چیف منسٹر ممتا بنرجی کو ادبی ایوارڈ کی مخالفت

ایک بنگالی ادیبہ نے آج ادب کے لیے چیف منسٹر ممتا بنرجی کی خدمات پر انہیں خصوصی ایوارڈ پیش کرنے کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے پچھم بنگا بنگلہ اکیڈیمی کی جانب سے دیا گیا ایوارڈ واپس کردیا ہے۔

کولکتہ:ایک بنگالی ادیبہ نے آج ادب کے لیے چیف منسٹر ممتا بنرجی کی خدمات پر انہیں خصوصی ایوارڈ پیش کرنے کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے پچھم بنگا بنگلہ اکیڈیمی کی جانب سے دیا گیا ایوارڈ واپس کردیا ہے۔

رتنا رشید بنرجی نے2019ء میں انہیں اکیڈیمی کی جانب سے دیئے گئے آنند شنکر سمارک سمان (ایوارڈ) واپس کردیا ہے۔ ادیبہ نے فون پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے ان لوگوں کا فیصلہ پسند نہیں آیا اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنا ایوارڈ واپس کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔

میرے اقدام کے پس پردہ کوئی سیاست کارفرما نہیں ہے۔ مجھے جو کچھ کہنا تھا میں نے اپنے تحریری بیان میں کہہ دیا ہے۔ بنرجی جنہوں نے زائد از 30 کتابیں، مضامین اور مختصر افسانے تحریر کیے ہیں، انہوں نے لوک کلچر پر بھی تحقیق کی ہے، جن میں سماج کے کمزور طبقات بھی شامل ہیں۔

اکیڈیمی کے صدرنشین برتیہ باسو کو موسومہ ایک مکتوب میں جو ریاستی وزیر تعلیم بھی ہیں، رشید رتنا بنرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایوارڈ ان کے لیے کانٹوں کا تاج بن گیا ہے، کیوں کہ اکیڈیمی نے رابندر ناتھ ٹیگور کے یومِ پیدائش کے موقع پر چیف منسٹر کو نیا ادبی ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو ادبی ایوارڈ دینے کے اقدام سے بحیثیت ِ ادیب مجھے اپنی توہین محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ایک خراب نظیر قائم ہوگی۔ اکیڈیمی کا بیان جس میں معزز چیف منسٹر کی جانب سے بلاتکان ادبی خدمات کی ستائش کی گئی ہے، سچائی کے ساتھ ایک مذاق ہے۔

یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ ریاستی حکومت نے پیر کے روز ایک پروگرام منعقد کرتے ہوئے ٹیگور کا یومِ پیدائش منانے کے پروگرام کا اعلان کیا اور چیف منسٹر کی کتاب ”کویتا بِتان“ (زائد از 900 نظموں کا مجموعہ) پر انہیں ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا، جو جاریہ سال ہی متعارف کرایا گیا ہے۔

اس تقریب میں چیف منسٹر موجود نہیں تھیں، اسی لیے ان کی جانب سے باسو کو یہ ایوارڈ پیش کیا گیا۔ بنگالی ادیبہ کے مطابق چیف منسٹر ایوارڈ قبول نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بالغ النظری کا مظاہرہ کرسکتی تھیں۔ کتاب ”کویتا بِتان“ 2020ء کے بین الاقوامی کولکتہ کتاب میلہ میں جاری کی گئی تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button