کان اور دوسرا کان

محمد اسد اللہ

کان انسانی جسم کا مظلوم ترین عضو ہے ۔ تمام اعمال و افعال کے ڈرامے میں یہ ایک گونگا کر دار ہے ۔عالم تقریر میں معنی و مدعا عنقا ہو یا موجو د ،دامِ شنیدن بچھائے رکھنا، اس کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے ۔یہ ہاتھی ، گدھا یابیل جیسے کسی جانور کے جسم پر واقع ہو تو سننے کے بعد مکھیاں بھگانے کے بھی کام آ تا ہے ۔عام لوگوں کے نزدیک اس کا مصرف ”سننے“ کے علاوہ بعض اوقات ”نہیں سننا “بھی ہے ۔ اہلِ عقل جو باتوں میں موٹے اورباریک کے فرق کوسمجھتے ہیں، کانوں پر چھلنیاں لگا کر سنتے ہیں اور دونوں کانوں کو الگ الگ مقاصد کے لیے استعما ل کرتے ہیں ۔ ایک بطور Entrance ( داخلی دروازہ ) اور دوسرا بطور Exit (نکاسی کا دروازہ ) کہ لامحالہ کوئی بات ، مشورہ،تنبیہ یاحکم بن کرکسی کے منہ سے نکل ہی گئی ہے توایک کان سے داخل ہو کردوسرے کان سے بخیرو عافیت باہر نکل جائے ۔بعض لوگ ادائیگی سے پہلے اپنے الفاظ کو تھوڑا ٹیڑھا کر دیتے ہیں چنانچہ وہ الفاظ صراط مستقیم پر چل کر نجات پانے اور مغفور و مرحوم کہلانے کی بجائے، ترچھے ہوکر سیدھے سننے والے کے کلیجے میں اتر جاتے ہیں جس سے اکثر تن بدن میں آ تش زنی کے واقعات رو نما ہوجاتے ہیں ۔ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے کا رواج صرف باتوں کے لیے ہے ۔کوئی شریر قسم کا مچھر مکھی یا پتنگا،دادا گری دکھا کر کان میں داخل ہونے کی کو شش کرے تو دھکے مار کر، اسے اسی کان سے با ہر نکالا جاتا ہے ،یہ سمجھانے کے لیے کہ یہ سونے کی کان نہیں ہے ۔ یوں بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ امنِ عامہ کو خطرہ ہوتا ہے ۔اس کے بر عکس کان میں داخل ہونے والی کوئی چیز، خواہ وہ ہاتھی یاگھوڑا ہی کیوں نہ ہو اگر مفید اور کار آ مد ہوتو آ دمی اپنے ہم نشیں کو اس کی ہوا تک نہیں لگنے دیتا۔
بچپن میں ہمارے مولوی صاحب کے نزدیک ہمارے کان کا واحد مصرف یہ تھا کہ وہ اسے ہماری ہرغلطی پرپوری قوت سے مروڑ دیا کرتے تھے۔اس زمانے میں جب ہم نے پہلی مرتبہ ہاتھی دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ کہ یہ جتنا بڑا جانور ہے اتنی ہی عظیم الشان غلطیاں بھی کرتا ہے ، تبھی تو اس کے استاد نے اس کے کان کھنچ کھینچ کر سپڑا کر دیے ہیں ۔لمبے کان دیکھ کر مجھے عجیب سی خوشی ہوتی ہے اس خیال سے کہ کان بردار اپنے کان کی وسعت کے مطابق غلطیاں کر چکا ہے ۔فرشتوں کے متعلق میری امیج یہی ہے کہ ان کے کان نہیں ہوتے ۔ممکن ہے یہ بات غلط ہو مگر دنیاوی فرشتوں پر صادق آ تی ہے کیوں کہ انڈے دینے والی جملہ مخلوقات کے کان جسم کے اندر ہوتے ہیں اور جو شخص انڈے دیتا ہو ،خاص طور پر سونے کے انڈے (جو اکثر بسکٹ کی شکل میں پائے جاتے ہیں )،تو ایسی شخصیت کو ہمارے ہاںفرشتہ ہی سمجھا جاتا ہے ۔
بعض لوگ کانوں سے اونچا سنتے ہیں ، بعض نیچا، طبقاتی جنگ شاید یہیں سے شروع ہوتی ہے ۔ ایک یرغمال کو ڈاکوﺅں نے دھمکی دی کہ ہم تمہارے کان کاٹ لیں گے تو چیخ پڑا کہ ایسا نہ کرنامیں اندھا ہوجاﺅں گا ۔ ڈاکو نے اسے ڈانٹا :بے وقوف کان کاٹنے سے کوئی اندھا ہوتا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا۔”کان کٹ جائیں گے تو میں عینک کس طرح لگاﺅں گا؟ “ثابت ہوا کہ کان عینک کی کمانی کے لیے جائے سکونت ہیں ۔بعض لوگ عینک استعمال نہ کر نے کے باوجود بھی کانوں سے دیکھتے ہیں ۔ بلکہ انھیں آ نکھوں سے نظر آ جائے تو وہ اس نظارے پر اس وقت تک یقین نہیں کرتے جب تک کوئی ان کے کانوں میں پھونک نہ ماردے ۔نظر بندی اور پھونک مارنے کا کام ان دنوں ہمارا سوشل میڈیا بخوبی انجام دے رہا ہے ۔اسی لیے لوگ موبائیل کو کانوں سے لگائے رکھتے ہیں ۔
