’’ڈوبتی کانگریس کو تنکوں کا سہارا چاہیئے‘‘بھنور میں پھنسی کشتی کا کوئی نا خدا تو ہو‘‘

کانگریس کا دم خم اور اس کا طلسم اس کے ماضی کے شاندار کارناموں اور آزادی کی انتھک اور لگاتار کوششوں کے اس کے قیام ۱۸۸۵ء سے لے کر ۱۹۶۶ء تک تابناک اور قابل احترام رہا

صاحبزادہ مبارک اللہ برکت

کانگریس کا دم خم اور اس کا طلسم اس کے ماضی کے شاندار کارناموں اور آزادی کی انتھک اور لگاتار کوششوں کے اس کے قیام ۱۸۸۵ء سے لے کر ۱۹۶۶ء تک تابناک اور قابل احترام رہا کیونکہ اس دورانیہ میں جو لگ بھگ اسی پچیسی سال رہا۔ کیونکہ اس دوران کانگریس پر گاندھی وادی قائدین کا غلبہ رہا ہے یہ قائدین گاندھیائی فکر وسوچ رکھنے کے باوجود اعلیٰ تعلیم یافتہ جن میں اکثریت آکسفورڈ، کیمبرج اور دیگر مغربی جامعات سے فارغ التحصیل ہو کر ملک لوٹی تھی جن میں قومیت اور آزاد مملکت کے قیام کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اس وقت ان قائدین کے جذبوں کو جلاء اسی وقت ملی جب ان قائدین کو گاندھی جی کا ساتھ ملا جو اس وقت جنوبی افریقہ سے ٹرین میں اس نسل پرستانہ تکلیف دہ سلوک اور تحیر آمیز برتاؤ سے پہنچی تھی اور وہ کبیدہ خاطر ہو کر نئے عزائم کے ساتھ ہندوستان واپس لوٹ کر آگئے۔ جو لگ بھگ ۱۹۱۹ء کی بات ہے۔ اس وقت تک کانگریس کا قیام عمل میں آکر چونتیس پینتیس سال گزرچکے تھے تب تک کانگریس ملک کے سیاسی اور سماجی حالات سے برطانوی سامراجی حکومت کو آگاہ اور متنبہ کرنے کے لئے اپنی نشستوں اور اجلاس میں صرف قراردادیں پاس کرنے اور اسے متوجہ کرنے کی بے نیل ومراج کوششوں میں لگی ہوئی تھی اور برطانوی سامراج سے راست ٹکر لینے اور لوہا لینے کے حوصلہ کو مجتمع کرنے کی ہمت اور طاقت نہیں جٹا پائی تھی۔ شاید حالات بھی اسی روش کو اپنا رکھنے کے متقاضی تھے۔ عوام میں بھی برسوں کی غلامی کو جھیلتے رہنے سے حریت کے جذبے معدوم ہوچکے تھے۔ وہ سرفروشی کی تمنا تو رکھتے تھے لیکن سرفروشی کی طاقت سے محروم تھے۔ لیکن گاندھی جی نے جنوبی آفریقہ سے لوٹنے کے بعد قوم کے اس سرفروشی کے جذبۂ کو مہمیز کیا اور اسے ایڑھ لگائی جس کا ساتھ تمام کانگریسیوں نے دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستانی قوم میں آزادی اور سوراج کا جذبہ پروان چڑھنے لگا۔ آزادی کا حصول ایک جاندرا تحریک بن گئی۔ گاندھی جی چونکہ جانتے تھے کہ اگر اس تحریک کو روس، چین اور دیگر ممالک کی آزادی کی تحریکوں کی طرح پرتشدد اور خوں ریز بنادیا جائے تو یہ نتیجہ خیز نہ ہوگی کیونکہ ظالم اور جابر غاصب برطانوی حکومت غریب نادار اور نہتے ہندوستانیوں کو اپنے آہنی پنجے سے کچل کر رکھ دے گی۔ احتجاجیوں کو گولیوں سے بھون دے گی اور آزادی کی یہ تحریک بار آور اور ثمر آور ہونے سے قبل ہی دم توڑ دے گی۔ نہتے جیالے ہندوستانی کیڑے مکوڑوں کی طرح بے رحمی سے مار ڈالے جائیں گے۔ اس طرح آزادی کے جس جذبہ کو انھوں نے جلا بخشی ہے اور بلند حوصلہ دیا ہے وہ ماند پڑ جائیں گے۔ تحریک کمزور اور نڈھال ہوجائے گی لہٰذا گاندھی جی نے کمال تدبر سے کام لیتے ہوئے قوم کو عدم تشدد یا اہنسا کا پاٹ پڑھایا تا کہ انگریزوں کو مشتعل ہو کر نہتے ہندوستانیوں کو ہلاک کرنے کا موقع نہ ملے اور تدبیر بہت کامیاب رہی اگرچیکہ کچھ گرم کانگریسیوں نے آزادی کی تحریک سست رفتاری سے تنگ آکر اور بیزار ہو کر تشدد کا سہارا بھی لیا اور کچھ چھٹ پھٹ پر تشدد واقعات بھی ہوئے لیکن گاندھی جی اپنی عدم تشدد کی پالیسی پر اٹل رہے اور کبھی بھی تشدد کی حمایت نہ کی اور متشدد مجاہدین آزادی کو افہام وتفہیم کرتے رہے۔
