کانپور اور پریاگ راج میں انہدامی کارروائی کا مسئلہ،13 جولائی کو سماعت

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پاردی والا پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل کی سماعت کے بعد یہ حکم صادر کیا۔ تشار مہتا حکومت ِ اترپردیش کی طرف سے پیش ہوئے تھے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ 13جولائی کو اترپردیش کے کانپور اور پریاگ راج میں احتجاج کے بعد ملزمین کی عمارتوں کے ماورائے قانون انہدام پر درخواستوں کی ایک کھیپ کی سماعت کرے گا۔ یہ احتجاج‘ پیغمبر اسلام ؐ کے خلاف بی جے پی عہدیداروں کے قابل اعتراض تبصروں کی مخالفت میں کیا گیا تھا۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے بی پاردی والا پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل کی سماعت کے بعد یہ حکم صادر کیا۔ تشار مہتا حکومت ِ اترپردیش کی طرف سے پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ِ یوپی نے ایک مکتوب گشت کرایا ہے اور درخواست گزار جمعیت العلمائے ہند کی جانب سے پیش کئے گئے اضافی حقائق کا جواب دینے مزید مہلت طلب کی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق جس کے کاز کو درخواست گزار اٹھارہے ہیں‘ انہوں نے الٰہ ؑآباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے اور ان کی درخواست پر منگل کے روز ایک نوٹس جاری کی گئی ہے۔ مہتا نے نشاندہی کی کہ  متاثرہ فریق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیردوراں کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

اس پر بنچ نے درخواست گزار مسلم تنظیم کی سینئر وکیل نتیاراما کرشنن سے دریافت کیا کہ آیا انہیں ریاستی حکومت کی جانب سے طلب کردہ مہلت پر کوئی اعتراض تو نہیں۔

 راما کرشنن نے کہا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اور تعطیلات ختم ہونے کے بعد عدالت ِ عظمیٰ کی دوبارہ کشادگی کے بعد جولائی کے مہینہ کی کوئی تاریخ دی جاسکتی ہے۔ اس پر بنچ نے اس معاملہ کی مزید سماعت کے لئے 13 جولائی کی تاریخ مقرر کی۔

تبصرہ کریں

Back to top button