کامیاب ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنا راستہ خود بناتے ہی

ماں کے چھوڑ کر چلے جانے کے بعد ریشماء اپنے دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ اپنی خالہ کے گھر میں رہنے لگی۔ ریشماء کی خالہ کے گھر کے حالات بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں تھے۔ اس کی خالہ لوگوں کے گھروں میں بطور خادمہ کام کرتی تھی۔ ریشماء کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کی خالہ کب تک اس کو اپنے گھر میں رہنے دے گی۔ کیونکہ بقول ریشماء جیسا کہ اخبار نے لکھا ہے ریشماء کی خالہ کو خود دو بچے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اپنی خالہ پر بوجھ سمجھتی ہے۔

محمد مصطفی علی سروری

ریشماء نے اس مرتبہ دسویں کے بورڈ کے امتحانات میں 234 مارکس حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ تاملناڈو کے دارالحکومت چنئی کے کارپوریشن ہائی اسکول جو کہ سی بی روڈ اولڈ واشرمن پیٹ پر واقع ہے کی طالبہ نے 500 میں 234 مارکس حاصل کیے تو یہ کوئی ایسا شاندار نتیجہ نہیں تھا کہ اس پر جشن منایا جائے۔ لیکن قارئین کرام اس نتیجہ کے پیچھے ایسی کہانی چھپی ہے کہ اخبار نیو انڈین ایکسپریس نے 21؍ جون 2020ء ریشماء کی ایس ایس سی میں کامیابی کے متعلق ایک تفصیلی خبر شائع کی۔ آخر ریشماء کون ہے اور اس کا ایس ایس سی میں کامیاب ہونا ایسا کیا خاص ہے۔ ان سارے سوالات کے جوابات اخبار نیو انڈین یکسپریس کے نمائندے نیروپما وشواناتھن کی رپورٹ سے مل جاتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ ریشماء کے والد جی ناصر اکا اس وقت انتقال ہوگیا جب ریشماء کی عمر صرف 5 برس تھی۔ اس کے ایک برس بعد اس کی ماں بھی اس کو اور اس کے دو چھوٹے بھائیوں کو چھوڑ کر چلی گئی۔اب ریشماء اکیلی نہیں تھی بلکہ اس کم عمری میں اس کے کاندھوں پر اپنے دو چھوٹے بھائیوں کی بھی ذمہ داری آ گئی تھی۔
سی بی روڈ کے کارپوریشن اسکول میں اے جٹن تامل زبان کے ٹیچر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ ریشماء ایک ذہین طالب علم ہے۔ اگر اس کے حالات ٹھیک رہتے تو وہ تعلیمی میدان میں اور بھی نمایاں مظاہرہ کرتی تھی۔ لیکن گھر کے خراب حالات کے باوجود ریشماں نے غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ ‘‘
ماں کے چھوڑ کر چلے جانے کے بعد ریشماء اپنے دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ اپنی خالہ کے گھر میں رہنے لگی۔ ریشماء کی خالہ کے گھر کے حالات بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں تھے۔ اس کی خالہ لوگوں کے گھروں میں بطور خادمہ کام کرتی تھی۔ ریشماء کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کی خالہ کب تک اس کو اپنے گھر میں رہنے دے گی۔ کیونکہ بقول ریشماء جیسا کہ اخبار نے لکھا ہے ریشماء کی خالہ کو خود دو بچے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اپنی خالہ پر بوجھ سمجھتی ہے۔
وہ کہتی ہے کہ میں اپنے بھائیوں کے کپڑے خود دھوتی ہوں۔ ان کے سارے کام میں ہی کرتی ہوں۔ ہوم ورک کرنے میں اپنے بھائیوں کی مدد کرتی ہوں۔ ان کو پڑھائی کرنے میں مدد کرتی ہوں۔ ریشماء کے دونوں چھوٹے بھائی بھی کارپوریشن کے سرکاری اسکول میں ہی پڑھتے ہیں۔
جب کبھی ریشماء اور اس کے چھوٹے بھائی اسکول کو بھوکے پہنچتے ہیں تو اسکول کے ٹیچرس ان لوگوں کو کھانا کھلانے کا انتظام کرتے تھے۔ اتنا ہی نہیں سرکاری اسکول کے ٹیچرس ریشماء کی مدد کے لیے آپس میں چندہ کر کے اس کے لیے اور اس کے بھائیوں کے لیے کھانے کے علاوہ کپڑوں کا بھی انتظام کرتے ہیں۔
اب ریشماء نے دسویں کا امتحان پاس کرلیا ہے۔تو اس کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ گیارہویں جماعت کی تعلیم کے لیے اس کو دوسرے تعلیمی ادارے کا رخ کرنا پڑے گا۔
