کرسی

احمد جمال پاشاہ

کرسی پہلے وجود میں آئی یا آدمی، یہ کوئی کرسی ہی بتا سکتی ہے۔ مگر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ہر تقدیر کے ساتھ ایک کرسی یا اس کی حسرت جڑی ہوتی ہے۔

اس عالم آب وگل میں سب سے پہلے جس کرسی کا حضرت انسان کو شرف حاصل ہوتا ہے، وہ زچہ خانے کا اسٹریچر ہوتا ہے، جو کرسی کم اور چارپائی زیادہ ہوتی ہے۔ اس پر بیٹھنے کی سعادت یوں ممکن نہیں کہ نومولود میں بیٹھنے کا دم نہیں ہوتا۔ اس کے بعد زندگی بھر اس کا سابقہ چارپائی سے رہتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ چارپائی زندگی بھر اس کا تعاقب کرتی رہتی ہے۔ آخر اسی چارپائی پر اسے عالم فانی سے عالم جاودانی کے سفر پر روانہ کردیا جاتا ہے۔ چارپائی سے کرسی کا کام زندگی میں انہی دو مواقع پر حضرت انسان کے لیے دوسرے لیتے ہیں۔ خوش آمدید اور الوداع۔ باقی کام زندگی بھر وہ خود چارپائی سے لیتا رہتا ہے۔

دراصل سب سے پہلی کرسی جس پر بیٹھنے کا آدمی کو موقع ملتا ہے، وہ ’بابا چیئر‘ کہلاتی ہے، جو حصول کرسی کی ابتدائی مشق ہے۔ اس کے بعد اسے جس کرسی پر بٹھایا جاتا ہے، وہ کموڈ ہوتا ہے ۔ انکساری کا یہ پہلا قدم ہے۔ تمنا کے دوسرے قدم کے ساتھ زندگی بھر انسان ایک کرسی سے دوسری کرسی تک پہنچنے کے لیے بھاگتا رہتاہے۔

کرسی اورانسان میں اس لیے چولی دامن کا ساتھ ہے کہ کرسی میں چار پائے ہوتے ہیں۔ انسان بھی چوپایہ ہے۔ اس مماثلت کی وجہ سے انسان کی بہت سی فضیلتیں کرسی میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً آدمی تنگ دل سے سنگ دل تک ہو جاتا ہے، جبکہ کرسی کے، سرے سے دل ہی نہیں ہوتا۔ انسان میں وفا کا بھی مادّہ ہے، لیکن کرسی اس کوچے سے آشنا تک نہیں۔

کرسیاں بھانت بھانت کی ہوتی ہیں۔ جن میں سب سے متاثر کن کرسی حجام کی ہوتی ہے۔ یہ بالکل لائبریرین کی کرسی کی طرح بلند و بالا ہوتی ہے جس تک پہنچنے کے لیے انتظار یہ کرسی پر بیٹھنا ہوتا ہے۔ حجام کی کرسی بڑی شان دار ہوتی ہے، بالکل کسی راجہ مہاراجہ کی کرسی کی پیروڈی معلوم ہوتی ہے، جس پر شان سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہی حجام کی ڈبل قینچی چلنے لگتی ہے۔ ایک اس کے ہاتھ کی، دوسری زبان کی۔ اس کرسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ حجامت کے ساتھ ساتھ آٹے دال کا بھاؤ بھی معلوم ہوتا رہتا ہے۔ زمانے نے آپ کے ساتھ جو بھی سلوک کیا ہو، یا اس وقت پر جو بھی گزر رہی ہو۔ اس پر آپ حجام کے آئینے میں مسکرا بھی سکتے ہیں۔