کان ایک کثیر المقاصد شے ہے، اسے ہینگر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔عورتیں اس پرجھمکے ، بالیاں اور ان دنوں ایر فون ٹانگتی ہیں ۔مرد کسی زمانے میں ٹرانزسٹر لٹکاتے تھے، اب ان کی جگہ موبائیل نے لے لی ہے ۔کسی زمانے میں کان قلم رکھنے کے کام آ تے تھے ۔مرزا غالب بھی ایسے ہی ایک خامہ بگوش تھے ۔بقول خود ”ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے “
اس امید پر کہ شاید کوئی ان سے خط لکھوائے ۔ہمارے زمانے میں خط اور قلم کا استعمال موقوف ہو گیا ہے ۔لیپ ٹاپ پر تھرکتی ہوئی انگلیوں نے قلم کو دست بردار کر دیا ہے۔ کبھی کبھار اسے دستخط کے لیے زحمت دی جاتی ہے تاکہ کوئی آ پ کو انگوٹھا چھاپ نہ سمجھے ۔ہمارے دوست مرزا صاحب کو اپنی بیوی سے یہ شکایت ہے کہ وہ اپنے کانوں کو شاپنگ بیگ کے طور پر استعمال کرتی ہے ۔ دن بھر میں دو گھڑی فرصت ملے تو پڑوس میں نکل کر ڈھیر ساری باتوں کی شاپنگ کر آتی ہے ۔ ظاہر ہے اس شاپنگ کے اچھے یا برے اثرات مرزا صاحب کی جیب کی بجائے ان کے دماغ پر پڑتے ہیں کیوں کہ اگلے دن اس بیگ کو شاپنگ کے لیے کہیں نہ کہیں تو خالی ہونا ہی ہے ۔ اس طرح کان کی شخصیت کا ایک انوکھا گوشہ بے نقاب ہوتا ہے اور کان عوامی کوڑے دان کی صورت میں ہمارے سامنے آ تا ہے ۔
انواع و اقسام کے کانوں میں گدھے کے طویل کان بھی ہیں ۔خر گوش اسی لیے خر گوش کہلاتا ہے کہ اس کے کان بھی گدھے کی طرح ضرورت سے کچھ زیادہ لانبے ہیں ۔ (خر بمعنی گدھا اور گوش یعنی کان ) حالانکہ کانوں کے علاوہ گدھے پن کی کوئی علامت اس خوبصورت جانور میں موجود نہیں ہے۔گدھے کی مظلومیت کی داستان تو اس کے کانوں سے بہت زیادہ طویل ہے ۔اس کے باوجود مجھے انسانوں کے کانوں پر رحم آ تا ہے ، اس لیے کہ وہ بھی باتوں کی بار برداری کے ناخوشگوار فرائض گدھے کی طرح خاموشی سے انجام دیتے ہیں ۔لوگوں کی وہ تمام الٹی سیدھی باتیں جن میں سر اور پیر کے علاوہ سب کچھ موجود ہوتا ہے ، زبان کے چونچلے ، عینک کی کمانی ، آ لہ¿ سماعت ، غالب کا قلم ،عورتوں کے بالے وغیرہ کی بار برداری کے علاوہ جھگڑتی ہوئی بیویوں اور کڑ کڑاتی ہوئی سردیوں کا نزلہ سب سے پہلے کانوں پر ہی گرتا ہے جو بالاخر لوﺅں تک سرخ ہوجاتے ہیں ۔
کان کو زبان ِ حال کے علاوہ کوئی زبان میسر نہیں ہوتی ۔ اس زبان کے تو مترجم بھی نہیں ملتے کہ ترسیل کا مرحلہ طے ہو سکے ۔بہر حال کان
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زبان اور
کہہ کر چپکا ہوا رہتا ہے ۔ کان اپنے دفاع میں بے دست و پا ہے ،اس لیے کہ یہ انتہائی بے ضرر قسم کا عضو ہے۔ بے ضرر لوگوں پر دنیا ظلم و ستم کی راہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی ۔ گدھے کو زیادہ تنگ کیاجائے تو وہ بھی اپنے پیروکار کو پلٹ کر دیکھنے کی زحمت گوارا کیے بغیر دولتّی جھاڑ کر خبر دار کر دیتا ہے کہ ، اچھے بھلے انسان ہوکر میرے نقشِ قدم پر چلتے ہو!
