصب پر پہو نچنے کے بعد اور پھر حلف برا داری تقر یب کے بعد کا خطاب عام نہیں ہو تا بلکہ خا ص اور اس میں بھی پہلے تیار کیا ہو ا ہو تا ہے ۔ آج ہندوستان آزادی کے 75 ویں سالگرہ کے مو قع پر آزادی کا امرت مہا اُ تسو کے نام پر ایک سالہ طو یل جشن منا رہا ہے ۔ لیکن تعلیم کا شعبہ ابھی اصلا حا ت کامتقا ضی ہے ۔ تعلیم گر چیکہ ہندوستان کے ہر بچے کا بنیا دی حق ہے ۔ لیکن آج تعلیم ایک تجارت کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ ہر گذر تے سال تر ک تعلیم طلباء کی شر ح میں مسلسل ہو نے والا اضا فہ ہمیں صد فیصد خواند گی کے مشن کی منزل ابھی ہنواز دلی دور است کا پیغام دے رہا ہے ۔

رفعت بیگم ( پی جی ٹی۔ اردو ظہیر آباد )

25 / جولائی 2022 کو پارلیمنٹ ہال کے وسیع و عر یض سنٹرل ہال میں ایک رنگا رنگ اور پُر جوش تقر یب میں مُلک کی پہلی قبائلی اور دوسری خاتون صدر جمہوریہ کی حیثیت سے شر یمتی دروپدی مر مو صاحبہ نے حلف لیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا مسٹر این وی رمنا نے انہیں حلف دلا یا ۔ حلف بر داری تقر یب میںنائب صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کے بشمول کئی اہم شخصیات مو جود تھیں ۔ آزاد ہندوستان کی تا ریخ میں یہ پہلا مو قع ہے کہ قبائلی طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو ملک کے صدر جمہوریہ کے جلیل القدر عہدے پر فا ئز ہو نے کا نادر مو قع ملا ہے ۔ صدر جمہوریہ کا عہدہ ایک نامزد عہدہ ہو تا ہے ۔ عام طور پر مر کز میں بر سر اقتدار پارٹی اپنے کسی قر یبی قائد کو یہ منصب پر برا جمان کر تی ہے ۔ حا لانکہ اُصولی طور پر پارٹی وابستگی سے با لا تر ہو کر ملک و قوم کے لئے مجموعی طور پر نما یاں خدمات انجام دینے والے افراد کو اس جلیل القدر عہدے پر برا جمان کیا جا نا چا ہئے ۔ سال 2002 میں اے پی جے عبد الکلام آزاد کو دفا عی میدان میں ان کی نما یاں خد مات کی وجہہ سے انہیں اس منصب پر فا ئز کیا گیا تھا ۔ اس وقت کی اپوزیشن جماعت نے بھی اس کی تا ئید کی تھی۔ گر چیکہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں صدر جمہوریہ کے عہدے کو ربر اسٹامپ کہا جا تا ہے لیکن اس کے بھی یعنی صدر جمہوریہ کے بھی خصوصی اختیارات ہو تے ہیں ۔جیسے کہ وہ آر ڈیننس جاری کر سکتا ہے ۔ کسی ایسے شخص کو رحم کر تے ہوئے تختہ دار سے اُتار سکتا ہے جسے سپر یم کورٹ نے پھا نسی کی سزا سنائی ہو۔ وزیر اعظم و مر کزی کا بینہ کی سفارش پر ملک میں ایمر جنسی کااعلان کر سکتاہے اور پارلیمنٹ کو تحیل کر سکتا ہے وغیرہ ۔ لیکن گذشتہ عر صہ میں سیا ست میں جو تبد یلیاں واقع ہو ئی ہیں ان میں ایک اہم با ت یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ نامزد عہدے بھی پارٹی وابستگی پر دئیے جا رہے ہیں ۔
بہر کیف جو بھی ہو این ڈی اے حکومت کا یہ قابل ستا ئش اقدام ہے کہ اس نے قبائلی طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک خا تون کو صدر جمہوریہ کے منصب پر فا ئز کر تے ہو ئے قبا ئلیوں کے بشمول ملک کی تما م خواتین کا سر فخر سے اونچا کر دیا ہے ۔ شر یمتی دروپدی مر مو صاحبہ کے لئے یہ منصب قابل فخر منصب ہے ۔ پندر ہویں صدر جمہوریہ کی حیثیت سے دروپدی مر مو صاحبہ کے فائز ہونے کے بعد سے قبا ئلی طبقہ کے بشمول خواتین کو بھی ان سے کئی توقعات وابستہ ہیں ۔ تاہم پہلی قبائلی اور ملک کی پندر ہویں صدر جمہوریہ کا حلف لینے کے بعد جو پہلا خطاب تھا وہ بھی ان کے مستقبل کے عزائم اور کار کردگی کا پیش لفظ کہا جا سکتا ہے ۔ تا ہم زیر نظر مضمون میں صدر جمہوریہ کا پہلا خطاب جو ہندی زبان میں 18 منٹ پر مشتمل تھا۔ اس کا اجتماعی جا ئزہ لو ںگی ۔
