کرناٹک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے

دستخط کنندگان نے کہا کہ اب ریاست کئی محاذوں پر اپنی شناخت سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ مالیاتی، انتظامی اور سیاسی محاذوں پر کرناٹک اپنی وفاقی طاقت سے محروم ہوتا جارہا ہے۔

نئی دہلی: ادیبوں، ماہرین تعلیم، سائنس دانوں، ماہرین ماحولیات اور فنکاروں پر مشتمل 34 افراد کے ایک گروپ نے کرناٹک کے چیف منسٹر بسواراج بومئی اور ارکان اسمبلی کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے ریاست میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بار بار فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اور حکمرانی کی ابترصورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے۔

اس مکتوب پر دستخط کرنے والوں میں مورخین رام چندرگوہا اور پروفیسر جانکی نائیر، ماہرین ماحولیات ناگیش ہیگڈے، المتراپٹیل، سماجی علوم کے ماہر اے آر واساوی اور پروفیسر ستیش دیش پانڈے، سائنس داں پروفیسر شرد چنگل لیلے، پروفیسر ونودگور، پروفیسر ودیانند ننجندیا، مصنفین وویک شانباغ، پرشوتم بلیمالے اور کے پی سریش کے علاوہ سماجی جہدکار بیزواداولسن اور دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے، ناموس کی خاطر قتل، اخلاقی پولیسنگ، نفرت بھڑکانے والی تقاریر، دھمکیاں اور ارکان اسمبلی کی جانب سے اذیتناک بیانات، مذہبی گروپس کے درمیان دشمنی اور نااتفاقی کے واقعات، کئی اضلاع میں پیش آرہے ہیں۔ وحشیانہ قتل بھی ہوئے ہیں۔

ارکان اسمبلی کی جانب سے غیر دستوری بیانات دیئے جارہے ہیں اورریاستی مشنری ایسے سماج دشمن گروپس کو لگام لگانے سے قاصر ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے کہ ایسے واقعات کی وجہ سے ایک ترقی پسند ریاست کی حیثیت سے کرناٹک کی طویل تاریخ داغدار ہوگئی ہے۔

دستخط کنندگان نے کہا کہ اب ریاست کئی محاذوں پر اپنی شناخت سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ مالیاتی، انتظامی اور سیاسی محاذوں پر کرناٹک اپنی وفاقی طاقت سے محروم ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ گائے کے تحفظ اور مخالف تبدیلی مذہب جیسے حالیہ قوانین اقلیت دشمن ہیں اور ان کی وجہ سے مذہبی اقلیتوں کے معاشی اور تہذیبی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

ہم آہنگی، امن اور رواداری اب ریاست کی خصوصیات نہیں رہی ہیں۔ یہ انتباہ دیتے ہوئے کہ اگر ان مسائل کی یکسوئی نہ کی گئی تو سرمایہ کاری اور صنعتوں کے مرکز کی حیثیت سے کرناٹک کی شناخت بھی متاثر ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں اسی وقت پھل پھول سکتی ہیں جب سماجی ہم آہنگی اور خوشگوار ماحول ہو۔

دانشوروں نے چیف منسٹر اور ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں ان منفی واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور قانون کی حکمرانی، دستوری اصولوں پر عمل آوری، شہریوں کے حقوق اور انسانیت کے بنیادی احساس کو دوبارہ قائم کرنے کو یقینی بنائیں۔ ان چیلنجس سے نمٹنے کیلئے آپ کی صلاحیتیں ہی پیمانہ ہوں گی جو مستقبل میں آپ کو ثا بت کریں گی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button