نہرو اور شاستری جی کی موت کے بعد ہندوستان میں اندرا گاندھی کی قیادت میں جو کانگریس ابھری وہ گاندھی وادی افکار سے بتدریج منحرف ہوتی گئی۔ اب اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہوگئے جن کا مقصدعوام کی خدمت اور ملک کی ترقی سے ہٹ کر حصول اقتدار ہوگیا۔
چنانچہ کانگریس اپنے زرین اصولوں سے آہستہ آہستہ دست بردار ہونے لگی۔ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہتھکنڈے استعمال ہونے لگے۔ جمہوری اصول وطریقہ سے انتخاب جیتنے کے بجائے سازشیں کی جانے لگیں۔ پھر انتخابات میں تشدد بھی در آیا۔ ووٹوں کی تقسیم کرانے کے لئے ذات پات کی بنیاد پر ڈمی امیدوار بھی ٹھہرائے جانے لگے۔ رائے دہندوں (ووٹرس) کو شراب اور رقم کے ذریعہ تحریص دی جانے لگی۔ بیلٹ پیپرز کی چھینا جھپٹی ہونے لگی۔ بہرحال انتخابات عدم اطمینان کا باعث بن گئے۔ انتخابات کا زمانہ کیا آتا اور انتخابی مہموں کی شروعات کیا ہوجاتی بدتمیزی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوجاتا۔ چنانچہ امن پسند اور گاندھیائی فکر رکھنے والے رائے دہندے انتخابی عمل سے خود کو الگ تھلک کرلیا۔ وہ رائے دہی سے اجتناب کرنے لگے۔ ووٹ ڈالنے مرکز رائے دیہی یا پولنگ بوتھ جانے سے احتراز کرنے لگے۔ نتیجتاً رائے کا فیصد گھٹتا گیا۔ بعض مقامات اور حلقوں میں رائے دیہی کا ووٹنگ کا مجموعی فیصد پچاس سے بھی کم رہ گیا۔ اس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلائی جانے والی مملکت ہندوستان کی جمہوریت بے آبرو ہوگئی۔ اس کی ساتھ ختم ہوگئی۔ حالانکہ ان خرابیوں کو دور کرنے کئی اصطلاحات کی گئیں۔ قوانین وضع کئے گئے عذر داری قانون لایا گیا۔ نوٹا کو متعارف کیا گیا۔ بیلٹ باکسس کے طریقہ کار کو ختم کر کے ای وی ایم متعارف کی گئیں لیکن بے سود ہی رہا۔
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا یہاں تک حالیہ پانچ ریاستوں میں منعقد ہونے والے انتخابات نے انتخابی عمل کو مزید بے توقیر کردیا۔ یہ باور کرادیا کہ اب ملک میں جمہوریت باقی نہیں رہی ہے۔ پس جمہوریت کے نام پر بدعنوانیوں، دھاندلیوں اور گھپلہ بازوں کا دور دورہ ہے۔ اب تو ملک کا دستور بھی بطور آئین یا ملک کا قانون نہیں رہا۔ بلکہ یہ صرف کہنے اور دکھانے کی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ جمہوریت سیکولرازم، مذہبی آزادی، شخصی آزادی اور قانون کی حکمرانی ماضی کا قصۂ پارینہ ہو کر رہ گئی ہیں۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کے دور حکمرانی میں تو صرف ایک طبقہ ہی تمام حقوق حاصل ہیں اور اس طبقہ کو ماورائے دستور حقوق حاصل ہیں۔ اس طبقہ پر کسی قانون اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ جو چاہے کرے اسے اس کی آزادی ہے۔ تمام پابندیاں، جکڑ بندیاں، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لئے روا رکھی گئی ہیں۔ ان کا خون اکثریت کے لئے حلال کردیا گیا ہے۔ ان کی آمد کو زمین دوز کردینے۔ ان کے رہائشی مکانوں، دوکانوں اور مسجدوں کو بلڈوزروں سے ڈھادینا بھی قانونی طور پر جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ گویا اب ہندوستان ایک جمہوری ملک نہیں بلکہ ایک پولیس اسٹیٹ بن کر رہ گیا ہے جس میں اقلیتوں کو جینے کا حق حاصل نہیں ہے۔
