کالی رنگت اورموٹاپا بھی حسن کا معیار ٹھہرا

مثالی خوبصورتی کا معیار ہر ملک میں مختلف ہوتاہے اور ہر شخص اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے جیسے ان کے ملک میں دیکھا جاتا ہے۔ ویسے تو خوبصورتی آنکھوں میں ہوتی ہے مگر کچھ ممالک میں جسمانی نقص کو بھی کشش اور خوبصورتی میں گردانا جاتا ہے۔

غلام زہرا:

مثالی خوبصورتی کا معیار ہر ملک میں مختلف ہوتاہے اور ہر شخص اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے جیسے ان کے ملک میںدیکھا جاتا ہے۔ ویسے تو خوبصورتی آنکھوں میں ہوتی ہے مگر کچھ ممالک میں جسمانی نقص کو بھی کشش اور خوبصورتی میں گردانا جاتا ہے۔ یہاں مختلف ممالک ایسے ہی خوبصورتی کے دلچسپ معیار کے بارے میں جانیے جو آپ کو دنگ کردیں ۔

آپ نے آج تک جہاں بھی سنا ہوگا دبلی پتلی لڑکیوں کو خوبصورت کہتے سنا ہوگا۔ مگر آج یقینا آپ یہ جان کر حیرت زدہ رہ جائیںگے کہ خطہ زمین پر ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں لڑکیوں کا موٹاپا ان کے حسن کا معیار ہے۔ جی ہاں! مغربی افریقی ملک مورنطانیہ میں اس وقت تک کسی خاتون کو خوبصورت نہیں مانا جاتا جب تک اس کی توند نہ نکلی ہوئی ہو، تو وہاں لڑکیاں اس معیارکو پانے کیلئے ایسے خصوصی فارمز میں جاتی ہیں جہاں انہیں روزانہ16 ہزار کیلوریز کا استعمال کرایا جاتا ہے،مگر اس روایت کے نتیجے میں بیشتر لڑکیاں معدے کے امراض کا بھی شکار ہوجاتی ہیں۔

مورنطانیہ میں موٹاپا معیار حسن تصور کیاجاتا ہے اورلڑکیوں کو شادی کیلئے تیار کرنے (موٹا) کیلئے باقاعدہ کیمپس میں بھیجا جاتا ہے۔ ان کیمپوں میں انہیں روزانہ سولہ ہزار سے زائدکیلوریز دی جاتی ہیں جوکہ کسی مرد باڈی بلڈر کے مقابلے میںچار گنا زائد خوراک ہے۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زیادہ غذا دی جاتی ہے اور سات سے چودہ برس کی لڑکیوں کو کیمپ میں بھیج دیاجاتا ہے جہاں انہیں بھاری اور ٹھوس غذائیں کھلائی جاتی ہیں جیسے کہ لیٹرزکے حساب سے بکری کا دودھ ، چکنائی میںپکے کھانے اورخاص اجزا سے تیار کئے جانے والے پکوان اور ستم بالائے ستم یہ کہ اگرکوئی لڑکی اتنی زیادہ مقدار میںخوراک کھانے سے انکار کرے تو اسے باقاعدہ ڈرایا اوربعض صورتوں میں مارا بھی جاتا ہے۔

یہاں تک کے انہیں بھوک بڑھانے کی دوائیاں بھی دی جاتی ہیں۔ اور جولڑکی جتنی زیادہ موٹی ہوگی لڑکے کے نزدیک وہ شادی کیلئے اتنی ہی موزوں اورخوبصورت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیوگنی سمیت افریقہ کے متعدد ممالک میں لوگ اپنے جسموں کو مختلف انداز اور لاتعداد فنکارانہ زخموں سے سجاتے ہیں ۔ جلد کو اس طرح چھیدنا مردوں میں بلوغت کی نشانی ہوتی ہے جبکہ خواتین میں یہ ’’خوبصورتی‘‘ سمجھی جاتی ہے۔

ہم لوگوں کو تو اس میں کوئی کشش نظر نہیں آتی مگر وہاں یہ مثالی خوبصورتی تصور کی جاتی ہے۔ افریقہ کے فبولا نامی قبیلے میں خواتین کیلئے خوبصورتی اس وقت تک نامکمل رہتی ہے جب تک ان کی پیشانی چوڑی نہ ہو، اسی لیے بیشترخواتین اپنے سر کے اوپری حصے کے بالوں کو صاف کرکے چوڑی پیشانی کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے مورسی قبیلے میں لڑکیاں اپنے نچلے ہونٹ کی جلد کو پھیلانے کیلئے خصوصی ڈسک کا استعمال کرتی ہیں، یہ ڈسک جتنی بڑی ہوگی ، اس لڑکی کا سماجی رتبہ بھی اتنا ہی بلند ہوگا اور شادی سے پہلے زیادہ جہیز بھی ملے گا۔ اسی طرح میانمار کے ایک خاص قبیلے کی خواتین جن کی گردنوں میںلوہے کی تاروں جیسا کچھ دکھتا ہے اپنی منفرد پہچان اورصدیوں سے جاری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے لمبی گردن والے اس رواج کو اپنائے ہوئے ہیں۔