کاش ! خدا نے گدھے ہی کی طرح ہمارے کانوں کو بھی دو لتیاں عطا کی ہوتیں جنھیں وہ بولنے اور مسلسل بولنے والی مشینوں کے خلاف استعمال کر سکتے ۔
بچپن میں ہمارا یہ معمول تھاکہ استاد کی کوئی بات ہماری سمجھ میں نہ آ تی تو ہم خاموش کھڑے رہا کرتے اوراستاد یہ سوچ کر کہ ہم نے ان کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑادی ہے؛ ہمارا ایک کان زور سے مروڑ کر چھوڑ دیا کرتے تھے،شاید اس خیال سے کہ پیغام بہر حال دوسرے کان تک پہنچ ہی جائے گا۔ اس وقت ہمارا چھوٹا سا د ل یہ سوچ کر اور چھوٹا ہوجاتا کہ غلطی دماغ کی ہے اورسزا مل رہے بے چارے ،بے قصور کان کو ۔ بہت ساوقت گزرجانے کے باوجود اندھیر نگری کا یہ قانون الگ الگ بھیس میں اب بھی بر قرار ہے کہ جو پکڑا جائے اسے سزا دو ،جس کی گردن پھندے کے مطابق نکل آ ئے اسے پھانسی دے دو۔ ہمارا دماغ سر میں چھپا بیٹھا تھا؛بچ گیا، بیچارے کان پکڑ میں آ گئے اور مارے گئے ۔
کسی بھی جاندار کے دونوں کانوں کو دیکھئے اور غور کیجئے تو لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی تھیلیِ سماعت کے چٹے بٹے ہیں ۔ کوئی شخص آپ کی بات نہ سنے یا اپنے دوسرے کان کو سیفٹی والو کی طرح استعمال کرلے تو اس بے بسی کے عالم میںاسے ”بہرا کہیں کا “، کہہ کر خفت مٹائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح صاحبِ کان کے نہ صرف پہلے بلکہ دوسرے کان کو بھی نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن یہ سلوک آ پ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ روا نہیں ر کھ سکتے، کیوں کہ تمنا کا یہ دوسر اقدم ،نقش ِ اول سے کہیں زیادہ التفات کا طالب ہوتا ہے اور دگنی توجہ پا تا بھی ہے ۔ غالب کے نزدیک بھی بہرا پن مزید توجہ کا مستحق ہے ۔
بہرا ہوں تو چاہیے دونا ہو التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک کان سے کام نہیں چل سکتا تھا؟اگر ایسا ہوتا تو ہم کسی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے کے خطا وار تو نہ ہوتے۔خیال آ یا کہ خدا نے یہ کہہ کر تو انسان کے دو کان ہر گز نہیں بنائے کہ ”ایک سے بھلے دو۔ “
کانوں ہی کی طرح دنیا میں بیشتر چیزیں تنہا نہیںہیں، ان کی جوڑیاں موجود ہیں ۔اکیلا تو صرف خدا ہے ۔انسان اس دنیا میں اکیلا آ یا ہے( اگر جڑواں نہ ہو) مگر دنیا سے جانا تو سبھی کو تنہا ہے ۔ اگر دنیا کے سارے انسان مل کر کسی کو اکیلا چھوڑ دیں تب بھی خدا اسے اکیلا نہیں رہنے دیتا خود اس کے ساتھ رہتا ہے ، اس کا سہارا بن کر کیوں کہ تنہا رہنا اسی کی شان ہے اور اسی کو زیبا ہے ۔
