کرناٹک اسمبلی میں متنازعہ انسداد تبدیلی مذہب بل منظور

چیف منسٹر بسواراج بومئی نے اسے ”دستوری اور قانونی“ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد تبدیلی مذہب کی لعنت سے چھٹکارا پانا ہے۔

بیلگاوی(کرناٹک): کرناٹک اسمبلی میں آج شوروغل کے درمیان ایک متنازعہ ”انسداد تبدیلی مذہب“ بل منظور کیا گیا۔ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے اسے ”دستوری اور قانونی“ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد تبدیلی مذہب کی لعنت سے چھٹکارا پانا ہے۔

کانگریس نے ”کرناٹک تحفظِ حق تبدیلیِ آزادیِ مذہب بل 2021“ کی بھرپور مخالفت کی اور اسے عوام دشمن، غیرانسانی، غیردستوری، غریب دشمن اور ظالمانہ قرار دیا۔ پارٹی نے اپیل کی کہ اسے کسی بھی صورت میں منظور نہیں کیا جانا چاہئے اور حکومت کو اسے واپس لینا چاہئے۔

جنتادل (ایس) نے بھی اس بل کی پُرزور مخالفت کی جو منگل کے روز اسمبلی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ بل مذہب کی تبدیلی کے حق کا تحفظ فراہم کرتا ہے اور بیجانمائندگی، زبردستی، بیجا اثرورسوخ، جبر، لالچ یا دھوکہ دہی کے ذریعہ مذہب کی غیر قانونی تبدیلی پر امتناع عائد کرتا ہے۔

نابالغوں، خواتین، ایس سی/ایس ٹی کے معاملہ میں بل کی دفعات کی خلاف ورزی پر تین تا پانچ سال کی سزائے قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ کی تجویز رکھی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو تین تا دس سال کی جیل کی سزا اور کم ازکم 50 ہزار روپے جرمانہ کا سامنا کرنا ہوگا۔

یو این آئی کے بموجب کانگریس کے احتجاج کے درمیان جمعرات کو کرناٹک اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف بل کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن لیڈر سدارامیا کے دور میں تیار کردہ تبدیلی مذہب بل 2016 کے مسودے میں ترمیم کی گئی ہے۔

اس کے بعد حکمراں اور اپوزیشن اراکین ایک دوسرے پر الزامات لگاتے نظر آئے۔وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کانگریس سے پوچھا کہ اس وقت کے چیف منسٹر سدارامیا کے دور میں لاء کمیشن نے بل بنانے کے لیے کارروائی کیوں کی اور اس وقت اسے کیوں نہیں روکا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر قانون نے بل کے مسودے کو منظوری دی تھی اور اسے کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جس سے سدارامیا نے بھی اتفاق کیا تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button