وہاں پر ٹیچرس کیسے ہوں گے۔ یہ سونچ کر وہ پریشان ہے۔ آگے پڑھ لکھ کر اس کو کیا بننا ہے نہیں معلوم۔ فی الحال وہ اپنی تعلیم آگے جاری رکھنے کے لیے مضبوط ارادے رکھتی ہے۔
دسویں کے امتحان میں 47 فیصد مارکس سے کامیابی حاصل کرنا بظاہر کوئی بڑی کامیابی نہیں لیکن اس سب کے باوجود ریشماء کی کامیابی اہمیت ان معنوں میں رکھتی ہے کہ باپ کے فوت ہوجانے اور ماں کے دنیا چھوڑ دینے کے بعد بھی ریشماء نے ہمت نہیں چھوڑی۔ نہ صرف اپنے بارے میں سوچا بلکہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں کا بھی خیال رکھا اور آگے بڑھنے کے لیے تعلیم کو ایک زینہ بنانے کی کوشش کی۔ وہ جو کہاوت ہے کہ جس کا کوئی نہیں اس کا خدا ہے۔ ریشماء نے کوئی بہت زیادہ مارکس تو حاصل نہیں کیے لیکن قسمت دیکھئے کہ اس کی جدو جہد بھری زندگی کو دیکھتے ہوئے انگریزی کے اخبار نے اس کی دسویں میں کامیابی پر اس کی تصویر کے ساتھ خبر شائع کی۔ یوں ریشماء کا انگریزی اخبار میں اس طرح کا کوریج ہوا جس کے متعلق لوگ پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی سوچ نہیں سکتے ہیں۔
یہ تو دسویں جماعت میں کامیابی حاصل کرنے والی محنتی لڑکی ریشماء کی مثال تھی جو کہ چنئی سے تعلق رکھتی ہے۔ ہمارے آج کے کالم کی دوسری کہانی بھی چنئی کی ہی ایک ایسی لڑکی کی ہے جو مسلمان ہے اور سرکاری تعلیمی ادارے میں ہی پڑھتی ہے۔ عائشہ صدیقہ بھی کورو کو پیٹ کے کارپوریشن اسکول میں 12 ویں جماعت کی طالبہ ہے۔
جون 2022 میں جب 12 ویں کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو عائشہ صدیقہ نے 600 میں سے 580 مارکس حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ جبکہ ریاضی میں اس طالبہ نے 100 فیصد نشانات حاصل کیے۔
اب ذرا عائشہ کے گھریلو حالات کے بارے میں جان لیجئے۔ اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی 21؍ جون کی رپورٹ کے مطابق عائشہ کے والد گذشتہ پانچ برسوں سے بے روزگار ہیں اور گھر پر ہی ہیں۔ اس کی ماں گرہست خاتون ہیں اور گھر پر اپنے ایک ذہنی معذور بچے کی نگرانی اور دیگر تین کی پرورش کر رہی ہیں۔ چار بھائی بہنوں میں عائشہ سب سے بڑی ہیں۔
دو برس قبل جب کرونا وائرس کے پھیلائو کے سبب لاک ڈائون اور پابندیاںلگائی گئی تو عائشہ آن لائن کلاسز میں موبائل فون نہ ہونے کے سبب شرکت نہیں کرسکی لیکن تعلیمی سال کے اختتام پر امتحانات سے پہلے جب اسکول، کالجس دوبارہ کھول دیئے گئے تو عائشہ نے اسکول جاکر اپنے ٹیچرس سے مدد طلب کی اور ان کی رہنمائی میں نوٹس بناکر امتحان کی تیاری شروع کردی۔ بارہویں جماعت میں اپنی کامیابی کے بعد اخبار نیو انڈین ایکسپریس کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے عائشہ نے بتلایا کہ وہ خواتین کو با ختیار بنانے کے لیے چاہتی ہیں قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے متعلق وہ کہتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ سے ہی یہ بات نوٹ کی کہ خواتین کو سماج میں نہ صرف امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کے ساتھ سماجی نا انصافی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ عائشہ کہتی ہیں کہ میں پڑھ لکھ کر کمانا چاہتی ہوں تاکہ اپنے والد کا قرضہ چکاسکوں کیونکہ پچھلے پانچ برسوں میں کے دوران جب سے میرے والد کی نوکری چلی گئی ہے وہ گھر کے اخراجات چلانے کے لیے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