دوسری بات یہ کہ انسان اگرمجرد ہواور اپنے اسٹیٹس کو لاکھ سنبھال کر رکھے ، تب بھی وہ ہمیشہ یکساں نہیں رہ پاتا، اپنی نشو و نما اور زمانے کے انقلابات کے ہاتھوں وہ دوسرا بن کر ہی رہتا ہے ۔ ہر پل اس پر تغیر کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں ۔ ماہ وسا ل گزر جائیں تو پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی ہے۔ سنا ہے طویل مدت کے بعد انسانی جنس میںبھی تبدیلیاںرونما ہوجاتی ہیں۔ انسان اور اس دارِ فنا کی ہر شے کا یہی مقدر ہے ۔اس کے بر عکس خد ا کل جیسا تھا ویسا ہی آ ج بھی ہے اور مستقبل میں وقت کی شاہراہ سے گزرتی صدیاںتک اس کی یکتائی اور یکانگی کو چھو بھی نہ پائیں گی ۔
دنیا میں اکیلے آ نے اور جانے پر ایک واقعہ یاد آ گیا۔ میںشادی کے ابتدائی دنوں میں اپنی بیگم کو لانے کے لیے سسرال پہنچا تو پتہ چلا کہ سعودی عرب سے ہمارے برادرِ نسبتی وہاں پہنچنے والے ہیں۔ اگر بیگم بھی ہمار ے ساتھ چلی جائیں تو ان سے ملاقات نہ ہوپائے گی اس لیے کہا گیا کہ ابھی آ پ تنہا چلے جائیے ہم خود انھیں آ پ کے گھرچھوڑ جائیں گے،ممکن ہے وہ اپنے بھائی جان کے ساتھ ہی وہاں آجائے ۔ میں دل پر پتھر رکھ کر بس اسٹانڈ پہنچا تو جوں ہی رکشہ سے اتر اوہاں پان والے کی دکان پر رکھے ایک ریڈیو سے یہ قوالی نشر ہورہی تھی ۔’ اے اکیلے آ نے والے تو اکیلا جائے گا۔‘
وہ قوالی اس سے پہلے کئی مرتبہ سنی تھی مگر اس وقت جو مزہ آ یا؛ اس میں کانوں کا کمال نہ تھا ،معنی اور لطف کی فراہمی میں سمجھ کی کار فرمائی تھی جس کا ٹھکانہ دماغ ہے۔گویا انسان ایک خاندان کی طرح ہے اور دونوں کان اس کے Earning Hands ہیںجو اس کنبے کو آ وازو ں کی روزی مہیا کرتے ہیں۔
بہر حال کان کے واحد نہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں ۔ کوئی بات آ پ کے اندر اتر کر اگردھوم مچانے کی کو شش کرے تو اسے دوسرے کان کے دروازے سے چلتا کیا جا سکتا ہے ۔ دوسرا ایک اہم سبب جو ضابطہ اخلاق کے تحت بیان کیا جاتا ہے کہ کارخانہ ¿ قدرت سے ہمیں زبان ایک ملی ہے اور کا ن دو ہیں، تاکہ ہم جتنا سنیں اس سے آ دھا بولیں۔مگر اکثر لوگ اس آ سان حساب میں بھی کمزور ثابت ہوتے ہیں ۔
تیسرا سبق غیر جانب داری کا ہے ۔اگرکان ایک ہی ہوتا تو ہم اپنے پسندیدہ فریق کی بات سن کر فوراً فیصلہ سنادیتے اور دوسرے فریق کو یہ کہہ کر ٹرخا دیتے کہ ہمارے پاس تو ایک ہی کان ہے تمہاری بات کہاں سے سنیں؟ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ دنیامیں شور اتنا ہے کہ اسے سننے کے لئے ایک کان ناکافی ہوتا ،تاہم جب ہم دیکھتے ہیں کہ اب بھی مظلوموں کی فریاد نہیں سنی جاتی ،تو جی چاہتا ہے کاش خدا نے ہمیں نہ سہی حکومت ِ وقت کو کئی کان عطا کئے ہوتے ۔ مصیبت یہ ہے کہ، اس بتِ طناز کے سرتو بے شمار ہیں مگر ان میں کان ہی نہیں۔کیوں سنے عرضِ مضطرب کوئی ۔ اس میںکیا شک ہے کہ انسان کا دوسرا کان بڑا مفید و کار آ مد ہے ،سنی کو ان سنی کرنے اور ان دیکھی کو دیکھنے کے لئے کہ اسی کان کے کاندھے پر عینک کی کمانی رکھی جاتی ہے ۔