حجامت کے بعد رہی سہی کسر ڈاکٹر کے یہاں نکل جاتی ہے۔ سب سے اہم کرسی وہ ہوتی ہے جو ڈاکٹر کے سامنے رکھی ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ مریضوں اور تیمار داروں کو درمیانی کرسیوں کی مدد سے کھسک کھسک کر طے کرنا ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اگر ڈاکٹرکی کرسی کسی کو زندہ اٹھادے تو اسے وکیل کی کرسی کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ داؤں پیچ کی کرسی ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اسی لیے اونٹ کی طرح اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ کسی بھی کچہری میں کسی درخت یا ٹین کے سائے میں یہ زمانے کا چھپر اٹھائے رہتی ہے۔ ایسی کرسی پر شاید یتیم خانے ہی میں نظرآئے۔ جس پر تعجب اس لیے نہ کرنا چاہیے کہ یتیم خانے اور یتیم، زیادہ تر وکیل ہی بناتے ہیں۔ اس کرسی پر زمانے کے ان جنّات کا ستایا ہوا موکل بھی بیٹھ سکتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ وکیل سے ہارے کو پھانسی کی کرسی پر ہی پناہ ملتی ہے۔

پھانسی کی کرسی آٹومیٹک ہوتی ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں اپنے نشیں کو پار لگا دیتی ہے۔ یہ اتنی شان دار ہوتی ہے کہ پھر گورکن کو کسی کرسی کے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کرسی تو وہ اس پر بھی استعمال کرتا مگر ابھی ہمارے یہاں گورکن کی کرسی ایجاد نہیں ہوئی۔ یورپی گورکن مردے کو ٹھکانے لگانے تک میں کرسی کا استعمال کرلیتے ہیں، لیکن کرسی برآمد نہیں کرتے۔ غیر ملکی مبادلۂ زر کی اگر کمی نہ ہوتی تو یہاں بھی بذریعہ کرسی تدفین کی صورت پیدا ہوچکی ہوتی۔

دنیامیں شورگورکن کا نہیں افسر کی کرسی کا ہے۔ افسری والی کرسی تک آدمی گھسٹ گھِسٹ کر پہنچتاہے لیکن اگر آدمی خاندانی ہے تو اس پر کود کر یا چھین کر بھی بیٹھ سکتا ہے۔ ایگزیکٹو چیئر افسر کے عہدے اور سائزکے مطابق ہوتی ہے۔ ہوم سکریٹری اور تھانیدار کی کرسی میں وہی فرق ہوتا ہے جو شیر اور بلی میں ہے۔ چوہوں کے لیے بلی بھی شیر ہے مگر شیرتو شیر کے لیے بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ بڑے افسر وں کی کرسیوں کا بھی کوئی نہیں، پھر بھی ان تک پہنچ جانے کا قیامت کی طرح یقین ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بہت بڑے افسر کے مرنے کی خبر سن کر ایک بہت چھوٹا افسر مارے خوشی کے ناچنے لگا اور بولا،

’’خدا کا شکر ہے کہ سینیارٹی میں اب میرا نمبر پندرہ ہزار سات سو چالیس سے ایک دم گھٹ کر پندرہ ہزار سات سو انتالیس رہ گیا!‘‘

انتہائی غیر محفوظ کرسیاں وزیروںکی ہوتی ہیں۔ بالکل دندان ساز اور کھٹمل والی کرسی کی طرح۔ دندان سازکی کرسی پر بیٹھنے کا مطلب ہی بتیسی سے ہاتھ دھو لینا ہوتا ہے۔ یہ کارروائی قسطوں میں بھی ممکن ہے۔ اس کرسی پر انسان تھر تھر کانپتا ہوا بیٹھتا ہے۔ اوربے ہوش ہونے کے بعد اٹھا لیا جاتا ہے، کبھی کرسی سے کبھی دنیاسے۔ ہم نے پھانسی کی کرسی تک پہ اکثر مسکراتے دیکھا ہے مگر اس کا تو تجربہ ہے کہ بیٹھنے والے سے روتے بھی نہیں نبتی، نہ کسی کل چین پڑتاہے۔

