کجریوال کی قیامگاہ پر دہلی پولیس کا بندوبست ناکافی تھا

دہلی ہائیکورٹ نے چیف منسٹر دہلی اروندکجریوال کی قیامگاہ پر گزشتہ ماہ حملے اورتوڑپھوڑ پرتشویش ظاہرکی اوردہلی کے پولیس کمشنر کوہدایت دی کہ وہ اس معاملہ کاجائزہ لیں اوراس سنگین کوتاہی کی ذمہ داری کا تعین کریں۔

نئی دہلی: دہلی ہائیکورٹ نے چیف منسٹر دہلی اروندکجریوال کی قیامگاہ پر گزشتہ ماہ حملے اورتوڑپھوڑ پرتشویش ظاہرکی اوردہلی کے پولیس کمشنر کوہدایت دی کہ وہ اس معاملہ کاجائزہ لیں اوراس سنگین کوتاہی کی ذمہ داری کا تعین کریں۔

دہلی ہائیکورٹ نے آج درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی سیکیوریٹی پر سوالات اٹھائے اور سیکیوریٹی انتظامات پر سخت تشویش کا اظہارکیا۔

دہلی ہائیکورٹ نے معاملہ سماعت کرتے ہوئے کہاکہ یہ واقعہ انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ قومی دارالحکومت میں دستوری عہدہ رکھنے والے شخص کی رہائش گاہ پرحملہ کیاگیاہے۔

اروند کجریوال کی جگہ پر کوئی وزیر،جج یاکوئی بھی ہوسکتاتھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کوبتایاکہ مظاہرین کی جانب سے تین رکاوٹیں توڑی جانے کے بعد آپ کواپنے کام اورانتظامات پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔

یہ انتہائی واضح ہے کہ اس واقعہ کوروکنے میں پولیس فورس ناکام رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس کمشنر پولیس کی اس کوتاہی کوجائزہ لے۔ عدالت نے اس بات کانوٹ لیاکہ موقف رپورٹ کے مطابق بعض افراد نے رکاوٹیں توڑدیں اورقیامگاہ کی گیٹ تک پہنچ گئے۔

ہماری نظرمیں یہ بڑی سنگین کوتاہی اوردہلی کے پولیس کمشنر کو اس کاجائزہ لینا چاہئے۔ انہیں سب سے پہلے یہ معلوم کرناچاہئیے کہ آیابندوبست کافی تھا۔ دوسرے ناکامی کیاوجوہات رہی ہیں اورتیسرے اس کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے۔

عدالت نے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی (گریٹرکیلاش) سوربھ بھردواج کی درخواست کی سماعت کی۔ جس میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا۔

دہلی ہائیکورٹ کی ڈیویژن بنچ کے کارگزارچیف جسٹس وپن سانگھی اورجسٹس نوین چاؤلہ کو مطلع کیاگیاکہ پولیس نے اس کیس میں ازخود ایف آئی آردرج کی ہے اورکئی افراد کوگرفتارکیاہے۔

درخواست میں کہاگیاکہ30۔ مارچ2022کوبی جے پی کے کئی غنڈوں نے احتجاج کے بہانے چیف منسٹر دہلی کی سرکاری قیامگاہ پر حملہ کردیا۔ ویڈیوز اورتصاویرسے ظاہرہوتاہے کہ یہ غنڈے بہ آسانی سیکیوریٹی گھیرے سے گزرگئے۔

انہوں نے رکاوٹوں کولاتیں مارکرتوڑدیا، سی سی ٹی وی کیمرے لاٹھیوں سے توڑ دیئے۔ قیامگاہ کی گیٹ پر پینٹ پھینکا اورگیٹ کے اوپر چڑھ گئے جبکہ دہلی پولیس کا عملہ تماشہ دیکھتارہا۔

اس نے احتجاجیوں کوروکنے کوئی کاروائی نہیں کی۔ ہائیکورٹ نے اس معاملہ کی مزید سماعت17۔مئی 2022تک ملتوی کردی ہے اورپولیس کوہدایت دی ہے کہ ایک موقف رپورٹ داخل کرے جس میں ناکامی کی وجوہات بتائی جائیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button