حلف لینے کے بعد اپنے پہلے خطبہ نے صدر جمہوریہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایک قبائلی گھرا نے میں پیدا ہو نے والی اور سماج کے حا شیا ئی طبقہ میں پر ورش پا نے والی ایک خا تون کے لئے یہ مو قع انتہائی مسرت کا ہو تا ہے کہ جب اسے ملک کے ایک جلیل القدر عہدے پر فا ئز کیا جا ئے ۔ انہوں نے اس عہدے پر فا ئز ہو نے کو جمہوریت کی حقیقی کا میا بی قراردیا اور ہندوستان کو ’’ جمہوریت کی ماں قرار دیا‘‘ ۔انہوں نے دو ٹوک کہاکہ ملک کے غر یب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کی اُمید یں بھی اب جوان ہو رہی ہیں کہ اب معاشی پسماندگی ، طبقاتی اونچ نیچ اور ذات پات سے با لا کے اعتبار سے پچھڑ ے لوگ بھی ملک کے جلیل القدر عہدے پر فا ئز ہو سکتے ہیں ۔ اُڑیسہ کے قبائلی خاندان میں پیدا ہونے والی خا تون شر یمتی درو پدی مر مو صا حبہ نے کبھی خواب میں بھی یہ سونچا ہو گا کہ وہ ایک ایک دن وہ بھی اس موقع پر جب ہندوستان کی آزادی کے 75 سالگرہ کی مناسبت سے ’’ آزادی کا امرت مہا اُتسو‘‘ جیسی تقاریب منا ئی جا رہی ہو نگی تب وہ ملک کی صدر جمہوریہ ہو نگی ۔ انہوں نے وضاحت بھی کہ کہ جب وہ سیا ست میں داخل ہو رہی تھیں ۔تب ملک آزادی کی گولڈن جو بلی تقر یب منا رہا تھا اور آج جب کہ وہ ملک کے صدر جمہوریہ کے عظیم الشان عہدے پر فا ئز ہو ئی ہیں تب ملک اپنی آزادی کی ڈا ئمنڈ جو بلی تقر یب منا نے کی تیاریوں میں ہے ۔ انہوں نے اپنے نام کے متعلق یہ وضاحت کی کہ ان کا اصل نام فوتی ہے جبکہ اسکول کے طالب علمی کے زما نے میں ٹیچر ان کا ناتبدیل کر تے ہوئے دروپدی مر مو تجو یز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے اِسی نام کو جا ری رکھا ۔ دروپدی مر مو صاحبہ کی حلف بر داری تقر یب کے وقت ان کے آبا ئی مو ضع را ئے رنگا پور میں بھی جشن منا یا گیا ۔
دروپدری مر مو صا حبہ کا خطاب گر چیکہ رسمی خطاب تھا ْ لیکن اس میں انہوں نے تعلیم اور قبائلیوں کی طر ز زندگی میں تبد یلی کے اشارے دیتے ہوئے قبا ئلی طبقات کو ایک اُمید کرن دکھا ئی ہے ۔نو منتخبہ صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب کا آغاز قبا ئلی روایت کے مطابق ’’ جو ہر‘‘ کہتے ہو ئے کیا۔ جوہر کا مطلب آداب ہو تا ہے ۔اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کے جس وقت ملک میں ایک قبائلی خاتون صدر جمہوریہ کے حلف بر داری تقر یب کی تیاریوں کا جشن منا یا جا رہا تھا ۔ اس وقت تلنگانہ کے ایک ایجنسی / قبا ئلی علاقے منچر یال کے ایک قبا ئلی مو ضع میں پو لیس کی جا نب سے قبا ئلیوں پر لا ٹھیون سے حملے کئے جا نے کا منظر بھی عوام نے اپنی آنکھون سے دیکھا ۔ معذرت کے ساتھ کے میں اپنے مو ضو ع سے زرا ہٹ گئی ۔ صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کے قبا ئلی طبقہ کے جو دیر ینہ مسائل ہیں اس کے حل کے لئے کو شاں رہیں گی ۔ صدر جمہوریہ نے ہر بچے کو تعلیم کے حق سے استفادہ کا موقع فرا ہم کر نے کی وکا لت کی ۔جو قابل ستائش ہے کیونکہ قانون حق تعلیم کی رو سے ملک کے ہر 6 تا 14 سال کی عمر کے بچے کا بنیادی حق یہ ہے کہ وہ تعلیم حا صل کر ے اور حکو متوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو ابتدائی تعلیم کے حصول میں حا ئل روکا وٹوں کا ازالہ کیا جا ئے ۔ قبائلی طبقات اور ان کا طر ز زندگی عام عوام کی زند گی سے مختلف ہو تا ہے ۔ انہیں بھی عام تر قی کے دھا رے میں شامل کر نے کے لئے کوشش کر نا ضروری ہے ۔ صدر جمہوریہ نے اپنی صنف یعنی خواتین کی مجمو عی تر قی کے لئے اقدامات کر نے کی نو ید سنا ئی لیکن نو جوانوں کو انہو ں نے یہ پیغام دیا کہ وہ اپنا مستقبل آپ خود روشن کر نے کے قابل ہو جائیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اعلی عہدے کسی کی میراث نہیں ہو تے بلکہ یہ جہد مسلسل سے حا صل ہو تے ہیں ۔ اس کے لئے نو جوانوں کو ابھی سے اپنے مستقبل کے لئے سنجیدہ کوشش کر نی چا ہئے ۔ انہوں نے واضح کہا کہ نو جوانوں میں اگر سچی لگن ، حو صلہ اور جذبہ ہو تو دنیا کا بڑ ے سے بڑا منصب پر وہ فا ئز ہو سکتے ہیں ۔
صدر جمہوریہ کا منصب با اعتبار عہدہ ہندوستان کے پہلے شہری کا ہو تا ہے تو ان کی زبا ن سے نکلے ہو ئے جملے بھی انتہا ئی اہمیت کے حا مل ہو تے ہیں چو نکہ اس منصب پر پہو نچنے کے بعد اور پھر حلف برا داری تقر یب کے بعد کا خطاب عام نہیں ہو تا بلکہ خا ص اور اس میں بھی پہلے تیار کیا ہو ا ہو تا ہے ۔ آج ہندوستان آزادی کے 75 ویں سالگرہ کے مو قع پر آزادی کا امرت مہا اُ تسو کے نام پر ایک سالہ طو یل جشن منا رہا ہے ۔ لیکن تعلیم کا شعبہ ابھی اصلا حا ت کامتقا ضی ہے ۔ تعلیم گر چیکہ ہندوستان کے ہر بچے کا بنیا دی حق ہے ۔ لیکن آج تعلیم ایک تجارت کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ ہر گذر تے سال تر ک تعلیم طلباء کی شر ح میں مسلسل ہو نے والا اضا فہ ہمیں صد فیصد خواند گی کے مشن کی منزل ابھی ہنواز دلی دور است کا پیغام دے رہا ہے ۔
ملک میں قبا ئلی طبقہ کے جو مسائل ہیں وہ اظہر من الشمس کی طر ح ہیں ۔ ابھی دستور یہ ہند میں جو حقوق اور مرا عات قبا ئلی طبقات اور سماج کے حا شیا ئی اور پسماندہ طبقات کو فرا ہم کئے گئے ہیں اس پر منا سب انداز میں عمل آواری کی جا ئے تو وہ یقیناََ قبا ئلی طبقات کی زند گیوں میں انقلابی تبد یلی آئے گی ۔ دستور ہند کے پا نچویں شیڈول میں ایجنسی / قبائلی علاقون میں رہا ئش پذیر طبقات کے لئے خصو صی حقوق فرا ہم کئے گئے ہیں ۔ گرام سبھا ئوں اور کو نسل جیسے حکومت خود اختیاری مقامی اداروں میں ان کی زندگی اور طر ز زند گی کے متعلق خصوصی مر احل میں فیصلے لینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے ۔ اس طر ح اب چو نکہ صدر جمہوریہ بھی قبا ئلی طبقے کی نما ئندہ ہیں تو ان سے ملک کے قبا ئلی طبقات کو امید ہے کہ دستور ہند نے انہیں جو مرا عات فرا ہم کی ہیں ا س پرعمل آواری اور اگر قبا ئلی طبقات کی فلا ح و بہبود کے لئے منا سب ہو تو دستور ہند میں تر میم و اضا فہ کرتے ہو ئے بھی قبا ئلی طبقات کی فلا ح و بہبود کے لئے اقداما ت کئے جا سکتے ہیں۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button