چھ روزہ عرس حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ  کا اختتام

چھٹی کے قل کی رسم کا آغاز صبح گیارہ بجے ہو ا اور درگاہ دیوان سید زین العابدین اور ان کے نمائندوں کی صدارت میں قل کی محفل منعقد کی گئی ۔ شاہی قوال اسرار حسین اور ساتھیوں نے صوفیانہ کلام پیش کیا۔

اجمیر: راجستھان کے اجمیر میں عظیم صوفی سنت حضرت کواجہ معین الدین چشتیؒ کے 810 ویں سالانہ عرس پر آج قل کی رسم ادا کرنے کے ساتھ چھ روزہ عرس کا اختتام ہوگیا۔ درگاہ شریف میں آخری محفل پیر کی رات کو پوری ہوئی لیکن گیارہ فروری کو بڑےقل کی رسم اور بڑے قل کی رسم اور جمعہ کی نماز ادا ہوگی۔ مزار شریف کو آخری غسل دیا گیا۔ اس کے فوراً بعد سے ہی درگاہ احاطہ کو عقیدت مندوں نے عرق گلاب کیوڑے اور عطر سے دھونا شروع کردیا اور اس موقع پر عاشقانہ خواجہ کی بھیڑ امڈ پڑی۔

چھٹی کے قل کی رسم کا آغاز صبح گیارہ بجے ہو ا اور درگاہ دیوان سید زین العابدین اور ان کے نمائندوں کی صدارت میں قل کی محفل منعقد کی گئی ۔ شاہی قوال اسرار حسین اور ساتھیوں نے صوفیانہ کلام پیش کیا۔درگاہ دیوان اور نمائندے قل کی رسم کو ادا کرنے کےلئے جنتی دروازے سے ہوتے ہوئے آستانہ شریف پہنچے اور اس کے بعد عام لوگوں کےلئے جنتی دروازہ بند کردیا گیا۔

اس دوران بڑے پیر صاحب کی پہاڑی توپ کے گولے داغے گئے اور شادیانے بجائے گئے۔عرس کے اختتام پر جہاں موروثی عملہ کی دستاربندی کی گئی وہیں ملک کے دوردراز علاقوں سے آئے قلندروں نے داغول کی رسم ادا کی۔عرس کے اختتام کے بعد خدمت کا وقت پہلے کی طرح ہوجائے گا۔ درگاہ احاطہ پوری طرح بھرا رہا اور درگاہ سے مہاویر سرکل دوتل باغ تک زائرین ہی زائرین نظرآئے۔

ضلع انتظامیہ نے قل کی رسم کے پیش نظر خصوصی انتظامات کئے۔امن و قانون برقرار رکھنے کےساتھ ساتھ کورونا ضابطوں پر عمل کھےلئے کار گزار مجسٹریٹ بھی تعینات کئے گئے اور پولیس کے خاص بندوبست کئےگئے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button