ڈگ وجئے سنگھ کو ایک سال کی سزائے قید،ضمانت منظور

یہ کیس 2011 میں بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے احتجاجی کارکنوں کے ساتھ جھڑپ سے متعلق ہے۔ بعدازاں عدالت نے تمام خاطیوں کو 25 ہزار روپے فی کس کے مچلکے پر ضمانت منظور کرلی۔

اندور: مدھیہ پردیش کے ضلع اندور کی ایک عدالت نے آج 6 افراد بشمول کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ کو ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔

یہ کیس 2011 میں بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے احتجاجی کارکنوں کے ساتھ جھڑپ سے متعلق ہے۔ بعدازاں عدالت نے تمام خاطیوں کو 25 ہزار روپے فی کس کے مچلکے پر ضمانت منظور کرلی۔

جج مکیش ناتھ نے ڈگ وجئے سنگھ اور جین کے سابق رکن پارلیمنٹ پریم چند گڈو کو تعزیرات ہند کی دفعہ 325 اور 109 کے تحت خاطی قرار دیا۔ اننت نارائن، جئے سنگھ دربار، اسلم لالہ اور دلیپ چودھری کو تعزیرات ہند کی دفعہ 325 کے تحت خاطی قرار دیا گیا۔

مہیش پرمار (ترانہ کے کانگریس رکن اسمبلی)، مکیش بھاٹی اور ہیمنت چوہان کو ثبوتوں کے فقدان کے سبب بری کردیا گیا۔ عدالت نے خاطیوں پر پانچ ہزار روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا۔

ضمانت ملنے کے بعد ڈگ وجئے سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ خاطی قرار دیئے جانے کے خلاف اپیل کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اصل ایف آئی آر میں میرا نام تک نہیں تھا، بعدازاں سیاسی دباؤ کے تحت پولیس نے ملزمین کی فہرست میں میرا نام درج کرلیا۔

سنگھ اور گڈو کے وکیل راہول شرما نے کہا کہ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بی جے وائی ایم کارکن رتیش خابیہ کو مارپیٹ کرنے کیلئے دوسروں کو اکسایا تھا۔

پولیس کے مطابق بی جے وائی ایم کارکنوں نے 17 جولائی 2011 کو ڈگ وجئے سنگھ کو سیاہ جھنڈیاں دکھانے کیلئے ایک احتجاج منظم کیا تھا جب ان کا قافلہ اد جین کے جیو واجی گنج سے گزر رہا تھا۔ جس کے نتیجہ میں جھڑپ کا یہ واقعہ پیش آیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button