میانمار کے اس قبیلے کانام گیان قبیلہ ہے۔ یہاں کی روایات کے مطابق جس لڑکی کی گردن جتنی زیادہ لمبی ہوگی وہ اتنی ہی حسین ہوگی۔ اس لمبی گردن کے حصول کیلئے شروع کی جانے والی جدوجہد پانچ برس کی عمر سے شروع ہوجاتی ہے جس میں گردن کے گرد پیتل کی انگوٹھی نما لمبی تاریں ڈالی جاتی ہے ۔ جب تاریں چھوٹی پڑنے لگیں تو بڑی تاریں ڈال کر انہیں بدل دیاجاتا ہے۔ وہاں کے رہنے والوں کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ یہ روایت خواتین کو شیروںسے بھی تحفظ دیتی ہے۔ اس قبیلے کی عورتیں خوبصورتی کی جو قیمت چکاتی ہیں وہ یقینا ناقابل یقین ہے۔

ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک ہی قطار میں لگے دانتوں کو مثالی مسکراہٹ کیلئے ضروری مانا جاتا ہے اور بیشتر افراد اس سے ہٹ کر خوبصورتی کا تصور بھی نہیں کرسکتے، مگر جاپان میں لوگوں کی سوچ مختلف ہے، وہاں مسکراہٹ کی کشش کی انتہا ٹیڑھے دانتوں کی نمائش کو سمجھی جاتی ہے۔ وہاں مانا جاتا ہے کہ لوگوں کے اندر یہ چیز ہوتو وہ زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جاپانی نوجوان مرد وخواتین میں ڈینٹسٹ بہت مقبول ہیں۔

آپ نے اکثر لوگوں کو اپنے جسم کے مختلف حصوں پہ ٹیٹو بنواتے دیکھا ہوگا۔ مختلف ثقافتوں میں اس کے متنوع معانی اوراہمیت ہے ۔نیوزی لینڈ کے مقامی قبائل میںجسم پہ ٹیٹو بنوانے کا رواج تقریباً ایک ہزار سالوں سے چلا آرہا ہے۔ان مستقل نشانوںکو مقامی لوگT a-Mako کے نام سے پکارتے ہیں جن کی خاصیت یہ ہے کہ انہیں سیاہ یا پھر نیلے رنگ سے چھیدواتے ہیں۔

یہ زیادہ تر منہ بنائے جاتے ہیں جیسے ہونٹوں پر ، تھوڑی اورگالوںپر۔ ان ٹیٹوز کو بنانے کیلئے خاص قسم کے نوکیلے اوزاروں کا استعمال کیاجاتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس کے پس منظر میں جھانکا جائے تو قدیم یورپی تہذیب میںایسے نشانات ان لوگوں کے منہ پر ہوتے جنہیں معاشرتی طور پر معزز سمجھا جاتا تھا۔ اور ایسے افراد کسی بھی شعبے کے ماہرین تصور کئے جاتے ۔ ان نشانات کو خواتین میںخوبصورتی کی علامت کے ساتھ ہمت واستقلال کی علامت بھی تصور کیا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا میں پلاسٹک سرجری کو عام معمول سمجھا جاتا ہے، بڑے شہروں میںہرجگہ اس حوالے سے اشتہارات نظرآتے ہیں، جس کی وجہ وہاں دل کی شکل کے چہروں کو خوبصورتی تسلیم کرنا ہے جس کے حصول کیلئے بیشتر کورین افراد پیچیدہ آپریشنز کاحصہ بنتے ہیں۔ اس عمل کے دوران اکثر جبڑے کی ہڈیوں کو توڑ کر تین حصوں میں تقسیم کیاجاتا ہے اور پھر انہیں تھوڑی کو دل کی شکل میںبدلنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