قارئین یہ کہانی تو عائشہ کی تھی جس کی شاندار کامیابی پر اخبارات نے اس کے متعلق خبر شائع کی۔ آیئے اب کیرالا کے ایک ایسے طالب علم کے متعلق بات کرتے ہیں جس کا نہ تو کسی اخبار نے انٹرویو لیا اور نہ ہی کسی نے اس کی تصویر شائع کی۔ پتھان نمیتا کیرالا کا ایک ضلع ہے۔ اس ضلع میں رہنے والے جشنو نام کے ایک نوجوان نے جب کیرالا کے ایس ایس ایل سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی تو اس کو نہ تو بہت اعلیٰ نشانات حاصل ہوئے اور نہ ہی اس نے کوئی نمایاں کامیابی حاصل کی لیکن جشنو چاہتا تھا کہ اس کامیابی کا وہ جشن منائے اور لوگوں کو بتلائے کہ اس نے دسویں کا امتحان پاس کرلیا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جشنو نے اپنے گھر کے باہر ایک بڑا سا فلیکسی بیانر لگایا۔ کالی عینک پہن کر کھینچی گئی تصویر کے ساتھ مسیج میں جشنو نے لکھوایا کہ میں اپنے آپ کو ایس ایس ایل سی کا امتحان پاس کرنے کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ میری اصل اسٹوری تو اب شروع ہوتی ہے۔ اس فلیکسی بیانر کا ٹائٹل تھا تاریخ صرف چند لوگوں کے لیے راستہ بناتی ہے۔
قارئین کرام جب جشنو کی کامیابی پر کسی اخبار نے کوئی خبر نہیں دی اور نہ ہی اس کو میڈیا میں کوریج ملا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیرالا کے اس نوجوان کی کہانی ہم تک کیسے پہنچی۔ تو قارئین ہم بتلانا چاہیں گے کہ جشنو نے جب اپنی دسویں کی کامیابی کا بیانر لگوایا تو کیرالا کے وزیر تعلیم و محنت نے اس کے پوسٹر کو تصویر کے ساتھ اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا ۔ یوں جشنو کی اپنی کامیابی پر خود کو ہی مبارکباد دینے کی خبر خوب وائرل ہوگئی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔ اصل بات تو جشنو کی اس حرکت کے پیچھے چھپی وجوہات ہیں۔ جشنو کے لیے دسویں کا امتحان کامیاب کرنا بڑی بات صرف اس لیے نہیں تھی کہ وہ پڑھائی میں کمزور تھا۔ دراصل جشنو کو پڑھانے کے لیے ان کے گھر کے حالات سازگار نہیں تھے۔ ملیالی میڈیا کے مطابق جشنو کے والدین یومیہ اُجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان کے گھر میں الیکٹریسٹی نہیں ہے۔ وہ کیروسین لیمپ کی روشنی میں پڑھتا تھا۔ اسکول جانے کے لیے جشنو کو روزآنہ 14 کیلو میٹر کا سفر کرنا پڑتا تھا۔ جشنو کے خاندان والے اور خود محلے والے اس کی اس جدوجہد پر ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ وہ دسویں کا امتحان پاس نہیں کرپائے گا۔
جشنو کے حوالے سے بتلایا گیا کہ لوگوں کے تبصرے اور رکیک جملے اس کے لیے بڑے تکلیف دہ تھے۔ اس لیے جب جشنو نے کامیابی حاصل کی تو اس نے اپنی کامیابی کا جشن مناکر ان لوگوں کو پیغام دیا کہ یہ تو ابھی شروعات ہے۔
کیرالا کے وزیر تعلیم وی سیوا کنٹی نے جشنو کی فلیکسی کی فوٹو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جیسا کہ خود طالب علم نے ایک نئے باب کے آغاز کے بارے میں کہا ہے میری خواہش ہے کہ اس طالب علم کی دسویں میں کامیابی واقعی اس کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز کا سبب بنے۔
قارئین کرام کرونا کے دوران اپنے عزیزوں کی موت کی وجہ سے خراب گھریلو حالات کے سبب، ملازمت کے چلے جانے پر، معاشی تنگی کی بنیاد پر بے شمار طلبہ ترکِ تعلیم کر بیٹھے۔ لیکن ریشماء ہو یا عائشہ یا پھر جشنو کی زندگی کی جدوجہد سے ہم سب کو یہ پیغام ملتا ہے کہ حالات چاہے جتنے بھی خراب ہوں ترکِ تعلیم کوئی حل نہیں اور تعلیم کا کوئی متبادل نہیں۔ اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو تعلیم کی اہمیت خود سمجھنے اور تعلیم کے خواہشمند ضرورت مندوں کی مدد کرنے والا بنادے۔ کیونکہ اپنے بارے میں تو سبھی سونچتے ہیں۔ انسان وہ ہے جو دوسروں کے بارے میں بھی سوچے۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)-sarwari829@yahoo.com
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button