یہ سب خرابیاں کانگریس پارٹی کی دین ہیں۔ اس کی ناقص پالیسیاں اور آمرانہ روش حکمرانی، بدعنوانیاں گھپلہ بازیاں، رشوت خوری، بد انتظامی، نکما پن اس کے ذمہ دار ہے جس پر بی جے پی۔ آر ایس ایس حکومت چل رہی ہے۔
بی جے پی حکومت کا یہ ماڈل کانگریس کا بنایا ہوا ہے۔ بی جے پی نے الیکشن میں دھاندلیاں کرنا کانگریس سے ہی سیکھا ہے چنانچہ الہ آباد، ہائی کورٹ نے الیکشن میں دھاندلیاں کرنے پر اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو راج نارائن کی عدالت میں داخل کردہ عذر داری کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اندرا گاندھی کی انتخابی جیت کو مسترد کرتے ہوئے راج نارائن کا حق میں فیصلہ دیا تھا۔ لیکن اس عدالتی فیصلہ کو نہ مان کر توہین عدالت کرتے ہوئے اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔
اس ایمرجنسی میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر جو ظلم ڈھائے گئے وہ ناقابل فراموش ہیں۔ دہلی کی جامع مسجد کے سامنے اور مسجد کی سیڑھیوں پر سنجے گاندھی بلڈوزر چلوا کر سارے دوکانات اور مسجد کی سیڑھیوں کو ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا تھا۔ مسلمانوں کی نس بندی کروادی تھی۔ یہ کہہ کر کہ مسلمان زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں۔ پھر راجیوگاندھی نے بابری مسجد کا تالا کھلوا کر اور پس پردہ رہ کر مورتیاں رکھوا کر، پھر شیلا نیاس کرواکر رہی سہی کثر پوری کروادی تھی۔ اس کے بعد نرسمہاراؤ نے بابری مسجد شہید کروا کر کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ چھوڑا۔
کانگریس جیسا بالائی سطور میں کہا جاچکا ہے کہ نہرو اور شاستری ادوار اور وزارت عظمی میں حقیقی معنوں میں سیکولر اور اقلیت دوست رہی بعد میں مسلمان دلت اور دیگر اقلیتیں صرف ووٹ بنک کی طرح استعمال کی گئیں۔ کانگریس کی نرم ہندتوا پالیسی نے ہی بی جے پی کو برسر اقتدار لانے میں کامیاب رول ادا کیا ہے۔
آج کانگریس کا جو حشر ہوا ہے وہ اس کی غلط اور نرم ہندوتوا پالیسیوں کا خمیازہ ہے جسے اسے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آج کانگریس پوری طرح ٹیٹانک جہاز کی طرح ڈوب چکی ہے۔ اب ابھرنے کی لاکھوں کوششیں کر رہی ہیں لیکن ابھر نہیں پارہی ہے۔ کانگریس کو ڈوبتا ہوا جہاز سمجھ کر اس کے قائدین چھوڑ کر جا چکے ہیں اور ابھی کچھ پرتول رہے ہیں کہ موقع ملتے ہی اڑ جائیں۔ چونکہ یہ ہمیشہ اقتدار کے بھوکے تھے اور بھوکے ہیں اور بھوکے رہیں۔ ملک وقوم کی خدمت اور رعایا کی خوش حالی کبھی ان کا ایجنڈہ نہ تھے۔ اب جو سینئر اور پرانی کانگریس باقی رہ گئے وہ اپنے ان زرین پارٹی اصولوں کو سینہ سے لگائے ہوئے ہیں۔ ان کی غیرت وحمیت اور پارٹی سے محبت انھیں پارٹی چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرتی لیکن پارٹی میں اب ان کا وقار نہیں رہا ہے۔ وہ پارٹی میں رہ کر بھی کسمسارہے۔ پارٹی میں ان کا دم گھٹ رہا ہے پھر بھی ان کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہے ہے کہ پارٹی چھوڑ کر کسی اور پارٹی میں شامل ہوجائیں وہ سونچتے ہیں کہ دم آخر اپنی آبرو کیوں گنوائیں کم از کم وہ مرتے وقت برائے نام ہی سہی کانگریس ہی کہلاتے رہیں۔ آج دگ وجئے سنگھ، کپل سبل، چدمبرم، سی ۔ ایم۔ ابراہیم اور دیگر ذہین تجربہ کار۔ وفادار قائدین کی ضرورت باقی پیش رہتی ہے۔
