پی ایم کسان سمان ندھی یوجنا، 20,900 کروڑ روپئے کی منظوری

مذکورہ اسکیم کے تحت اہل کسانوں کے ہر خاندان کے لیے تین اقساط میں سالانہ 6 ہزار روپئے فراہم کیے جاتے ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ”پی ایم کسان سمان نیدھی یوجنا“ کی دسویں قسط 20,900 کروڑ سے زیادہ رقم 10 کروڑ کسانوں کے فائدہ کے لیے جاری کی۔

مذکورہ اسکیم کے تحت اہل کسانوں کے ہر خاندان کے لیے تین اقساط میں سالانہ 6 ہزار روپئے فراہم کیے جاتے ہیں۔ آن لائن پروگرام جس میں سارے ملک کے ہزاروں کسان شرکت کیے، وزیر اعظم نے کسانوں کی 351 پروڈیوسر کمپنیوں (ایف پی اوز) کے لیے 14 کروڑ سے زیادہ یکساں حصص کے گرانٹ بھی جاری کیے۔

فروری 2020ء میں تشکیل کردہ دس ہزار ایف پی او اسکیم کا مقصد کسانوں کو بااختیار بنانا ہے اور سال 28-2027ء تک 6,866 کروڑ روپئے بجٹ فراہم کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ ایف پی او چھوٹے کسانوں کو پانچ طریقے سے مدد کرتے ہیں۔

ان میں بہتر لین دین اختیارات، بڑے پیمانہ پر تجارت میں اضافہ، اختراعیت، جوکھم کا بہتر انتظامیہ اور مارکٹ میں طلب کے مطابق تبدیلیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی او سے کسانوں کو نامیاتی کھاد، بانس اور شہد وغیرہ کی پیداوار میں فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ملک میں ان چیزوں کی زیادہ مانگ کے سبب ابھی بھی درآمدات کی جاتی ہیں۔

مثال کے طور خوردنی تیل جس کے لیے بہت زیادہ زرِمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے، مقامی کسانوں کی مدد کے مقصد سے حکومت قومی پامل آئیل مشن شروع کی ہے، جو نہ صرف ملک کو آتما نربھر بناتا ہے بلکہ کسانوں کو زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مودی نے سال 2021ء میں اپنی حکومت کے کارنامے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا دیکھی ہے کہ تمام ہندوستانی متحد ہونے سے کیوں کر بڑے کارنامے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ ان کارناموں میں 1.45 کروڑ افراد کی ٹیکہ اندازی، ہندوستانی کھلاڑیوں کی اولمپکس میں کارکردگی، اسٹارٹ اپس کا قیام اور تبدیلی ئ آب و ہوا میں ہندوستان کا عالمی لیڈر کی حیثیت سے رول شامل ہیں۔

مودی نے تمام کسانوں پر زور دیا کہ وہ نامیاتی کاشت کاری اپنائیں۔ انہوں نے ”ووکل برائے لوکل“ نعرہ پر بھی زور دیا، جس سے ہندوستانیوں کو فائدہ پہنچے گا اور ہندوستانی صنعتوں اور خدمات کی عالمی سطح پر شناخت ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس نئے سال اور آزادی کا امرت مہااتسو میں اختراعیت مشکل حالات پر قابو پانے میں مدد دے گی۔

وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اطراف و اکناف علاقہ کو صاف ستھرا رکھیں۔ اپنی تقریر میں سنسکرت کے محاورے استعمال کرتے ہوئے ہندی میں ان کے معنی و مطلب بھی بتایا۔ تقریر کے آغاز سے قبل انہوں نے پنجاب، اتراکھنڈ، راجستھان، ٹاملناڈو اور گجرات کے ایف پی اوز کے نمائندوں سے بھی تبادلہئ خیال کیا۔

اس پروگرام کا اہم حصہ ٹاملناڈو میں قائم ایف پی او ویر پنڈی کلنجیم جیوت جو صرف خواتین چلاتی ہیں، کے ساتھ تبادلہئ خیال تھا۔ پروگرام کے دوران ایف پی اوز اور طبعی کاشتکاری پر دو مختصر فلم پیش کیے گئے۔ قبل ازیں مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے مودی کو دورِ حاضر کا بھگیرت قرار دیا جس نے سوکھے گجرات میں پانی دوڑا دیا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button