کانگریس کی تنظیم جدید کی طرف پہلا قدم، سونیا گاندھی نے پارٹی صدور کو عہدوں سے ہٹادیا

داخلی رسہ کشی کے چند ماہ بعد کانگریس ڈھیر ہوگئی۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست پر تبادلہ خیال کرنے اتوار کے روز کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ جس کے بعد سونیا گاندھی نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

نئی دہلی: صدرکانگریس سونیا گاندھی نے آج پارٹی کی تنظیم جدید کی طرف پہلا قدم بڑھاتے ہوئے پانچ ریاستوں کے صدور کو جہاں گذشتہ ہفتہ پارٹی کو بھاری اکثریت سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اُن کے عہدہ سے ہٹادیا۔ نوجوت سنگھ سدھو بھی ان قائدین میں شامل ہیں جن سے استعفیٰ دینے کی خواہش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سدھو نے صرف 8 ماہ پہلے اپنا عہدہ سنبھالا تھا۔

 کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے ٹویٹ کیا کہ ریاستی کانگریس یونٹوں کی تنظیم جدید کی راہ ہموار کرنے کیلئے استعفے طلب کئے جارہے ہیں۔ کانگریس کو پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے مقابلہ میں شکست ہوئی ہے اور وہ چار ریاستوں میں بہتر مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے جہاں اُسے اقتدار پر واپسی یا پھر بی جے پی کے ساتھ قریبی مقابلہ کی توقع تھی۔ پنجاب کی شکست بدترین تھی۔

 داخلی رسہ کشی کے چند ماہ بعد کانگریس ڈھیر ہوگئی۔  حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست پر تبادلہ خیال کرنے اتوار کے روز کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ جس کے بعد سونیا گاندھی نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

 انہوں نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں سینئر قائدین سے اپنے خطاب میں اپنے بچوں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی وڈرا کے ساتھ مستعفی ہوجانے کی پیش کش بھی کی تھی۔پارٹی قائدین کے مطابق سونیا گاندھی نے پارٹی کے مفاد میں قربانی دینے کیلئے استعفیٰ کی پیش کش کی تھی۔ لیکن اسے متفقہ طور پر مسترد کردیا گیا تھا۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button