کابل ہاسپٹل حملہ میں سینئر طالبان کمانڈر ہلاک

افغان ذرائع کے بموجب کل کا حملہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے قندھاری دھڑے کے درمیان حساب برابر کرنے کی کوشش ہوسکتا ہے کیونکہ منگل کے حملہ میں حقانی نیٹ ورک کا ایک سینئر ترین فوجی کمانڈر مارا گیا۔

کابل: سردار محمد داؤد خان ہاسپٹل پر منگل کے دن دہشت گرد حملہ میں طالبان کے ایک سینئر کمانڈر مولوی حمداللہ مخلص ہلاک ہوئے۔ حملہ کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ خراسان نے لی ہے۔ مولوی حمداللہ مخلص‘ طالبان کے کابل ڈیویژن کے کمانڈر تھے۔ وہ طالبان کے ان اولین کمانڈرس میں ایک تھے جو اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد صدارتی محل میں داخل ہوئے تھے۔

مولوی حمداللہ مخلص کی نعش کی تصاویر اور 15  اگست کو کابل کے صدارتی محل کی تصاویر سوشیل میڈیا میں زیرگشت ہیں۔ کابل کے صدارتی محل میں انہیں کرسی پر بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔ اشرف غنی کی سیکریٹ سروس(پریسیڈنٹ پروٹیکٹیو سروس) نے اشرف غنی کے فرار ہونے کے بعد مولوی حمداللہ مخلص کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ وہ کابل میں ملٹری چیف تھے اور بدری بریگیڈ کے کمانڈر بھی تھے۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے سینئر کمانڈر تھے اور سابق میں پکتیکا اور خوست صوبوں میں طالبان کے شیڈو گورنر رہ چکے تھے۔

اسلامک اسٹیٹ خراسان نے منگل کے دن دواخانہ پر پیچیدہ حملہ کیا تھا جس میں 25  ہلاکتیں ہوئیں اور 50  دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسلامک اسٹیٹ کے ایک فدائن نے دواخانہ کی گیٹ پر خود کودھماکہ سے اڑالیا تھا جبکہ اسلامک اسٹیٹ خراسان کے 4  ارکان نے 400 بستروں والے دواخانہ کی عمارت پر حملہ کردیا تھا۔ حملہ کے بعد اسلامک اسٹیٹ خراسان کے 2  ارکان پکڑے گئے۔

کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں غیرملکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ ان کا تعلق کس ملک سے ہے۔ افغان ذرائع کے بموجب کل کا حملہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے قندھاری دھڑے کے درمیان حساب برابر کرنے کی کوشش ہوسکتا ہے کیونکہ منگل کے حملہ میں حقانی نیٹ ورک کا ایک سینئر ترین فوجی کمانڈر مارا گیا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button