کرناٹک میں مسجد کے سامنے لاؤڈاسپیکرس کا استعمال اور جلوسیوں کا رقص

ایک وائرل ویڈیو میں دائیں بازو کے کارکنوں کو ضلع کولار کی ایک مسجد کے روبرو لاؤڈاسپیکر استعمال کرتے ہوئے اور رقص کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

بنگلورو: کرناٹک کے ضلع کولار کے ملباگل میں جمعہ کی رات شوبھا یاترا جلوس پر اشرار کی سنگباری کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی۔

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت ملباگل میں امتناعی احکام نافذ کردیئے گئے اور 5 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

رام نومی کے موقع پر نکالی گئی شوبھا یاترا دوپہر میں شیوکیشونگر سے شروع ہوئی تھی اور تقریبا 7 بج کر 40 منٹ پر جہانگیر محلہ کی طرف بڑھنے لگی۔

پولیس نے بتایا کہ برقی سربراہی منقطع ہوگئی جس کے بعد اشرار نے جلوس اور رام کی مورتی پر سنگباری کی۔ افراتفری میں دو گاڑیوں کے شیشوں کو نقصان پہنچا اور ایک موٹرسائیکل کو آگ لگادی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ پولیس کے مطابق اس واقعہ میں چند نوجوان معمولی طور پر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ کولار کے ایس پی، ڈی دیوراج نے بتایا کہ جمعہ کو نکالے گئے جلوس کیلئے پولیس کی بھاری جمعیت متعین کی گئی تھی۔

برقی سربراہی میں خلل کی وجہ سے چند اشرار نے صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ ہم اس معاملہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک وائرل ویڈیو میں دائیں بازو کے کارکنوں کو ضلع کولار کی ایک مسجد کے روبرو لاؤڈاسپیکر استعمال کرتے ہوئے اور رقص کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اس ریالی میں بنگلورو ساؤتھ کے ایم پی تیجوسی سوریا نے بھی حصہ لیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button