دوسرا کان نہ ہوتا تو عینک کی دوسری کمانی کس کا سہارا تلاش کرتی ۔گویا جنھیں سامنے کی چیز نظرنہیں آ تی ، کان انھیں مدد کر رہا ہے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کریں ، صاف دکھائی نہیں دیتا توعینک استعمال کریں ۔ کسی کی بے تکی باتیں غم و غصہ میں مبتلا کردیں اور اچھے خاصا انسان پریشر کوکر میں ڈھل جائے تو دوسرا کان ایک سیفٹی والو بن کر انسان کو راحت عطا کرتا ہے ۔ ہمارے پہلے کان کا فاصلہ دوسرے کان سے اتنا ہی ہے جتنا دوسرے سے پہلے کا ۔یہ طے کرنا دشوار ہے کہ پہلا کون ہے ؟اس دنیا میں پہل کر نے والا پہلا ہو جاتا ہے اور اپنے مدّ ِ مقابل کو دوسرے نمبر پر ڈھکیل دےتا ہے ۔خدا کا شکر ہے کہ ہمارے دونوں کان اس قسم کے کسی غیر صحتمند مقابلے میں شریک نہیں ہیں بلکہ دوجڑواں بھائیوں کی رہتے ہیں ۔ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ آ واز کی لہریں دونوں کانوں کے ساحلوں سے ہمہ وقت ٹکراتی رہتی ہیں ۔دونوں انھیں بڑے پیار سے اپنے دامن میں سمیٹ کر ہمارے جسم کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ ہمار ا جسم ایک دفتر کی طرح ہے جہاںیہ طے ہوتا ہے کہ کس آ واز کو کس فائیل میں رکھناہے اور اس پر عمل در آ مد کس طرح ہوگا۔ ہماری ناک کی ہئیت ایسی ہے جیسے کسی جانور کا بِل۔خوشبو یا بدبو، نتھنوں میںچپکے سے اندر داخل ہوکر رو پوش ہو جاتی ہے ۔انسانی آ نکھ کسی رئیس کے گھر کا دروازہ ہے ۔پلکوں کے کواڑبصد نا ز کھلیں گے تو دنیا جہاں کے مناظر کو شرفِ باریابی حاصل ہوگا،صاحب ِ مکان سو جائے تو باہر کھڑے سوکھتے رہئیے ،داخلے کی اجازت نہیںدہنِ انسانی کسی قلعے سے کم نہیں جس میں داخلے کے لیے بتیسی کے عظیم الشان دروازے کو کھلوانا پڑتا ہے ، اس کے برعکس ،دنیا بھر کی بھلی بری آ وازوںکے لیے کان ہمیشہ ’حاضر باش‘ ہیں ۔ انسانی کان کی ہئیت پر ذرا غور کیجئے! ایسا لگتا ہے گویا ہر قسم کی آ وازوں کو اپنے اندر سمیٹنے کے لیے،غریب کا دامن پھیلا ہوا ہے ۔ سچ ہے، کان بڑا وسیع القلب ہے ۔سماج میں اس قسم کے سہل الحصول اور مخلص لوگوں کے ساتھ جو سلوک عام طور روا رکھ جاتا ہے ،کان اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔ہم پچھلے مضمون میں لکھ آ ئے ہیں کہ کان انسانی جسم کا مظلوم ترین عضو ہے ۔ ہمارے سماج میںکانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ایک مثال ملاحظہ فر مائےے۔ کسی کوثقلِ سماعت ہو تو اس کے دونوں کان یکساں طور پر ”بہرے پن “کے مجرم قرار دئے جاتے ہیں ،آ دمی دو دو کان رکھنے کے باوجود نہ سنے تو بہرہ کہلاتا ہے۔ ( جس کے دونوں کان سلامت ہوں، اسے تو ”بے بہرہ“ کہنا چاہئے،مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ کان والوں کو اس ترکیب سے( بلکہ کس ترکیب سے )سے محروم کیاگیا اور ہر قسم کے محرومین کو” بے بہرہ “ کے خطاب سے سر فراز کر دیا گیاہے)۔ کوئی دونوں آ نکھوں سے معذور ہو تو اسے اندھا کہتے ہیں۔ایک آ نکھ ڈیوٹی پر ہو اور دوسری چھٹّی پر تو اسے ”کانا “ کہاجاتا ہے حالانکہ یہ الفاظ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو” صاحبِ کان“ کے لیے استعمال کیا جانا چاہئے ، اس کا حق مار کر آپ نے لفظ ” کانا “ کو اس آ دمی پر چپکا دیا جس کی ایک آ نکھ نہیں ہے ۔ اس سے ثابت ہو اکہ ایک آ نکھ کی غیر حاضری محسوس کی جاتی ہے اور اس کابھلا سانام بھی ہے لیکن ایک کان کی خدمات معطل ہوجائیں تو کوئی اس کا نوٹس نہیں لیتا جیسے کسی دفتر میں دوسرا چپراسی چھٹی پر ہوتو اس کا بدل مہیا کرنے کے بجائے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ پہلا چپراسی دوسرے کا کام بھی سنبھال لے گا۔محاورو ں کی دنیا میں ایک آ نکھ والے یعنی کانے کو اندھوں میں راجہ بنایا جا سکتا ہے مگر ایک کان سے بہرے شخص کی خدمت میں اس قسم کا کوئی شاہی عہدہ پیش نہیں کیا جاتا ،کیا اندھیر ہے ؟ یہ اور بات ہے کہ ہمارے اداروں میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو اپنے مطلب کی بات تو سنتے ہیں ،عوام کی فریاد ان تک پہنچے تو ان کے پاس دونوں میں سے صرف ایک ہی کان رہ جاتا ہے جو نہیں سننے کے کام آ تا ہے یا فریاد اور شکایت کو چلتا کر دیتا ہے ۔در اصل دوسرا کان دنیا میں موجود ان لاکھوں لوگوں کا نمائندہ ہے جو بے حسی اور بے ضمیری کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ پہلا کان سارے گلے شکوے اور مسائل کو بغور سنتا ہے اندر اندر ہی کڑھتا ہے مگر دوسرا کان ان سب کو نظر انداز کر کے اپنے اوپر پڑی دھول جھٹک کر الگ ہوجاتا ہے اسے کسی سے کوئی سروکار نہیں ( اصل کانا یہی کان ہے )۔ کان غیر جانب داری کی بہترین مثال ہے وہ اچھی بری ہر طرح کی باتوں کو خوش آ مدید کہتا ہے ۔اپنے فرضِ منصبی کو نبھانے کے علاوہ اسے کسی چیز میں دلچسپی نہیں ۔ گاندھی جی نے اپنے تین بندروں کی مدد سے کان کی بھی اصلاح کی کو شش کی تھی اور لوگوں کو سمجھایا تھا کہ خد ا لگتی سنو ،خدا کے لئے کوئی بری بات نہ سنو! مگر شاید گاندھی جی کا یہ طریقہ کاریا اس کام کے لیے افراد کا تعین صحیح نہیں تھا۔ ہم نے لوگوں کو یہاں تک کہتے سنا کہ ،”ایسا ہی تھا تو ہم بندر ہی بھلے تھے ،ہم انسان اسی لیے تو بنے ہیں تاکہ ہر قسم کی خرافات سے لطف اندوز ہو سکیں ۔“ یہی سبب ہے کہ اب لوگ باگ الزام ،بہتان ،چغلیاں ، افواہیں ،گپیں ،لطائف اور اشعارچٹخارے لے لے کرسنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں ۔اک صاحب کہنے لگے ہمارے کان سنّے کے کان ہیں ،شاید وہ کہنا چاہتے تھے کہ ہمارا کان در اصل سونے کی کان ہے ۔ اس میں کیا شک ہے کہ کان آ وازوں کا خزانہ ہے ۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button