پہلے ہائی کورٹ کو حجاب  معاملہ کی سماعت کرنے دیں: سپریم کورٹ

سبل نے کہا کہ یہ معاملہ کرناٹک میں پیش آرہے واقعات سے متعلق ہے اور سارے ملک میں پھیل رہا ہے۔ چیف جسٹس نے سبل سے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ اس مسئلہ کا جائزہ لینے میں مصروف ہے اور اسے فیصلہ کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔ اس مرحلہ پر ہم کیوں اس معاملہ میں پڑیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج ایک درخواست کی ہنگامی لسٹنگ کے لئے کوئی مخصوص تاریخ دینے سے گریز کیا جس کے ذریعہ کرناٹک ہائی کورٹ سے درخواستوں کی منتقلی کی گزارش کی گئی ہے جو فی الحال اسکولوں اور کالجوں میں حجاب کی اجازت کے مسئلہ کا جائزہ لے رہی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے چیف جسٹس این وی رمنا کی بنچ پر اس معاملہ کا تذکرہ کیا۔

سبل نے کہا کہ یہ معاملہ کرناٹک میں پیش آرہے واقعات سے متعلق ہے اور سارے ملک میں پھیل رہا ہے۔ چیف جسٹس نے سبل سے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ اس مسئلہ کا جائزہ لینے میں مصروف ہے اور اسے فیصلہ کرنے کی اجازت دینی چاہئے۔ اس مرحلہ پر ہم کیوں اس معاملہ میں پڑیں۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔ سبل نے کہا کہ صرف 2 ماہ بعد امتحانات ہونے والے ہیں اور ان کے موکل نے آج درخواست داخل کی ہے۔ چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ ہائی کورٹ کو اس معاملہ کی سماعت کرنے دیں۔

سبل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ‘ منتقلی کی درخواست کو لسٹ میں شامل کرسکتی ہے اور اسے زیرالتوا رکھ سکتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ عدالت ِ عظمیٰ کی مداخلت کے بعد ہائی کورٹ اس معاملہ کی سماعت نہیں کرے گا اور یہ کہے گا کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیرالتوا ہے۔ سبل نے اس بات پر اصرار کیا کہ اس مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسکول اور کالج بند ہیں۔ بنچ نے اس بات کو دُہرایا کہ پہلے ہائی کورٹ کو اس معاملہ کی سماعت کرنے دیں۔

 سبل نے زور دے کر کہا کہ وہ صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ عدالت عظمیٰ اس درخواست کو فہرست میں شامل کرے اور اگر ہائی کورٹ کوئی حکم جاری نہیں کرتا تو اس صورت میں یہ عدالت مقدمہ کو اپنے پاس منتقل کرتے ہوئے اس کی سماعت کرسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے معاملہ کی مختصر سی سماعت کے بعد کہا کہ ہم دیکھیں گے۔

 اُڈپی کالج کی طالبہ فاطمہ بشریٰ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ مدعی علیہہ نمبر 2  نے درخواست گزار کو کالج میں داخلہ کی اجازت نہ دیتے ہوئے اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور درخواست گزار و دیگر طالبات کی جانب سے حجاب نکالے جانے تک انہیں کلاسس میں شریک ہونے کی اجازت دینے ے انکار کردیا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button