آپ نے یہ تو سن رکھاہوگا کہ مٹی کے برتنوں میںکھانے سے لذت بڑھ جاتی ہے ،مگرشاید ہی کسی کو مٹی کی پلیٹیں ہونٹوں میںرکھے دیکھا ہو۔ یقیناآپ بھی چونک گئے ہوںگے، اتھوپیا کہ مرسی قبیلے میں خوبصورتی کامعیار سب سے جدا ہے۔ سخت مٹی کی پلیٹوں کو نچلے ہونٹ میںدبانا جس سے زیریں ہونٹ بڑاور موٹا دکھے ایک رواج ہے۔ اس مقصد کیلئے جیسے ہی لڑکیاں بلوغت کی عمر کو پہنچتی ہیں ان کے نیچے کے سامنے والے دو دانت نکال کر نیچے والے ہونٹ میںایک سوراخ کیاجاتا ہے جس میںمٹی کی بنی ایک پلیٹ رکھی جاتی ہے۔

یوں ہونٹ جتنا موٹا اور لٹکاہوتا ہے اس لڑکی کو اتنا ہی خوبصورت اورجاذب نظر تصور کیاجاتا ہے۔ کنول کے پھول کی خوبصورتی کے بارے میں تو آپ نے سن رکھاہوگا مگر کنول کے پھول کی مانند پائوں کو خوبصورتی کا معیار قرار دینے کے رواج سے آپ یقینا ناواقف ہوںگے۔ شائد آپ کو یہ سن کر بے پناہ حیرانی ہوکہ قدیم چینی ثقافت میںلڑکیوں کے پائوں کو باندھنا ایک رسم تھی۔ سنہری کنول جیسے پائوں کی خاطر لڑکیوں کو اپنے انگوٹھے اور انگلیوں کی قربانی دینا پڑتی۔ اچھے رشتوں کی امید پر چکائی جانے والی یہ قیمت درحقیقت بہت بھاری تھی۔

چھ سے سات برس کی عمر کو پہنچتی بچیوں کے پائوں مائیں کپڑے سے اس طرح باندھ دیتیں کہ چھوٹے چھوٹے کنول کے پھول نما جوتوں میںپورے آجائیں۔ جس سے پائوں کے بڑھنے کا امکان ہی نہ رہتا اور یوں کنول کی شکل میںدکھنے والے پائوں کا حصول ممکن ہوتا۔ گوکہ اس حوالے سے متضاد رائے بھی پائی جاتی ہے کہ یہ روایت ایک خوبصورت جھانسے کے سوا کچھ نہ تھی جس سے خواتین کو گھروں تک محدود کردیاجاتا اوران سے کام لیاجاتا۔ وجوہات چاہے جو بھی ہوں، لیکن درحقیقت یہ ایک تکلیف دہ عمل تھا جس پر بالاآخر چینی حکومت نے1940ء میں پابندی عائد کردی۔

لیکن اس کے باوجود چین کے کئی دیہات میں ابھی تک یہ رواج جاری ہے جس کے مطابق چھوٹے پائوں اعلیٰ حیثیت ومرتبے اورخوبصورتی کی علامت ہیں۔ یہ ہی نہیں چین اور تھائی لینڈ وغیرہ میں زردجلدکو خوبصورتی کا معیار سمجھاجاتاہے، اگرآپ وہاںکسی دکان میںفیس کریم کو تلاش کرنے کی کوشش کریںگے تو بلیچنگ کریم کو تلاش کرنا ناممکن ہوگا، متعدد چینی افراد بغیر ماسک کے ساحل پر بھی نہیں جاتے کیونکہ وہ اپنی جلد کو سورج کی شعاعوں سے بچانا چاہتے ہیں۔

ویسے شاید یقین کرنا مشکل ہومگر ایران میںسیدھی ناک کیلئے مرد اورخواتین کوئی بھی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ جو یہاں نہ صرف خوبصورتی کی علامت بلکہ معاشرے میںایک مخصوص مقام بھی دیتا ہے، مگر اس سے بھی ہٹ کر جوعجیب ترین چیز یہاں نظرآتی ہے وہ عوامی مقامات پر اپنے چہرے یا ناک پر سرجیکل ڈریسنگ کے ساتھ گھومنا ہے۔ تاجکستان کے مختلف خطوں میںجڑی ہوئی بھنوں کو نسوانی خوبصورتی کی علامت تصور کیا جاتا ہے، اگر قدرتی طور پر کسی لڑکی کی بھنویں جڑی ہوئی نہ ہوںتو وہ اس کا حصول کسی سیاہ لکیر سے ممکن بناتی ہے،وہاں کے رہنے والوں کا ماننا ہے کہ ایسی بھنویں خوش قسمت زندگی کی علامت ہوتی ہیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

Back to top button