اصلی بے چینی اس کرسی پہ بیٹھنے والے کو ہوتی ہے، جس میں کھٹمل ہوتے ہیں، جس طرح جوئیں ہونے کی وجہ سے آدمی کھجاتا ہی رہتا ہے، اسی طرح کھٹملوں کی وجہ سے آدمی بیٹھتا کم، کھجاتا زیادہ ہے، کھجانے سے زیادہ اچھل کود کرتا ہے۔ اگر آپ کو کرسی کی خوبی کا علم نہ ہوتو اس پر بیٹھنے والے پہ آپ کو سرکس کے جوکر کا شبہ ہوجائے۔ سرکس میں ایسے ہی لوگ بآسانی کھپتے ہیں، کیونکہ بیٹھنانہ ان کی قسمت میں ہوتا ہے نہ ان کی۔

یہی حال بے چارے وزیروں کا رہتا ہے۔ یہ کرسی پر بیٹھتے ہی اس کو بچانے کے لیے برابر دوڑتے رہتے ہیں، جسے وزارتی اصطلاح میں دورہ کرنا کہتے ہیں۔ وزیرکو اس پر بیٹھنے کا شرف بہت ہی کم حاصل ہوتا ہے، یہاں تک کہ کوئی اور وزیر ہو جاتا ہے، اس پر بھی وزارتی دورے پڑنے لگتے ہیں۔ وزارتی کرسیوں کا بندوبست ووٹ یا بندوق سے ہوتا ہے، یا پھر دل بدلی سے۔

کچھ کرسیاں جیتے جی نہیں چھوڑی جا سکتیں ۔ جیسے کسی بھی سربراہِ مملکت کی کرسی۔ ایسا کرسی نشین اگر دوران حکومت دنیا سے گزر جائے تو تجربہ ہے کہ لوگ اسے مرنے والے کی عین خوش قسمتی سمجھتے ہیں کہ نہ اقتدار سے محروم ہونا پڑا نہ جلا وطنی کا منھ دیکھنا پڑا۔ نہ قید وبند کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں۔ اس کرسی سے ایسا چمٹا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی آسانی سے نہیں چھڑایا جا سکتا کیونکہ کرسی چھوڑتا کوئی نہیں، چھڑا کر الگ کر دیا جائے تو بات دیگر ہے۔ اس کرسی کو آپ کرسیوں کا صحیح معنوں میں بادشاہ کہہ سکتے ہیں۔ انتہائی شان دار، سونے چاندی کی جڑا ؤ پینچ دار، تاکہ قد، وزن اور پھیلاؤ کے حساب سے سما سکے۔ مگر توبہ کیجئے، جو پورے ملک میں نہ سما سکے وہ ایک کرسی میں بھلا کیا آسکتا ہے۔ یہ کرسی دراصل بوڑھے لوگوں کے لیے ہوتی ہے جو اس تک پہنچنے کے پھیر میں بوڑھے ضرور ہوچلے ہوتے ہیں۔ مگر طاقت کا نشہ انہیں نوجوانوں سے زیادہ سرگرم رکھتا ہے۔

کرسی چاہے ہیڈ آف دی اسٹیٹ کی ہو یا ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کی، ساری بھیڑ بھاڑ اور رونق کرسی کے گرد رہتی ہے، نہ کہ اس پر بیٹھنے والے کے اردگرد۔ کرسی وہی رہتی ہے، بھیڑ وہی ہوتی ہے، بس بیٹھنے والے بدلتے رہتے ہیں۔ ہر ہیڈ کی کرسی پر بیٹھنے والے کو خواب میں بھی اسکا تصور نہیں ہوتا کہ ایک دن یہ کرسی اسے بھی ریٹائر کردے گی اور یہ حال کردے گی کہ،

کرسی نہیں تو کوڑی کا تین تین ہے

چنانچہ محروم کرسی کے گرد ایسا سناٹا چھا جاتا ہے کہ وہ زندہ بدست مردہ، قبر کی کرسی کی آرزو کرنے لگتاہے جس کا پورا کرنا نہ کرنا، عرش کی کرسی کے اختیار میں ہے۔ سائنس، سیاست اور حکمت کی بے پناہ ترقی تک، اس اختیار میں اب تک کوئی تبدیلی نہ پیدا کرسکی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button