البتہ ناتجربہ کار اور گاندھیائی خاندان کے وفادار طابعدار قائدین کی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔ جو غیر کانگریس حکومتوں کو غیر فضول او نامعقول تنقیدوں کے ذریعہ نشانہ بنا کر خود کو عوام کی نظر میں گرا رہے ہیں اور کانگریس کی شبیہ کو بگاڑ رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس جو عوام میں مقبولیت اور اعتماد دونوں کھوچکی ہے۔ اپنی عظمت رفتہ کو بحال نہیں کر پارہی ہے۔ اب کوئی انتخاب جیتنا کانگریس کے لئے ممکن نہیں رہا ہے لہٰذا کانگریس کے قائدین کے لئے ممکن نہیں رہا ہے لہٰذا کانگریس کے قائدین کانگریس کو تیاگ کر اپنے مستقبل کو تلاش کرنے کے لئے بی جے پی اور دیگر پارٹیوں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ مجبور کانگریس کو پرشانت بھوشن کے مشوروں کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ وہ متعدد بار ہر دوچار روز میں سونیا گاندھی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ کانگریس جو ڈوبتا ہوا جہاز بن چکی ہے مشکلات سے باہر نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔ کانگریس میں گروہ بندیاں، آپسی اختلافات اور ایک دوسرے ٹانگ کھینچنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر قابو پانے کی اشد اور شدید ضرورت ہے۔ پارٹی کو ڈسپلن شکنی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا ہوگا۔ پارٹی قائدین اور ورکرس کو ایک جٹ کرنا ہوگا۔ قائدین کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ خود نمایاں کرنے اور فعال بتانے کے لئے بیجا اور فضول تنقیدوں سے اجتناب کرنے کا پابند بنانا ہوگا۔ تنقید برائے تنقید نہ ہو بلکہ تعمیری اور ٹھوس جسے عوام بھی سراہیں تا کہ عوام کو لگے یہ فضول کی بکواس کر رہاہے اور جھوٹ الزامات لگا کر حکومت کو بدنام کر رہا ہے۔ تعمیری اور واجبی تنقید سے پارٹی کی امیج مزید خراب ہوگیا۔ پارٹی کو مدبر قائدین کی ضرورت ہے۔
کانگریس ہندوستان کی سب سے قدیم اور عظیم سیاسی پارٹی رہی ہے۔ اس کی سیاسی، سماجی اقتداری خدمات شاندار رہی ہیں۔ ماضی تابناک رہا ہے۔ ملک کی ترقی میں کانگریس نے جو ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ اسے دہرانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس اس ملک میں جس قدر خطرے میں پہلے کبھی نہیں تھا۔ مودی۔ شاہ۔ اور آر ایس ایس کی حکومت برطانوی سمراج سے زیادہ خطرناک ہے۔ بی جے پی لڑاؤ اور حکومت کرو اور اقلیتوں پر ظلم کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہندوستان ایک بار پھرمنقسم ہونے کی دہلیز پر آپہونچے ۔ اس وقت کانگریس کو بحران سے نکلنے کے لئے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے لیکن افسوس ڈوبتی کانگریس تنکوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ یہ تنکے بھی مسیر نہیں آرہے ہیں۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button